خیبرپختونخوا کے ضلع بونیر میں کلائوڈ برسٹ اور سیلاب سے اموات کی تعداد 400 سے تجاوز کر گئی، جاں بحق افراد میں ایک ہی خاندان کے 21 افراد بھی شامل ہیں،وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور نے بونیر میں جاں بحق افراد کے ورثا کو فی کس 20 لاکھ دینے کا اعلان کیا ہے ۔
ضلع بونیر کی انتظامیہ نے سیلاب سے متاثرہ علاقوں کی رپورٹ جاری کر دی، جس میں بتایا گیا ہے کہ کلاؤڈ برسٹ اور سیلاب سے جاں بحق افراد کی تعداد 400 سے زیادہ ہے۔
ڈپٹی کمشنر بونیر کاشف قیوم کے مطابق تباہ کن سیلاب نے ضلع بونیر میں بڑے پیمانے پر تباہی مچائی ہے، جس کے نتیجے میں 401 افراد جاں بحق اور 671 زخمی ہوئے ہیں، 54 مویشیوں کے نقصان کی تصدیق ہو چکی ہے۔
ضلع بونیر کی انتظامیہ کی جانب سے جاری کردہ سرکاری رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سیلاب کے باعث 2 ہزار 300 مکانات مکمل طور پر تباہ ہو گئے، جب کہ 413 گھروں کو جزوی نقصان پہنچا ہے۔
ڈپٹی کمشنر نے تصدیق کی ہے کہ دو بڑے پل پانی میں بہہ گئے ہیں، جبکہ 4 پلوں کو جزوی طور پر نقصان پہنچا ہے، سیلابی صورتحال میں صحت کی سہولیات بھی شدید متاثر ہوئی ہیں، تین سرکاری ہسپتالوں کی بلڈنگس کو جزوی طور پر نقصان پہنچا ہے۔
ڈپٹی کمشنر نے اپنی رپورٹ میں مزید کہا کہ ریسکیو اور امدادی کارروائیاں مشکلات کے باوجود جاری ہیں، ہماری ٹیمیں دن رات کام کر رہی ہیں تاکہ فوری امداد فراہم کی جا سکے، لیکن نقصان بہت زیادہ ہے اور بحالی میں وقت لگے گا۔
پاک فوج بھی امدادی کارروائیوں میں مصروف

خیبرپختونخوا کے بارش اور سیلاب متاثرہ اضلاع میں عوام کی مدد کے لیے پاک فوج کی جانب سے امدادی کارروائیوں میں مصروف ہے، ترجمان کے مطابق پاک فوج کی جانب سے بونیر کے مختلف علاقوں میں ریسکیو آپریشنز جاری ہیں، گاؤں چوراک میں بھی فوجی دستے ریسکیو کارروائیوں میں شریک ہیں۔
آدم خیل میں تباہ ہونے والے گھروں کے ملبے تلے دبے افراد کو بھی ریسکیو کیا جا رہا ہے، متاثرہ خاندانوں کو راشن اور بستروں کی فراہمی کا سلسلہ جاری ہے، خراب موسم کے باوجود پاک فوج کے ہیلی کاپٹر ریسکیو اور ریلیف سرگرمیوں میں حصہ لے رہے ہیں۔
اسکول اور تھانے بہہ گئے
رپورٹ کے مطابق بونیر میں تعلیمی ڈھانچہ بھی شدید متاثر ہوا ہے، اور 6 سرکاری اسکول بہہ گئے ہیں، 2 تھانے سیلاب میں بہہ گئے، 639 گاڑیاں تباہ ہوئیں، 127 دکانیں مکمل طور پر صفحہ ہستی سے مٹ گئیں اور 824 کو جزوی نقصان پہنچا۔
بونیر کی ڈپٹی کمشنر نے تصدیق کی کہ 2 بڑے پل مکمل طور پر بہہ گئے، 4 پلوں کو جزوی نقصان ہوا ہے، انہوں نے مزید بتایا کہ تین سرکاری ہسپتالوں کو بھی سیلاب کے باعث جزوی نقصان پہنچا۔
علی امین گنڈاپور کا دورہ
دوسری جانب وزیراعلیٰ خیبرپختوا علی امین گنڈاپور نے کلاؤڈ برسٹ کے بعد تباہی کی زد پر آنے والے علاقے بونیر کا دورہ کیا، اور سیلاب سے نقصان اور امدادی کارروائیوں کا جائزہ لیا۔
علی امین گنڈاپور نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ جاں بحق افراد کے ورثا کو فی کس بیس لاکھ روپے دیے جائیں گے، انہوں نے کہا کہ گھر بنا کر دیں گے، بستیاں بسا کر دیں گے، وعدہ کرتا ہوں جس کا جتنا نقصان ہوا ہے حکومت دے گی۔
سوات میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے علی امین گنڈاپور نے کہا کہ آبادیوں کو پانی کے راستوں سے ہٹا کر دوسرے مقامات پر نئی بستیاں آباد کریں گے، برس ہا برس سے لوگ پانی کے قدرتی راستوں پر گھر اور دکانیں بنا رہے ہیں۔
ایک ہی خاندان کے 21 افراد جاں بحق
ضلع بونیر میں سیلاب سے سب سے زیادہ متاثر علاقہ قادر نگر ہے، جہاں اب بھی کئی لوگ لاپتا ہیں، اس علاقے میں شادی کی تیاری میں مصروف خاندان کی خوشیاں بھی سیلاب بہا لے گیا۔
نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق قادر نگر میں سیلابی ریلے میں بہہ کر 84 افراد جاں بحق ہوئے، جن میں ایک ہی خاندان کے 21 افراد بھی شامل تھے۔
بدنصیب خاندان شادی کی تیاریوں میں مصروف تھا، اچانک سیلابی ریلا آیا اور سب کچھ بھا کر لے گیا، علاقہ مکین کے مطابق اب بھی کئی لوگ لاپتا ہے۔