سکھر میں قبائلی جرگے کا بڑا فیصلہ: 84 ہلاکتوں کا کروڑوں روپے جرمانہ عائد

فہرستِ مضامین

سکھر کے سرکٹ ہاؤس میں منعقد ہونے والے ایک اہم قبائلی جرگے نے طویل عرصے سے جاری خونریز جھگڑوں کا فیصلہ کرتے ہوئے گھوٹکی میں ہونے والے 84 افراد کے قتل کا تصفیہ سنا دیا۔

یہ جرگہ مختلف قبائل کے درمیان دیرینہ تنازعات کے حل کے لیے منعقد کیا گیا، جس کی قیادت مہر قبیلے کے سربراہ سردار علی گوہر مہر اور ڈاکٹر ابراہیم جتوئی سمیت علاقے کے دیگر معززین نے کی۔

جرگے میں تمام فریقین کے درمیان ہونے والے تنازع میں نہ صرف 84 افراد کی ہلاکت بلکہ 80 افراد کے زخمی ہونے کے معاملات کا بھی تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

کروڑوں روپے کا جرمانہ

فیصلے کے مطابق دونوں فریقین پر مجموعی طور پر 24 کروڑ 60 لاکھ روپے سے زائد کا جرمانہ عائد کیا گیا ہے۔ طے پایا کہ یہ رقم فریقین ایک دوسرے کو تین اقساط میں ادا کریں گے۔

جرگہ منتظمین نے واضح کیا کہ اگر مستقبل میں کسی بھی فریق کی جانب سے دوبارہ جھگڑا یا پہل کی گئی تو اس پر 80 لاکھ روپے اضافی جرمانہ عائد کیا جائے گا۔

قتل کے جرمانوں کی تفصیل

فیصلے میں قتل کے جرمانے بھی واضح طور پر مقرر کیے گئے:

مرد کے قتل پر 25 لاکھ روپے جرمانہ

خاتون کے قتل پر 50 لاکھ روپے جرمانہ

امن کی کوشش یا روایتی انصاف؟

جرگے کے منتظمین کے مطابق یہ فیصلہ علاقے میں دیرپا امن قائم کرنے کی کوشش ہے، تاکہ قبائلی دشمنیوں کا سلسلہ ختم کیا جا سکے۔

تاہم یہ فیصلہ ایک بار پھر قبائلی نظامِ انصاف اور ریاستی عدالتی عمل کے درمیان بحث کو بھی جنم دے رہا ہے کہ آیا اس طرح کے فیصلے واقعی امن لاتے ہیں یا صرف وقتی تصفیہ ثابت ہوتے ہیں۔

مزید خبریں

مقبول ترین خبریں