کراچی: سندھ اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (پی اے سی) کے اجلاس میں انکشاف ہوا ہے کہ سندھ ماسٹر پلان اتھارٹی گزشتہ تقریباً چھ برس سے باضابطہ ایکٹ اور گورننگ باڈی کے بغیر کام کر رہی ہے۔ کمیٹی نے اس صورتحال پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سندھ بھر کے تمام اضلاع کا ماسٹر پلان طلب کر لیا اور ہدایت کی کہ دو ماہ کے اندر سندھ ماسٹر پلان اتھارٹی کا ایکٹ سندھ کابینہ اور سندھ اسمبلی سے منظور کرایا جائے۔
پی اے سی کا اجلاس چیئرمین نثار کھوڑو کی زیر صدارت منعقد ہوا، جس میں کمیٹی کے ارکان طٰہٰ احمد اور قاسم سومرو، سیکریٹری بلدیات وسیم شمشاد، سندھ ماسٹر پلان اتھارٹی کے سینئر ڈائریکٹر اور دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔ اجلاس میں سندھ ماسٹر پلان اتھارٹی، واسا اور پی ڈی لوکل گورنمنٹ حیدرآباد سے متعلق آڈٹ اعتراضات کا جائزہ لیا گیا۔
اجلاس کے دوران چیئرمین پی اے سی نثار کھوڑو نے استفسار کیا کہ سندھ ماسٹر پلان اتھارٹی کب قائم کی گئی، اس کی قانونی حیثیت کیا ہے اور شہری و دیہی علاقوں کے لیے اب تک کون سے ماسٹر پلان تیار کیے گئے ہیں۔
سندھ ماسٹر پلان اتھارٹی کے سینئر ڈائریکٹر نے کمیٹی کو بتایا کہ اتھارٹی 2020 میں قائم کی گئی تھی، تاہم آج تک اس کا باقاعدہ ایکٹ منظور نہیں ہو سکا، جس کے باعث ادارہ فی الحال ٹاؤن پلاننگ قوانین اور موجودہ ریگولیشنز کے تحت کام کر رہا ہے۔
کمیٹی کے رکن طٰہٰ احمد نے سوال اٹھایا کہ سندھ ڈویلپمنٹ پلان (SDP) 2020 کے تحت کراچی ڈویلپمنٹ اتھارٹی (KDA) کو 2047 کا ماسٹر پلان تیار کرنے کی ذمہ داری دی گئی تھی، مگر کیا اس قانون پر عملدرآمد ہو رہا ہے؟ اس پر حکام نے اعتراف کیا کہ ایس ڈی پی 2020 پر مؤثر عملدرآمد نہیں ہو رہا۔
سیکریٹری بلدیات وسیم شمشاد نے کمیٹی کو بتایا کہ عدالت کے احکامات کے بعد سندھ ماسٹر پلان اتھارٹی کو سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی سے الگ کیا گیا تھا، جبکہ اتھارٹی کے ایکٹ کا مسودہ تیار کیا جا چکا ہے اور اسے جلد منظوری کے لیے سندھ کابینہ میں پیش کیا جائے گا۔
چیئرمین پی اے سی نثار کھوڑو نے کہا کہ سندھ کے تمام شہری اور دیہی علاقوں کے لیے جامع ماسٹر پلان ناگزیر ہے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ سندھ کے ہر شہر کا سروے مکمل کیا جائے اور وہ دیہی و شہری علاقے جو اب تک سٹی سروے میں شامل نہیں، انہیں بھی ریکارڈ کا حصہ بنایا جائے تاکہ عوام کو قانونی اور انتظامی سہولتیں فراہم کی جا سکیں۔
حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ سندھ ماسٹر پلان اتھارٹی اس وقت صوبے کے 14 اضلاع میں مختلف منصوبوں پر کام کر رہی ہے۔ تاہم گورننگ باڈی کی عدم موجودگی پر سیکریٹری بلدیات نے وضاحت کی کہ ایکٹ کی منظوری کے بعد ہی گورننگ باڈی تشکیل دی جائے گی۔
پی اے سی نے سندھ بھر کے تمام اضلاع کے ماسٹر پلان کی تفصیلات طلب کرتے ہوئے دو ماہ کے اندر اتھارٹی کا قانونی فریم ورک مکمل کرنے کی ہدایت جاری کر دی۔
اجلاس میں واسا حیدرآباد کی کارکردگی بھی زیر بحث آئی۔ چیئرمین پی اے سی نے حیدر چوک پر سیوریج کا پانی جمع ہونے کے معاملے پر شدید برہمی کا اظہار کیا اور واسا کے چیف ایگزیکٹو آفیسر سے استفسار کیا کہ آیا انہوں نے اس صورتحال کا نوٹس لیا ہے یا نہیں۔ سی ای او واسا اس معاملے سے لاعلم نکلے، جس پر کمیٹی نے انہیں فوری طور پر حیدر چوک سے سیوریج کا پانی نکالنے اور ادارے کی کارکردگی بہتر بنانے کی ہدایت کی۔
دریں اثنا، پی اے سی نے تھرپارکر میں پی ڈی لوکل گورنمنٹ حیدرآباد کی جانب سے 841 ملین روپے مالیت کے مختلف ترقیاتی ٹھیکے مبینہ طور پر معاہدے کے بغیر دینے کے معاملے کا بھی نوٹس لیا اور متعلقہ منصوبوں کی انسپیکشن کرانے کی ہدایت جاری کر دی۔