سندھ ایکشن کمیٹی کا اجلاس، سندھ کی وحدت کے خلاف 22 اگست کو حیدرآباد میں احتجاج کا اعلان

فہرستِ مضامین

جامشورو: 8 اگست 2026ء: سندھ ایکشن کمیٹی کا اہم اجلاس سندھ یونائیٹڈ پارٹی کے قائم مقام صدر روشن علی بڑرو کی صدارت میں جی ایم سید ایڈیفیس جامشورو میں منعقد ہوا، جس میں ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال سمیت سندھ سے متعلق مختلف امور پر تفصیلی غور کیا گیا۔

اجلاس کے دوران وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کے صوبوں سے متعلق بیانات کی سخت الفاظ میں مذمت کی گئی۔

سندھ ایکشن کمیٹی نے اجلاس میں واضح کیا کہ سندھ 6 کروڑ سندھیوں کا ناقابلِ تقسیم تاریخی وطن ہے، جو 1940ء کی قرارداد کے تحت اس ملک میں خودمختار حیثیت کے ساتھ شامل ہوا تھا۔ اجلاس میں کہا گیا کہ صوبوں کی وحدت، جغرافیائی وحدت اور خودمختاری کے تحفظ کی ضمانت دی گئی تھی۔

سندھ ایکشن کمیٹی کا کہنا تھا کہ اگر ملک کے مقتدر حلقوں یا حکمرانوں کی جانب سے سندھ کی وحدت پر حملہ کیا گیا تو اس کے خلاف سخت مزاحمت کی جائے گی۔ اجلاس میں کہا گیا کہ ایسی صورتحال کو 1940ء کی قرارداد اور 1973ء کے آئین کو عملی طور پر ختم کرنے کی کوشش سمجھا جائے گا، جس کے بعد سندھ اپنے سیاسی مستقبل کے بارے میں فیصلہ کرنے میں آزاد ہوگا۔

26ویں اور 27ویں آئینی ترامیم پر بھی تنقید

اجلاس میں 26ویں اور 27ویں آئینی ترامیم پر بھی سخت تنقید کی گئی۔ سندھ ایکشن کمیٹی کے رہنماؤں کا مؤقف تھا کہ مختصر عرصے کے دوران آئینی ترامیم کے ذریعے عدالتوں کو کمزور کیا گیا، سیاسی سرگرمیوں پر پابندیاں عائد کی گئیں اور میڈیا کی آواز دبانے کی کوششیں کی گئی ہیں۔

اجلاس میں حکمرانوں سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ استعفے دے کر ملک میں تمام سیاسی قیدیوں کو رہا کریں، شفاف انتخابات کرائے جائیں اور 26ویں اور 27ویں آئینی ترامیم ختم کی جائیں۔

28ویں آئینی ترمیم واپس لینے کا مطالبہ

سندھ ایکشن کمیٹی کے اجلاس میں مجوزہ 28ویں آئینی ترمیم پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا۔

اجلاس میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ مجوزہ ترمیم کے ذریعے سندھ کی وحدت، مالی وسائل، دریاؤں، ساحلی پٹی، معدنیات اور زمینوں سے متعلق اختیارات کو متاثر کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔ رہنماؤں نے کہا کہ ایسی ترمیم ملک میں مزید انتشار پیدا کرسکتی ہے اور اس سے ملکی سالمیت بھی خطرے میں پڑ سکتی ہے۔

سندھ ایکشن کمیٹی نے مطالبہ کیا کہ مجوزہ 28ویں آئینی ترمیم فوری طور پر واپس لی جائے۔

سندھ اسمبلی سے قرارداد لانے کا مطالبہ

اجلاس میں سندھ اسمبلی سے مطالبہ کیا گیا کہ ایک بار پھر ہنگامی اجلاس طلب کرکے نئے صوبوں سے متعلق ہونے والی بحث کے خلاف قرارداد منظور کی جائے۔

اجلاس میں قانون سازی کا بھی مطالبہ کیا گیا کہ سندھ کی وحدت کے خلاف بات کرنے یا بیان دینے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے۔

سندھ ایکشن کمیٹی کے رہنماؤں نے کہا کہ سندھ کی مختلف زبانیں بولنے والے لوگ سندھ کی تقسیم کے خلاف ہیں اور سندھ کو ایک وطن سمجھتے ہیں۔

نہروں اور پانی کے معاملات پر سخت مؤقف

اجلاس میں جلالپور کینال کے حوالے سے بھی شدید تحفظات کا اظہار کیا گیا۔ رہنماؤں کا مؤقف تھا کہ غیر قانونی اور غیر آئینی جلالپور کینال نکال کر 1991ء کے پانی کے معاہدے کی خلاف ورزی کی گئی ہے۔

سندھ ایکشن کمیٹی نے الزام عائد کیا کہ محکمہ آبپاشی کو وفاق کے حوالے کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، جبکہ دریائے سندھ پر نئی نہروں اور نئے ڈیموں کی تعمیر کے منصوبے بھی بنائے جا رہے ہیں۔

اجلاس میں واضح کیا گیا کہ سندھ کے عوام ایسے جبری اور غیر آئینی فیصلے کسی صورت قبول نہیں کریں گے۔

بلدیاتی نظام کے حوالے سے بھی مؤقف واضح

سندھ ایکشن کمیٹی نے کہا کہ وہ بلدیاتی نظام یا اختیارات کو نچلی سطح تک منتقل کرنے کے خلاف نہیں، تاہم آرٹیکل 140 کے تحت لوکل گورنمنٹ کو تیسرے درجے کے طور پر نافذ کرکے صوبوں کی خودمختاری کو عملی طور پر ختم کرنے کی مخالفت کرتے ہیں۔

اجلاس میں کہا گیا کہ ماضی میں ون یونٹ کے دوران سندھ کے منتخب نمائندوں نے سندھ سے غداری کی اور اسے مرکز کے حوالے کیا، لیکن اب سندھ کے عوام اسمبلیوں میں موجود تمام نمائندوں کو واضح طور پر بتاتے ہیں کہ اگر سندھ کی وحدت کے خلاف کوئی قدم اٹھایا گیا تو اس کے خلاف سخت مزاحمت کی جائے گی۔

سندھ کی وحدت کو ریڈ لائن قرار

اجلاس میں اس بات پر پختہ یقین کا اظہار کیا گیا کہ سندھ کی وحدت ریڈ لائن ہے اور اس کے تحفظ کے لیے ہر قسم کی قربانی دینے کے لیے تیار ہیں۔

سندھ ایکشن کمیٹی نے قومی تحریک کے رہنماؤں ایاز لطیف پلیجو اور ریاض چانڈیو کو این سی سی آئی کے نوٹس جاری کرکے طلب کرنے کے عمل پر بھی اعتراض کیا اور ایسے نوٹس فوری طور پر واپس لینے کا مطالبہ کیا۔

22 اگست کو حیدرآباد میں احتجاج کا اعلان

اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ سندھ کی وحدت کے تحفظ، غیر قانونی نہروں اور سندھ کی مالی خودمختاری سے متعلق معاملات کے خلاف 22 اگست کو حیدرآباد میں عوامی احتجاج کیا جائے گا۔

اس کے ساتھ سندھ بھر کے ڈویژنل ہیڈکوارٹرز میں عوامی رائے ہموار کرنے اور سیاسی شعور اجاگر کرنے کے لیے تحریک شروع کرنے کا بھی اعلان کیا گیا۔

سندھ ایکشن کمیٹی کا کہنا تھا کہ اتحاد کو مزید وسیع کرنے کے لیے ستمبر میں کراچی میں ایک بڑی کانفرنس بھی منعقد کی جائے گی، جس میں ملک کی مختلف سیاسی جماعتوں اور دیگر قوموں کے قومی رہنماؤں کو دعوت دی جائے گی۔

اجلاس میں کہا گیا کہ تحریک کو مزید منظم اور طاقتور بنا کر سندھ اور ملک کے خلاف ہونے والی مبینہ سازشوں کو ناکام بنانے کی کوشش کی جائے گی۔

اجلاس میں جیے سندھ قومی محاذ شہید بشیر خان قریشی کے چیئرمین ڈاکٹر نیاز کالانی، پورہیت مزاحمت تحریک کے صدر سید مسرور شاہ، جیے سندھ قومی پارٹی کے چیئرمین نواز خان زئنور، عوامی جمہوری پارٹی کے جنرل سیکریٹری سید لال شاہ، قومی عوامی تحریک کے جنرل سیکریٹری مظہر راہوجو، جیے سندھ محاذ کے سینئر وائس چیئرمین سید نواز شاہ بھاڈائی، نیشنل پارٹی سندھ کے صدر تاج مری، عوامی ورکرز پارٹی (مارکسٹ) کے مرکزی رہنما بخشل تھلہو، سندھ صوفی فورم کے کنوینر ڈاکٹر بدر چنا، سندھ بار کونسل کے رکن ایڈووکیٹ کے بی لغاری، سندھ ہاری کمیٹی کے رہنما احمد نواز انقلابی، ایس یو پی کے مرکزی سیکریٹری جنرل منیر نائچ اور دیگر مرکزی رہنماؤں نے شرکت کی۔

مزید خبریں

مقبول ترین خبریں