شیخ حسینہ سے ملاقات، کیا شکیب الحسن کے کیریئر کا خاتمہ کردے گی؟

فہرستِ مضامین

ڈھاکا: بنگلہ دیش کے سابق کپتان اور اسٹار آل راؤنڈر شکیب الحسن کی قومی ٹیم میں واپسی خطرے میں پڑ گئی ہے۔ بنگلہ دیشی حکومت کا کہنا ہے کہ معزول سابق وزیراعظم شیخ حسینہ کے ایک آن لائن پروگرام میں شرکت کے بعد شکیب کے دوبارہ قومی ٹیم کی نمائندگی کرنے کے امکانات تقریباً ختم ہو چکے ہیں۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق شکیب الحسن نے بدھ کے روز نئی دہلی سے ٹیلی فونک رابطے کے ذریعے اس تقریب میں شرکت کی، جہاں شیخ حسینہ نے صحافیوں سے خطاب کیا۔ یہ تقریب ان کے اقتدار سے ہٹائے جانے کے دو سال بعد منعقد ہوئی، جب طلبہ کی قیادت میں ہونے والے احتجاج پر خونریز کریک ڈاؤن کے بعد ان کی حکومت کا خاتمہ ہوا تھا۔

بنگلہ دیش کے وزیر برائے امورِ نوجوانان و کھیل امین الحق نے کہا کہ حکومت اب تک شکیب الحسن کے معاملے میں نرم رویہ اختیار کیے ہوئے تھی، لیکن حالیہ اقدام کے بعد حالات بدل چکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ شکیب کا ایک ایسے رہنما کے ساتھ عوامی طور پر منسلک ہونا، جسے عدالت مفرور مجرم قرار دے چکی ہے، ان کی واپسی کے امکانات کو شدید نقصان پہنچا چکا ہے۔

وزیر کھیل نے کہا، “ہم نے اب تک کافی برداشت کا مظاہرہ کیا، لیکن اب مزید گنجائش باقی نہیں رہی۔ جو شخص ایک آمر کے ساتھ ایک ہی پلیٹ فارم پر کھڑا ہو، اس کے لیے واپسی کا راستہ بہت مشکل ہو جاتا ہے۔”

شکیب الحسن، جو ماضی میں عوامی لیگ کے ٹکٹ پر رکن پارلیمان بھی رہ چکے ہیں، اس وقت سری لنکا میں موجود ہیں۔ ان کا نام ان افراد میں بھی شامل ہے جن کے خلاف گزشتہ برس حکومت مخالف مظاہرین پر پولیس کارروائی کے سلسلے میں قتل کے مقدمات درج کیے گئے تھے۔

39 سالہ شکیب الحسن بنگلہ دیش کی کرکٹ تاریخ کے کامیاب ترین کھلاڑیوں میں شمار ہوتے ہیں۔ وہ 400 سے زائد بین الاقوامی میچ کھیل چکے ہیں اور پانچ ورلڈ کپ میں بنگلہ دیش کی نمائندگی کر چکے ہیں۔

واضح رہے کہ شکیب الحسن نے 2024 میں بین الاقوامی کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا عندیہ دیا تھا، تاہم بعد ازاں انہوں نے مکمل سیریز کھیلنے کے بعد ریٹائر ہونے کی خواہش ظاہر کی۔ رواں سال جنوری میں بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ نے ان کی ممکنہ واپسی کے اشارے دیے تھے، لیکن شیخ حسینہ کے پروگرام میں شرکت کے بعد ان کے خلاف سیاسی اور عوامی ردعمل میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

مزید خبریں

مقبول ترین خبریں