سی ایس ایس 2025 کے نتائج جاری، سندھ کی کم نمائندگی پر نئی بحث

فہرستِ مضامین

وفاقی پبلک سروس کمیشن نے سی ایس ایس 2025 کے حتمی نتائج جاری کر دیے ہیں، جن کے بعد ملک بھر میں کامیاب امیدواروں کی فہرست اور صوبہ وار نمائندگی سامنے آ گئی ہے۔ تاہم نتائج کے اجرا کے ساتھ ہی سندھ کے حصے پر ایک بار پھر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔

سرکاری دستاویزات کے مطابق اس سال مجموعی طور پر 12 ہزار 792 امیدواروں نے امتحان میں حصہ لیا، جن میں سے صرف 342 امیدوار کامیاب قرار پائے۔ یوں کامیابی کی مجموعی شرح 2.67 فیصد رہی، جو اس امتحان کی سختی کو ظاہر کرتی ہے۔

صوبہ سندھ کی بات کی جائے تو نتائج خاصے محدود دکھائی دیتے ہیں۔ سندھ (رورل) سے 21 جبکہ سندھ (اربن) سے صرف 5 امیدوار کامیاب ہوئے۔ اس طرح مجموعی طور پر سندھ سے 26 امیدوار وفاقی سروسز میں جگہ بنا سکے۔

دوسری جانب پنجاب سے 104 امیدوار کامیاب قرار پائے، جو سب سے زیادہ تعداد ہے۔ خیبر پختونخوا سے 21 اور بلوچستان سے 10 امیدوار کامیاب ہوئے، جبکہ دیگر علاقوں کی نمائندگی بھی محدود رہی۔

تفصیلات کے مطابق سندھ رورل سے 17 مرد اور 5 خواتین امیدوار تحریری اور انٹرویو مراحل عبور کرنے میں کامیاب ہوئے، جن میں سے زیادہ تر کو سروسز الاٹ کر دی گئیں، تاہم چند امیدوار گروپس حاصل نہ کر سکے۔ سندھ اربن کے تمام کامیاب امیدواروں کو سروسز الاٹ ہو گئیں، لیکن ان کی تعداد کم رہی۔

اہم وفاقی گروپس جیسے پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس (PAS) اور پولیس سروس آف پاکستان (PSP) میں بھی سندھ کی نمائندگی محدود رہی، اگرچہ چند امیدوار ان اہم شعبوں تک رسائی حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے۔

تعلیمی ماہرین کا کہنا ہے کہ سندھ میں تعلیمی سہولیات کی کمی، مقابلے کے امتحانات کی تیاری کے مواقع کا فقدان اور وسائل کی محدود دستیابی ایسے عوامل ہیں جو نتائج کو متاثر کرتے ہیں۔ خاص طور پر دیہی علاقوں کے امیدواروں کو شہری طلبہ کے مقابلے میں زیادہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

دوسری جانب یہ رجحان بھی سامنے آیا ہے کہ خواتین امیدواروں کی کارکردگی مجموعی طور پر بہتر رہی، اور سندھ سے بھی خواتین کی مناسب نمائندگی برقرار رہی، جسے مثبت پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

نتائج کے بعد ایک بار پھر یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ آیا ملک کے تمام صوبوں کو وفاقی ملازمتوں میں یکساں مواقع حاصل ہیں یا نہیں۔ ماہرین کے مطابق سندھ میں تعلیمی نظام اور تیاری کے ڈھانچے کو مزید بہتر بنانے کی ضرورت ہے تاکہ مستقبل میں صوبے کی نمائندگی میں اضافہ ہو سکے۔

مزید خبریں

مقبول ترین خبریں