کراچی: چیف سیکریٹری سندھ آصف حیدر شاہ کی زیرِ صدارت فائر سیفٹی آڈٹ سے متعلق اعلیٰ سطح کا اجلاس ہوا، جس میں صوبے بھر میں شاپنگ مالز، اسپتالوں، ہاسٹلز، بلند عمارتوں، سرکاری دفاتر اور دیگر عوامی مقامات پر حفاظتی انتظامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
اجلاس میں حکام نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ صوبے بھر میں مجموعی طور پر 3 ہزار 354 عمارتوں کا فائر سیفٹی آڈٹ کیا جاچکا ہے۔
حکام کے مطابق کراچی ڈویژن میں 798 اور حیدرآباد ڈویژن میں 1,287 عمارتوں کا فائر سیفٹی معائنہ کیا گیا، جبکہ لاڑکانہ میں 420، میرپورخاص میں 129، شہید بینظیرآباد میں 418 اور سکھر میں 302 عمارتوں کا آڈٹ مکمل کیا گیا۔
چیف سیکریٹری سندھ آصف حیدر شاہ نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے فائر سیفٹی ضوابط پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایت کی اور واضح کیا کہ حفاظتی اقدامات میں غفلت برتنے والے افسر یا ادارے سے کوئی رعایت نہیں کی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ غفلت یا کوتاہی ثابت ہونے کی صورت میں متعلقہ محکمے کے سربراہ کے خلاف بھی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
آصف حیدر شاہ نے ہدایت کی کہ سرکاری عمارتوں، عوامی مقامات، شاپنگ مالز، مارکیٹوں، جیلوں، اسپتالوں، کالجوں اور صنعتی اداروں میں فائر سیفٹی کے ضروری انتظامات فوری طور پر یقینی بنائے جائیں۔
چیف سیکریٹری نے خاص طور پر ٹیچنگ اسپتالوں، ہاسٹلز، دارالامان، یتیم خانوں اور چائلڈ پروٹیکشن اداروں میں مؤثر ایمرجنسی انخلا کے منصوبوں کو ترجیحی بنیادوں پر نافذ کرنے کی ہدایت کی۔
اجلاس میں تمام محکموں کو پابند کیا گیا کہ وہ اپنے زیرِ انتظام عمارتوں میں فائر سیفٹی ضوابط پر عملدرآمد کے حوالے سے دستخط شدہ تصدیقی سرٹیفکیٹس جمع کرائیں۔
آصف حیدر شاہ نے ہدایت کی کہ تمام عمارتوں میں فائر الارم اور آگ بجھانے کے آلات فعال حالت میں رکھے جائیں، ہنگامی اخراج کے راستوں کی واضح نشاندہی کی جائے اور ایمرجنسی راستوں کو ہر قسم کی رکاوٹ سے پاک رکھا جائے۔
انہوں نے کہا کہ فائر سیفٹی کوئی ایک مرتبہ کی کارروائی نہیں بلکہ مسلسل ذمہ داری ہے، اس لیے عوام کے جان و مال کے تحفظ پر کسی صورت سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
چیف سیکریٹری سندھ کا کہنا تھا کہ آتشزدگی کے واقعات میں ناقص انتظامات اور غیر مؤثر حفاظتی اقدامات کے باعث جانی نقصان میں اضافہ ہوتا ہے، جبکہ بروقت احتیاطی اقدامات، تربیت یافتہ عملہ اور منظم انخلا کے ذریعے جانی و مالی نقصان کو کم کیا جاسکتا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ فائر سیفٹی محض کاغذی کارروائی نہیں بلکہ انسانی جانوں کے تحفظ کی براہِ راست ذمہ داری ہے۔