کراچی میں 25 سالہ نوجوان تاجر اور معروف فوڈ برانڈ وافلکس کے بانی میر علی رضا کے اغوا اور بہیمانہ قتل نے کئی ایسے سوالات کھڑے کر دیے ہیں جن کے جوابات تاحال سامنے نہیں آ سکے۔ واقعے نے نہ صرف شہر میں امن و امان بلکہ نوجوان کاروباری افراد کی سیکیورٹی پر بھی نئے خدشات پیدا کر دیے ہیں۔
پولیس کے مطابق میر علی رضا 28 جولائی کی رات اپنی والدہ سے یہ کہہ کر گھر سے نکلے تھے کہ وہ “صرف 10 منٹ میں واپس آ جائیں گے”، لیکن وہ دوبارہ گھر نہ لوٹے۔ اہلِ خانہ نے جب رابطہ کرنے کی کوشش کی تو ان کا موبائل فون بند ملا، جس کے بعد تشویش بڑھ گئی اور پولیس کو اطلاع دی گئی۔
اگلے ہی روز گلستانِ جوہر کے علاقے سے ایک تشدد زدہ لاش برآمد ہوئی، جس کی شناخت ابتدا میں ممکن نہ تھی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ مقتول کو پہلے بدترین تشدد کا نشانہ بنایا گیا، جسم کے مختلف حصوں کو جلایا گیا اور بعد ازاں سینے میں گولی مار کر قتل کیا گیا۔ اہلِ خانہ نے کپڑوں کی مدد سے لاش کی شناخت میر علی رضا کے طور پر کی۔
اس کیس کا سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ اگر میر علی رضا کی کسی سے ذاتی دشمنی یا مالی تنازع نہیں تھا، جیسا کہ ان کے والد کا کہنا ہے، تو پھر انہیں کیوں اغوا کیا گیا؟ اگر اغوا برائے تاوان تھا تو اہلِ خانہ کو کوئی فون کال یا مطالبہ کیوں موصول نہیں ہوا؟ اور اگر مقصد صرف قتل تھا تو انہیں تشدد کا نشانہ کیوں بنایا گیا؟
تحقیقات کا ایک اور اہم پہلو یہ بھی ہے کہ گھر سے نکلنے کے بعد میر علی رضا کی آخری لوکیشن کیا تھی؟ کیا ان کی گاڑی یا موبائل فون سے کوئی اہم سراغ ملا؟ کیا راستے میں لگے سی سی ٹی وی کیمروں نے ان کی نقل و حرکت یا مشتبہ افراد کو ریکارڈ کیا؟ پولیس نے ابھی تک ان سوالات کے جوابات عوام کے سامنے نہیں رکھے۔
یہ واقعہ اس لیے بھی تشویشناک ہے کہ چند گھنٹوں کے اندر ایک تعلیم یافتہ نوجوان، جو آئی بی اے کا گریجویٹ اور کامیاب کاروباری شخصیت تھا، پراسرار طور پر لاپتا ہوا اور اگلے ہی دن مردہ حالت میں ملا۔ اس دوران کیا کچھ ہوا، وہ کن لوگوں کے ساتھ تھا اور اسے کہاں رکھا گیا؟ یہ تمام سوالات ابھی تک تفتیش کا حصہ ہیں۔
پولیس کا کہنا ہے کہ مختلف پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں اور فرانزک شواہد، موبائل فون کا ڈیٹا، سی سی ٹی وی فوٹیج اور دیگر ثبوتوں کی مدد سے قاتلوں تک پہنچنے کی کوشش کی جا رہی ہے، تاہم اب تک کسی گرفتاری یا قتل کے محرک سے متعلق کوئی باضابطہ اعلان سامنے نہیں آیا۔
میر علی رضا قتل کیس اب صرف ایک قتل کی واردات نہیں بلکہ کراچی میں شہریوں، خصوصاً نوجوان کاروباری افراد کے تحفظ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی تفتیشی صلاحیت کا ایک بڑا امتحان بن چکا ہے۔ سب کی نظریں اب اس بات پر ہیں کہ آیا پولیس اس پراسرار قتل کی گتھی سلجھا کر اصل ملزمان اور اس ہولناک جرم کے محرکات سامنے لا پاتی ہے یا نہیں۔