یہ الفاظ ان بے رحم ملزمان کے تھے جنہوں نے اپنی ہی بیٹی کو موت کے حوالے کر دیا۔
وہ چار گھنٹے تک تڑپتی رہی
چیختی رہی
“مجھے بچاؤ… مجھے اسپتال لے چلو
لیکن خوف اس قدر تھا کہ کوئی بھی اس کے قریب جانے کی ہمت نہ کر سکا۔
یہ افسوسناک واقعہ گاجی کھاوڑ کے قریب گاؤں گڑھی ماکوڑو میں پیش آیا، جہاں 17 سالہ نائلہ بھٹی کو مبینہ طور پر اس کے والد دیدار علی بھٹی اور بھائیوں نے کاروکاری کے الزام میں گولیاں مار کر قتل کر دیا۔
دیہاتیوں کے مطابق نائلہ خون میں لت پت پڑی رہی،
مدد کے لیے پکارتی رہی،
لیکن جو بھی اسے اسپتال لے جانے کی کوشش کرتا،
ملزمان اس پر اسلحہ تان کر فائرنگ کر دیتے تھے۔
واقعے کی اطلاع وارہ تھانے کو بھی دی گئی،
لیکن افسوس… پولیس بروقت نہ پہنچ سکی۔
چار گھنٹے تک نائلہ زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا رہی،
اور آخرکار گھر کے صحن میں ہی دم توڑ گئی۔
دیہاتیوں کا کہنا ہے کہ نائلہ کی موت کے بعد ملزمان آسانی سے فرار ہو گئے،
جس کے بعد لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے اسپتال منتقل کر دیا گیا۔