چیئرپرسن فریال تالپور کی زیر صدارت سندھ اسمبلی کی داخلہ امور سے متعلق قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں صوبے میں منشیات کے مکروہ کاروبار میں ملوث ڈیلرز اور پولیس افسران کے خلاف سخت کارروائی کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
اجلاس میں صوبائی وزیر داخلہ ضیاء الحسن لنجار، مکیش کمار چاولہ، سید سردار علی شاہ، سید ذوالفقار شاہ، سعید غنی، ایم پی اے قاسم سراج سومرو، آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو، ایڈیشنل آئی جی کراچی آزاد خان سمیت تمام ڈی آئی جیز، متعلقہ افسران اور پیپلز پارٹی و ایم کیو ایم کے اراکین نے شرکت کی۔
اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے چیئرپرسن فریال تالپور نے کہا کہ صوبے میں منشیات کے خاتمے کے لیے صرف پولیس نہیں بلکہ معاشرے کے تمام طبقات کو مل کر کردار ادا کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ہر الزام پولیس پر ڈالنا درست نہیں، بلکہ اجتماعی کوششوں سے ہی اس لعنت کا خاتمہ ممکن ہے۔ انہوں نے ہدایت دی کہ ایسا مؤثر نظام بنایا جائے جس سے صوبے سے منشیات کا مکمل خاتمہ کیا جا سکے۔
اجلاس کے دوران فریال تالپور نے سرحدی علاقوں میں چیکنگ سخت کرنے اور منشیات فروشوں کے خلاف بھرپور کریک ڈاؤن کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ پولیس کو ایسا اقدام کرنا چاہیے کہ منشیات فروشوں میں خوف پیدا ہو۔
صوبائی وزیر داخلہ ضیاء الحسن لنجار نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جس طرح کچے کے علاقوں کو ڈاکوؤں سے پاک کیا گیا ہے، اسی طرح منشیات کے خاتمے کے لیے بھی بھرپور کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے اعلان کیا کہ سندھ میں منشیات کے خلاف ایک اینٹی نارکوٹکس ٹاسک فورس قائم کی جائے گی اور ڈیلرز کے خلاف سخت ایکشن لیا جائے گا۔
صحافیوں کی جانب سے پوچھے گئے سوال پر، جس میں وزیر اعلیٰ کے حالیہ بیان کا حوالہ دیا گیا کہ بعض صحافی منشیات فروشوں کو چھڑانے کے لیے پہنچ جاتے ہیں، وزیر داخلہ نے کہا کہ یہ بیان وزیر اعلیٰ کا ہے اور وہ اس پر تبصرہ نہیں کر سکتے۔
اجلاس میں کچے کے علاقے میں کامیاب آپریشن پر ڈی آئی جی لاڑکانہ ناصر آفتاب، ایس ایس پی سمیع اللہ سومرو، ایس ایس پی کشمور مراد گھانگھرو، ایس ایس پی شہزیب چاچڑ اور ایس ایس پی گھوٹکی انور کھیتران کے لیے سول ایوارڈز کا اعلان بھی کیا گیا۔
آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو نے کہا کہ منشیات کے کاروبار میں ملوث کسی بھی شخص، خواہ وہ پولیس افسر ہی کیوں نہ ہو، کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ صوبے میں منشیات فروشوں کے خلاف کارروائیاں شروع کر دی گئی ہیں، جبکہ اجلاس میں یہ تجویز بھی سامنے آئی کہ اسکولوں اور کالجوں میں طلبہ کے ٹیسٹ کرائے جائیں۔
ایک سوال کے جواب میں آئی جی سندھ نے کہا کہ گٹکا اور مین پوری مقامی سطح پر تیار ہوتے ہیں اور جہاں بھی ان کی فیکٹریاں موجود ہیں، ان کے مالکان کے خلاف بھی کارروائی کی جائے گی۔
اجلاس کے دوران بریفنگ دیتے ہوئے آئی جی سندھ نے بتایا کہ صوبے میں بڑے منشیات فروشوں کی فہرست میں شامل 133 افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے جبکہ 145 کے خلاف مقدمات درج کیے گئے ہیں، جن میں سے 107 ملزمان جیل میں ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ منشیات مافیا کے نیٹ ورک کو شدید نقصان پہنچایا گیا ہے، جبکہ کچے کے علاقوں میں اغوا برائے تاوان کا کوئی واقعہ رپورٹ نہیں ہوا اور تمام راستے کھلے ہیں، جس سے امن و امان کی صورتحال بہتر ہوئی ہے۔