فرانس میں حالیہ ریکارڈ توڑ گرمی کی لہر نے انسانی جانوں پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں، جہاں حکام نے انکشاف کیا ہے کہ شدید موسم کے باعث معمول سے تقریباً ایک ہزار زیادہ افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔
فرانسیسی ادارہ صحت “پبلک ہیلتھ فرانس” کے مطابق 24 جون سے اب تک ملک بھر میں اموات کی شرح میں غیرمعمولی اضافہ دیکھا گیا ہے۔ ابتدائی اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ گزشتہ برسوں کے اسی عرصے کے مقابلے میں تقریباً ایک ہزار اضافی اموات ریکارڈ کی گئی ہیں، جن کا تعلق بڑی حد تک شدید گرمی سے جوڑا جا رہا ہے۔
ادارے کے مطابق سب سے زیادہ متاثر وہ علاقے رہے جہاں گرمی کے حوالے سے اعلیٰ ترین سطح کا ریڈ الرٹ نافذ کیا گیا تھا۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ ہلاک ہونے والوں میں 65 سال یا اس سے زائد عمر کے افراد کی تعداد تقریباً 85 فیصد رہی، جس سے بزرگ شہریوں کی موسمی خطرات کے سامنے کمزوری واضح ہوتی ہے۔
حکام نے یہ بھی بتایا کہ گھروں میں انتقال کر جانے والے افراد کی تعداد میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا، خاص طور پر پیرس اور اس کے گردونواح پر مشتمل الی-ڈی-فرانس کے علاقے میں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ تنہا رہنے والے اور سماجی طور پر الگ تھلگ افراد شدید گرمی کے دوران زیادہ خطرے سے دوچار ہوتے ہیں۔
محکمہ صحت نے خبردار کیا ہے کہ شہری علاقوں میں رہنے والے بزرگ اور تنہا افراد کے تحفظ کے لیے خصوصی اقدامات ناگزیر ہیں تاکہ مستقبل میں ایسے سانحات سے بچا جا سکے۔
حکام کے مطابق موجودہ اعداد و شمار ابھی حتمی نہیں ہیں اور مزید معلومات سامنے آنے کے بعد اموات کی تعداد میں اضافے کا امکان بھی موجود ہے۔
یاد رہے کہ گزشتہ چند روز کے دوران فرانس کے مختلف علاقوں میں درجہ حرارت 40 ڈگری سینٹی گریڈ سے تجاوز کر گیا تھا، تاہم اتوار کے روز موسم میں کچھ بہتری دیکھی گئی اور ملک کے بیشتر حصوں میں گرمی کی شدت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔