رام پور میں محمد علی جوہر یونیورسٹی کو کیوں گرایا جارہا ہے؟

فہرستِ مضامین

بھارت کی ریاست اتر پردیش کے ضلع رام پور میں قائم محمد علی جوہر یونیورسٹی ایک مرتبہ پھر قانونی تنازع کی زد میں آ گئی ہے۔ رام پور ڈیولپمنٹ اتھارٹی (RDA) نے یونیورسٹی کی 38 عمارتوں کو مبینہ طور پر غیر مجاز قرار دیتے ہوئے انہیں منہدم کرنے کا نوٹس جاری کر دیا ہے۔

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق یونیورسٹی انتظامیہ کو 15 روز کے اندر متعلقہ تعمیرات خود ہٹانے کی ہدایت کی گئی ہے۔ حکام نے خبردار کیا ہے کہ مقررہ مدت میں کارروائی نہ ہونے کی صورت میں اتھارٹی خود انہدام کرے گی اور اس پر آنے والے تمام اخراجات بھی یونیورسٹی انتظامیہ سے وصول کیے جائیں گے۔

رام پور کے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ اجے کمار دویدی کا کہنا ہے کہ نوٹس قانونی تقاضے پورے کرنے کے بعد جاری کیا گیا ہے اور اگر انتظامیہ نے ہدایات پر عمل نہ کیا تو بلڈوزر آپریشن کیا جائے گا۔

ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے مطابق متعلقہ عمارتیں اتر پردیش اربن پلاننگ اینڈ ڈیولپمنٹ ایکٹ کے تحت لازمی بلڈنگ پلان کی منظوری حاصل کیے بغیر تعمیر کی گئی تھیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ فیصلہ کرنے سے قبل یونیورسٹی کا مؤقف بھی سنا گیا اور قانونی کارروائی مکمل کی گئی۔

محمد علی جوہر یونیورسٹی کی بنیاد محمد علی جوہر ٹرسٹ نے 2006 میں رکھی تھی، جبکہ 2012 میں اسے یونیورسٹی کا درجہ ملا۔ سماج وادی پارٹی کے سینئر رہنما اعظم خان اس ادارے کو اپنی سیاسی زندگی کا اہم ترین منصوبہ قرار دیتے رہے ہیں۔ جامعہ میں طب، انجینئرنگ، قانون، زراعت، تعلیم اور سماجی علوم سمیت مختلف شعبوں میں تعلیم دی جاتی ہے، جبکہ اس کے ساتھ میڈیکل کالج، اسپتال، ہاسٹل اور رہائشی سہولیات بھی موجود ہیں۔

یہ کارروائی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب اعظم خان، ان کی اہلیہ ڈاکٹر تزئین فاطمہ، بیٹے عبداللہ اعظم خان اور محمد علی جوہر ٹرسٹ کے دیگر اراکین پہلے ہی متعدد قانونی مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں۔

اتر پردیش حکومت کا الزام ہے کہ یونیورسٹی کی توسیع کے لیے کسانوں، سرکاری محکموں اور دیگر زمینوں کو غیر قانونی طور پر شامل کیا گیا، جس کے بعد بعض اراضی کی لیز بھی منسوخ کر دی گئی۔ ان فیصلوں کو الہ آباد ہائی کورٹ نے برقرار رکھا، جبکہ سپریم کورٹ نے بھی مداخلت سے انکار کیا تھا۔

حالیہ معاملہ تاہم زمین کی ملکیت کے بجائے تعمیراتی ضوابط کی مبینہ خلاف ورزیوں سے متعلق ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ہر ادارے کے لیے تعمیرات سے قبل منظور شدہ بلڈنگ پلان حاصل کرنا قانونی طور پر لازمی ہے اور اسی قانون کے تحت کارروائی کی جا رہی ہے۔

دوسری جانب یونیورسٹی انتظامیہ کو اس نوٹس کے خلاف عدالت سے رجوع کرنے کا حق حاصل ہے، اس لیے 38 عمارتوں کے مستقبل کا فیصلہ اب عدالتی کارروائی اور قانونی حکمت عملی پر منحصر ہوگا۔

اس معاملے نے ایک بار پھر سیاسی بحث بھی چھیڑ دی ہے۔ بی جے پی حکومت کا مؤقف ہے کہ ریاست بھر میں غیر قانونی تعمیرات اور قبضوں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جا رہی ہے، جبکہ سماج وادی پارٹی کا الزام ہے کہ اعظم خان کو سیاسی بنیادوں پر نشانہ بنایا جا رہا ہے، تاہم ریاستی حکومت ان الزامات کو مسترد کرتی ہے۔

فی الحال یونیورسٹی میں تعلیمی سرگرمیاں معمول کے مطابق جاری ہیں، تاہم یہ دیکھنا باقی ہے کہ نوٹس پر عمل درآمد ہوتا ہے یا معاملہ عدالت میں چلا جاتا ہے۔

مزید خبریں

مقبول ترین خبریں