خامنہ ای کی آخری رسومات، ایران میں طاقت کے نئے مراکز نمایاں ہونے لگے

فہرستِ مضامین

ایران میں سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات کی تیاریاں زور و شور سے جاری ہیں، جبکہ اسی دوران پاسدارانِ انقلاب کے سینئر اور بااثر کمانڈر جنرل احمد وحیدی کئی ہفتوں بعد پہلی بار عوامی سطح پر نظر آئے ہیں۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ایرانی سرکاری میڈیا کی جاری کردہ تصاویر میں جنرل احمد وحیدی کو جنازے کی تیاریوں سے متعلق ایک اہم اجلاس میں شریک دیکھا گیا، جبکہ ایک اور تصویر میں وہ آیت اللہ علی خامنہ ای کے تابوت کے قریب موجود ہیں۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جنرل احمد وحیدی ایران کی موجودہ پالیسی سازی میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں، خاص طور پر امریکہ کے ساتھ جنگ کے ممکنہ اختتام اور مستقبل کے مذاکرات سے متعلق معاملات میں ان کا اثر و رسوخ نمایاں سمجھا جاتا ہے۔

ذرائع کے مطابق وہ ان محدود شخصیات میں شامل ہیں جن کا ایران کے نئے سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای سے براہِ راست رابطہ ہے۔ آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای اسرائیلی حملے میں زخمی ہونے کے بعد سے عوامی منظرنامے سے غائب ہیں۔ اسی حملے میں ان کے والد آیت اللہ علی خامنہ ای بھی جاں بحق ہوئے تھے۔

رپورٹس کے مطابق جنرل احمد وحیدی بھی 8 فروری کے بعد پہلی مرتبہ عوامی طور پر سامنے آئے ہیں۔

دوسری جانب ایرانی سرکاری میڈیا نے آیت اللہ علی خامنہ ای کے تابوت کی تصاویر بھی جاری کی ہیں، جسے سرخ پرچم سے ڈھانپا گیا ہے۔ اس پر سفید خطاطی میں “یا حسین” درج ہے۔ یہ پرچم کربلا میں حضرت امام حسینؓ کے روضۂ مبارک پر لہرانے والے پرچم کی علامتی شکل ہے، جو اسلامی روایت میں مظلوم کے خون اور انصاف و انتقام کی علامت سمجھا جاتا ہے۔

ایرانی حکام کے مطابق ہفتے سے آیت اللہ علی خامنہ ای کی کئی روز تک جاری رہنے والی آخری رسومات کا آغاز ہوگا۔ ان کی میت ایران کے مختلف شہروں کے علاوہ عراق بھی لے جائی جائے گی۔ اس موقع پر تہران میں سکیورٹی کے غیرمعمولی انتظامات کیے گئے ہیں، جبکہ سڑکیں، فضائی حدود اور معمولاتِ زندگی عارضی طور پر محدود رہیں گے تاکہ لاکھوں سوگوار آخری عقیدت پیش کر سکیں۔

مزید خبریں

مقبول ترین خبریں