آزاد جموں و کشمیر کے انتخابات کے نتائج کے بعد پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے درمیان سیاسی کشیدگی میں اضافہ ہو گیا ہے۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے انتخابات میں مبینہ دھاندلی کے الزامات عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ 2024 کے عام انتخابات کا منظر آزاد کشمیر میں بھی دہرایا گیا، جبکہ مسلم لیگ (ن) نے ان الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔
اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شرجیل میمن نے دعویٰ کیا کہ وفاق اور پنجاب کی حکومت نے مل کر پیپلز پارٹی کو شکست دینے کے لیے انتخابی عمل پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی۔ ان کے مطابق جو صورتحال 8 فروری 2024 کے عام انتخابات میں دیکھنے کو ملی تھی، اسی طرز کا عمل آزاد کشمیر کے انتخابات میں بھی نظر آیا۔
انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کی حکومت عوامی مینڈیٹ کے بجائے متنازع انتخابی نتائج کے ذریعے اقتدار میں آئی ہے۔ ان کے بقول وفاقی وزراء کی حالیہ پریس کانفرنس میں بھی کسی قسم کی ندامت دکھائی نہیں دی بلکہ اس میں تکبر اور غرور نمایاں تھا۔
شرجیل میمن نے مزید کہا کہ میرپور ڈویژن سمیت مختلف حلقوں میں انتخابی بے ضابطگیوں کی شکایات الیکشن کمیشن کو جمع کرائی گئیں، تاہم ان پر کوئی مؤثر کارروائی نہیں کی گئی۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ انتخابی عمل میں مبینہ دھاندلی کے باوجود اسے تسلیم کرنے کے بجائے اس کا دفاع کیا جا رہا ہے۔
سندھ کے سینئر وزیر نے واضح کیا کہ پاکستان پیپلز پارٹی اپنا مؤقف شائستگی اور قانونی طریقے سے پیش کرے گی اور متعلقہ آئینی و قانونی فورمز پر معاملہ اٹھایا جائے گا۔