سندھ میں دہشت گردی کے واقعات میں 76 فیصد کمی، سی ٹی ڈی کے آپریشنز میں نمایاں پیش رفت

فہرستِ مضامین

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کی کارکردگی، موجودہ سکیورٹی صورتحال اور مستقبل کی آپریشنل ضروریات سے متعلق اعلیٰ سطح کا اجلاس ہوا، جس میں صوبے میں دہشت گردی کے خلاف جاری کارروائیوں، تحقیقات، انٹیلی جنس صلاحیتوں اور سی ٹی ڈی کے انفراسٹرکچر کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

اجلاس میں وزیر داخلہ ضیاء الحسن لنجار، چیف سیکریٹری آصف حیدر شاہ، سیکریٹری داخلہ اقبال میمن، آئی جی پولیس جاوید عالم اوڈھو، پرنسپل سیکریٹری آغا واصف، ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی ذوالفقار لاڑک، سیکریٹری خزانہ اصغر میمن، ڈی آئی جی سی ٹی ڈی اظفر مہیسر اور دیگر متعلقہ حکام شریک ہوئے۔

اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ کالعدم عسکریت پسند اور باغی تنظیمیں سندھ کے لیے بدستور سکیورٹی چیلنج ہیں، تاہم دہشت گردی کے واقعات میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ وزیر داخلہ ضیاء الحسن لنجار نے بتایا کہ 2025ء میں سندھ میں دہشت گردی کے 37 واقعات رپورٹ ہوئے تھے، جبکہ 2026ء میں یہ تعداد کم ہوکر 9 رہ گئی، جو تقریباً 76 فیصد کمی ہے۔

آئی جی پولیس جاوید عالم اوڈھو نے بتایا کہ رواں سال رپورٹ ہونے والے 9 دہشت گردی کے واقعات میں سے 7 کا سراغ لگا کر تحقیقات مکمل کرلی گئی ہیں، جبکہ ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی ذوالفقار لاڑک کے مطابق دہشت گردی کے واقعات میں تقریباً 78 فیصد ڈٹیکشن ریٹ حاصل کیا گیا ہے۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ سی ٹی ڈی نے 2026ء کے دوران 918 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کیے، جن کے نتیجے میں 87 دہشت گرد گرفتار کیے گئے، جبکہ مختلف مقابلوں میں 4 عسکریت پسند ہلاک ہوئے۔ کارروائیوں کے دوران پولیس اہلکاروں اور اہم تنصیبات پر حملوں میں ملوث متعدد دہشت گرد نیٹ ورکس بھی توڑے گئے۔

آئی جی پولیس نے بتایا کہ عسکریت پسند نیٹ ورکس کے خلاف کارروائیوں میں 2 ہزار کلوگرام سے زائد دھماکا خیز مواد برآمد کیا گیا۔ کالعدم باغی تنظیموں سے تعلق رکھنے والے 4 عسکریت پسند مقابلوں میں ہلاک کیے گئے، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں اور اہم تنصیبات پر متعدد منصوبہ بند حملے ناکام بنائے گئے۔

سی ٹی ڈی کے مطابق شمالی سندھ میں ریلوے ٹریکس پر حملوں میں مبینہ طور پر ملوث نیٹ ورک بھی توڑ دیا گیا ہے۔ گرفتاریوں کے نتیجے میں تخریبی کارروائیوں کے منصوبے ناکام بنائے گئے اور اہم ٹرانسپورٹ انفراسٹرکچر کو محفوظ بنایا گیا۔

اجلاس میں کراچی ٹریننگ سینٹر حملے کی تحقیقات میں پیش رفت سے بھی وزیراعلیٰ سندھ کو آگاہ کیا گیا۔ آئی جی پولیس نے بتایا کہ مقدمے میں اب تک 9 ملزمان گرفتار کیے جاچکے ہیں اور تحقیقات کے لیے جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم تشکیل دی گئی ہے۔ تحقیقات کے دوران متعدد تفتیشی سیشنز کیے گئے اور کئی سہولت کاروں کی نشاندہی ہوئی، جبکہ کیس کی تحقیقات تاحال جاری ہیں۔

بریفنگ میں بتایا گیا کہ کراچی میں فالو اَپ آپریشن کے دوران مرکزی ملزم اور اس کے ساتھی کو گرفتار کیا گیا، جبکہ ان کے قبضے سے اسلحہ اور دھماکا خیز مواد بھی برآمد ہوا۔ گرفتار ملزمان پولیس اہلکاروں کی ٹارگٹ کلنگ کے متعدد مقدمات میں مبینہ طور پر ملوث ہیں۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں پر منصوبہ بند حملوں میں ملوث عناصر کے خلاف کامیاب کارروائیاں کی گئیں، جبکہ فرقہ وارانہ تشدد اور انتہا پسند نیٹ ورکس سے منسلک متعدد مشتبہ افراد کو بھی گرفتار کیا گیا۔

ڈیجیٹل تحقیقات اور فیوژن سینٹر

اجلاس میں سی ٹی ڈی فیوژن سینٹر کی کارکردگی پر بھی بریفنگ دی گئی۔ حکام نے بتایا کہ فیوژن سینٹر نے انٹیلی جنس معلومات کے حصول اور ڈیجیٹل تحقیقات میں نمایاں بہتری پیدا کی ہے۔

فیوژن سینٹر کے پہلے مرحلے میں 32 ہزار سے زائد سیلولر سپورٹ اینالیسز اور 31 ہزار سے زائد کرائم ڈیٹا اینالیسز مکمل کیے گئے، جبکہ ایک ہزار سے زائد ڈیجیٹل فرانزک ایگزامینیشن اور ایک ہزار 600 سے زائد ویژول اینہانسمنٹ کیسز پر کارروائی کی گئی۔

بریفنگ کے مطابق انتہا پسند سرگرمیوں سے منسلک سیکڑوں سوشل میڈیا اکاؤنٹس کو بلاک یا رپورٹ کیا گیا۔

وزیر داخلہ ضیاء الحسن لنجار نے جدید انٹیلی جنس سافٹ ویئر اور ڈیجیٹل فرانزک ٹولز کے لیے اضافی وسائل فراہم کرنے کی تجویز دی۔ انہوں نے کرائم اینالیٹکس پلیٹ فارمز اور مصنوعی ذہانت سے لیس نظام کو مزید مضبوط بنانے پر بھی زور دیا۔

وزیراعلیٰ سندھ نے فیوژن سینٹر کے لیے جی پی یو پر مبنی جدید انفراسٹرکچر فراہم کرنے کی ہدایت کی۔

سی ٹی ڈی انفراسٹرکچر کی توسیع

وزیر داخلہ نے بتایا کہ سندھ بھر میں سی ٹی ڈی کے انفراسٹرکچر کی ترقی کے بڑے منصوبوں پر کام جاری ہے۔ سالانہ ترقیاتی پروگرام کے تحت سکھر میں علیحدہ سی ٹی ڈی کمپلیکس کی تعمیر شروع کردی گئی ہے، جبکہ کراچی اور حیدرآباد میں جدید سی ٹی ڈی کمپلیکس کی تعمیر کے منصوبے منظوری کے لیے پیش کیے گئے ہیں۔

اجلاس میں سی ٹی ڈی کی جانب سے بکتر بند گاڑیوں، نگرانی کرنے والے ڈرونز، اینٹی ڈرون سسٹمز، الیکٹرک گاڑیوں اور انٹیلی جنس اہلکاروں کے لیے موٹر سائیکلوں کی ضرورت سے بھی آگاہ کیا گیا۔ سکیورٹی گیٹس، سی سی ٹی وی سسٹمز اور دیگر حفاظتی انفراسٹرکچر کو بھی آپریشنل ضروریات میں شامل کیا گیا۔

مراد علی شاہ کی مزید مؤثر اقدامات کی ہدایت

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کو مزید مضبوط بنانے اور دہشت گرد نیٹ ورکس کی نگرانی مؤثر بنانے کی ہدایت کی۔ انہوں نے انٹیلی جنس اداروں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان رابطہ مزید بہتر بنانے اور انسدادِ دہشت گردی آپریشنز میں جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کو تیز کرنے پر زور دیا۔

وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ اہم انفراسٹرکچر اور اسٹریٹجک تنصیبات کا تحفظ اولین ترجیحات میں شامل کیا جائے، جبکہ پبلک ٹرانسپورٹ نیٹ ورکس اور سندھ میں کام کرنے والے غیر ملکی شہریوں کی سکیورٹی کو بھی ترجیح دی جائے۔

مراد علی شاہ نے چیف سیکریٹری کو جدید نگرانی کے آلات کی خریداری کا عمل تیز کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے سی ٹی ڈی کے لیے خصوصی آپریشنل وسائل کی فراہمی یقینی بنانے کا حکم دیا۔

وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ سندھ حکومت سی ٹی ڈی کو مضبوط بنانے کے لیے تمام ضروری وسائل فراہم کرے گی۔ سندھ میں امن و استحکام برقرار رکھنا حکومت کی ترجیح ہے، اداروں کو مضبوط، انٹیلی جنس صلاحیتوں کو مزید مؤثر اور عوام کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے گا۔

اجلاس میں سندھ بھر میں دہشت گرد اور انتہا پسند نیٹ ورکس کے خلاف حاصل کامیابیوں کو برقرار رکھنے، انسدادِ دہشت گردی کے اقدامات مزید مؤثر بنانے اور اداروں کے درمیان رابطہ مضبوط کرنے پر اتفاق کیا گیا۔

وزیراعلیٰ سندھ نے واضح کیا کہ عوامی تحفظ کو درپیش ہر خطرے سے سختی اور مؤثر طریقے سے نمٹا جائے گا۔

مزید خبریں

مقبول ترین خبریں