کراچی ( ویب ڈیسک ) سندھ پولیس کی تحقیقاتی کمیٹی نے سینئر صحافی خاور حسین کی موت کو خود کشی قرار دیدیا۔
ڈان نیوز سے وابسطہ سینئر صحافی خاور حسین کی لاش 16 آگسٹ کو سانگھڑ سے ملی تھی، وہ اپنے گاڑی میں مردہ پائے گئے تھے، ان کی کن پٹی پر گولی لگی ہوئی تھی اور ہاتھ میں پسٹل تھا۔
سندھ پولیس کی جانب سے ڈی آئی جی سی ٹی ڈی آزاد کی سربراہی میں ایک تحقیقاتی کمیٹی قائم کی تھی، کمیٹی نے 8 صحفات پر مشتمل تحقیقاتی رپورٹ متعلقہ حکام کو جمع کرادی ہے۔رپورٹ کے مطابق تمام شواہد کو مد نظر رکھتے ہوئے کمیٹی نے خاور حسین کی پراسرار موت کو خودکشی قرار دیدیا ہے۔
تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق کراچی سے لے کر سانگھڑ تک خاور حسین کے سفر میں دستیاب سی سی ٹی وی فوٹیجز، جائے وقوع کا تفصیلی جائزہ لیا گیا، عینی شاہدین کے انٹرویوز بھی کیے گئے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ صحافی خاور حسین کا ہوٹل کی پارکنگ میں داخل ہونے سے خودکشی تک ویڈیوز کا تمام پہلوؤں سے دیکھا گیا، اس کے ساتھ ساتھ پوسٹ مارٹم اور فرانزک رپورٹ کا بھی باریک بینی سے جائزہ لیا گیا۔
خاور حسین کو قتل کرنے کا عنصر مسترد
تحقیقاتی رپورٹ میں بتایا گیا کہ خاور حسین کی گاڑی سانگھڑ میں ریسٹورنٹ کے باہر 2 گھنٹے تک کھڑی رہی، اس دوران کسی بھی شخص کے مرحوم سے ملنے کے شواہد نہیں ملے اور نہ ہی کوئی ان کی گاڑی کے قریب آیا۔
سندھ پولیس کی رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ میڈیکل اور پوسٹ مارٹم رپورٹ میں بھی خودکشی بتایا گیا ہے، جبکہ خاور حسین کی موت 16 اگست (ہفتے) کی رات 9 بج کر 58 منٹ سے 10 بج کر 35 منٹ کے درمیان ہوئی۔
رپورٹ میں مزید بتایا کہ خاور حسین کو قتل کرنے یا پھر حادثاتی طور پر گولی چلنے کے عنصر کو رد کیا گیا ہے، ساتھ ہی رپورٹ میں کہا گیا کہ مرحوم رپورٹر کی خودکشی کی وجوہات جاننے کے لیے اُن کے اہلخانہ کا آگے آنا ضروری ہے۔
خاور حسین اور اہلیہ کے درمیان تعلقات شدید خراب
تحقیقاتی رپورٹ میں صحافیوں اور خاور حسین کے قریبی جاننے والوں کے آف دی ریکارڈ بیانات کا بھ تذکرہ کیا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ متوفی اور ان کی اہلیہ کے درمیان تعلقات شدید خراب چل رہے تھے، اس حوالے مزید تحقیقات کی ضرورت ہے۔
کراچی میں ڈان نیوز کے رپورٹر خاور حسین پراسرار طور پر ہلاک ہوگئے ہیں، ان کی لاش سانگھڑ میں گاڑی سے برآمد ہوئی ہے۔
ڈان نیوز کے مطابق خاور حسین کی لاش حیدرآباد روڈ پر نجی ہوٹل کے باہر گھڑی ان کی ہی گاڑی سے ملی، پولیس نے لاش ہسپتال منتقل کرکے تفتیش شروع کردی ہے۔
پولیس کے مطابق خاور حسین کا تعلق سانگھڑ سے تھا، ان کے سر میں گولی لگی ہوئی تھی.
ڈی آئی جی پولیس نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ پولیس ٹیم ہر پہلو سے تفتیش کر رہی ہے، ابھی کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ واقعہ کیس پیش آیا؟
انہوں نے بتایا کہ جائے وقوعہ سے شواہد جمع کیے جا رہے ہیں، گاڑی سے ملنے والے اسلحہ کو فارنزک لیب بھیجا جائے گا، پوسٹ مارٹم رپورٹ میں ہلاکت کی وجہ معلوم ہو سکے گی۔
ایس ایس پی سانگھڑ عابد علی رضا بلوچ کی نگرانی میں صحافی خاور حسین کا پوسٹ مارٹم کیا گیا، فنگر پرنٹس حاصل کرکے لاش ورثاء کے حوالے کردی گئی ہے۔
صحافی خاور حسین کے والدین امریکا میں مقیم تھے، واقعے کے بعد وہ آج پاکستان کے لیے روانہ ہوں گے، تب تک لاش حیدرآباد سرد خانے میں منتقل کی جائے گی۔
اس سے پہلے کا احوال
سانگھڑ سے تعلق رکھنے والے صحافی محمد علی شر کے مطابق خاور حسین کے واقعے کے بعد جب ریستوران کے عملے سے بات ہوئی تو انہوں نے بتایا کہ خاور حسین ان کچھ دیر کے لیے ان کے ریستوران آئے تھے۔ انہوں نے گاڑی پارک کی، واش استعمال کیا، لیکن پھر اچانک باہر چلے گئے، بعد میں پتہ چلا کے ان کی لاش ریستوران کے سامنے ہی گاڑی سے ملی ہے۔

’ مجھے نہیں لگتا خاور خودکشی کر سکتے ہیں۔‘
خاور حسین کے قریبی دوست آصف رضا زئی بھی مقامی صحافی ہیں، ان کا کہنا تھا کہ خاور جب بھی کراچی سے سانگھڑآتے تھے تو اطلاع دیتے تھے، ہم دونوں ایک دوسرے کے ساتھ وقت گذارتے تھے۔
رضا زئی کے مطابق اس بار خاور حسین کب آئے، کیوں آئے، انہوں نے مجھ سے رابطہ ہی نہیں کیا، ابھی ان کی موت کی خبر ملی ہے، یقین نہیں آ رہا ہے کہ خاور کے ساتھ ایسا ہوگیا
اے آر وائی نیوز کے نمائندہ خصوصی اور خاور حسین کے قریبی دوست سنجے سادھوانی نے بتایا کہ ‘ہم گذشتہ دس برس سے ایک ساتھ رپورٹنگ کر رہے تھے۔ چند روز قبل ہی ہم سندھ پارلیامانی رپورٹرز ایسو سی ایشن کے سٹڈی ٹور پر لاہور اور اسلام آباد گئے تھے، وہ ایک خوش مزاج اور زندہ دل شخص تھے، مجھے نہیں لگتا کہ وہ خودکشی کر سکتے ہیں، اس معاملے پر مکمل اور شفاف تحقیقات ہونی چاہیے۔
’ کسی قابل افسر سے تفتیش کروائیں ‘
وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے صحافی خاور حسین کی غیر طبعی موت کا نوٹس لیا ہے، ترجمان کے مطابق وزیر اعلیٰ نے آئی جی پولیس سے رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے واقعے کی بہترین افسر کو تفتیش سونپنے کا حکم دیا ہے۔
مراد علی شاہ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ صحافی خاور حسین کی موت پر دکھ ہوا، پولیس تحقیقات کرکے پتہ لگائے کہ موت کی اصل وجہ کیا تھی؟
گورنر سندھ کامران ٹسوری نے سینئر صحافی و اینکرپرسن خاور حسین کے قتل پر گھرے رنج کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ خاور حسین کا قتل صحافت اور معاشرے کے لیے بڑا سانحہ ہے، قتل کی مکمل اور شفاف تحقیقات کے لیے متعلقہ اداروں کو ہدایت جاری کردی ہیں۔
گورنر سندھ نے کہا کہ صحافی خاور حسین کے واقعے کی مکمل تحقیات کے بعد اصل مجرمان کو قانون کے کٹھرے میں لایا جائے۔
’ خاور حسین میرے قریبی رفقا میں سے تھے ‘
وزیر داخلہ قانون و پارلیمانی امور سندھ ضیا الحسن لنجار نے واقعہ کی مکمل تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ انہوں نے ایس ایس پی سانگھڑ کو ہدایت کی ہے کہ تمام پھلوؤں سے انکوائری کریں، واقعہ کی شفاف تحقیقات کرکے رپورٹ پیش کی جائے۔
سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے صحافی خاور حسین نے انتقال پر اظہار تعزیت کیا ہے، انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ خاور حسین نہ صرف ایک پروفیشنل صحافی تھے بلکہ میرے قریبی رفقا میں سے بھی تھے، ان کا اچانک انتقال ناقابلِ تلافی نقصان ہے۔
شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ صحافی خاور حسین کے لواحقین کی ہر ممکن مدد کی جائے گی، انہیں اس مشکل گھڑی میں تنہا نہیں چھوڑیں گے۔
دوسری جانب اپوزیشن لیڈر سندھ علی خورشیدی کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ خاور حسین کی صحافت میں خدمات ناقابل فراموش ہیں، اللہ پاک مرحوم کی مغفرت اور بلند درجات عطاء فرمائے، لواحقین کے دکھ میں برابر کے شریک ہیں، حکومت سندھ واقعے کی شفاف انکوائری کرے۔
کراچی پریس کلب اور صحافتی تنظیموں کا تحقیقات کا مطالبہ
کراچی پریس کلب نے اپنے رکن اور ڈان نیوز کے رپورٹر خاور حسین کے انتقال پر گھرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سندھ سے واقعے کی فوری اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
صدر فاضل جمیل، سیکریٹری سہیل افضل خان اور مجلسِ عاملہ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ خاور حسین کی لاش سانگھڑ سے ان کی گاڑی سے برآمد ہونا انتہائی افسوس ناک واقعہ ہے، اس واقعے نے پوری صحافی برادری کو صدمے میں مبتلا کردیا ہے۔
کراچی یونین آف جرنلسٹس دستور نے بھی واقعے پر اظہار افسوس کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ سندھ اور وزیر داخلہ سندھ سے خاور کی موت کی شفاف تحقیقات کے لیے اعلیٰ سطح کمیٹی بنانے اور واقعے کے حقائق سامنے لانے کا مطالبہ کیا ہے۔
کے یو جے (دستور) کے صدر نصر اللہ چودھری اور سیکریٹری ریحان خان چشتی نے صحافی خاور حسین کے لواحقین سے رابطہ کرکے انہیں ہر قسم کی معاونت کی یقین دہانی کروائی ہے۔
کرائم رپورٹرز ایسو سی ایشن نے بھی واقعے پر گھرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔