تحریر و ترتیب: اِشفاق احمد
ایران اور لبنان میں جاری جنگ بندیوں نے ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے، جہاں ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ معاہدے اسرائیل کی بجائے امریکہ کی جانب سے “مسلط” کیے گئے دکھائی دیتے ہیں، جو تل ابیب کے لیے باعثِ بے چینی بن رہے ہیں۔
اس وقت اسرائیل بیک وقت ایران اور لبنان میں دو نیم منجمد تنازعات میں گھرا ہوا ہے، لیکن تجزیہ کاروں کے مطابق ان تنازعات کا انجام اسرائیلی قیادت نہیں بلکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ طے کریں گے۔
امریکی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کُشنر ایک اور مذاکراتی دور کے لیے پاکستان جا رہے ہیں، جبکہ اسرائیل کو اس عمل سے عملاً باہر رکھا گیا ہے۔ دوسری جانب ٹرمپ نے لبنان میں جنگ بندی میں تین ہفتوں کی توسیع کا اعلان بھی کیا، حالانکہ اسرائیل اس جنگ بندی کی کئی بار خلاف ورزی کر چکا ہے۔ اس کے باوجود ماہرین کا کہنا ہے کہ خطے میں اصل اثر و رسوخ اب بھی واشنگٹن کے پاس ہے، نہ کہ اسرائیل کے پاس۔
نیتن یاہو کی حکمت عملی پر سوالات
اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو طویل عرصے سے ایران اور حزب اللہ کو اسرائیل کے لیے “وجودی خطرہ” قرار دیتے رہے ہیں، اور انہوں نے اسی نوعیت کی جنگ کی وکالت بھی کی تھی جو بالآخر فروری میں شروع ہوئی۔
تاہم اب اس جنگ کا اختتام ان کے کنٹرول سے باہر دکھائی دیتا ہے، جس پر اسرائیلی عوام میں تشویش بڑھ رہی ہے۔ نیتن یاہو نے عوام سے ایران کے نظام کے خاتمے اور حزب اللہ کے مکمل غیر مسلح ہونے کے وعدے کیے تھے، جو تاحال پورے ہوتے نظر نہیں آتے۔
سابق اسرائیلی مشیر ڈینیئل لیوی کے مطابق نیتن یاہو نے امریکہ کو ایران اور لبنان کے معاملے پر اپنی مرضی کے مطابق چلانے کی کوشش کی، جو کسی حد تک موقع پرستانہ بھی تھی۔ ان کے بقول نیتن یاہو کو یہ یقین ہونے لگا تھا کہ اسرائیل اور امریکہ مل کر خطے کی نئی ترتیب تشکیل دے سکتے ہیں، جو حقیقت میں ممکن نہ ہو سکا۔
اسرائیل میں جنگ کے حق میں رائے
دلچسپ بات یہ ہے کہ اسرائیل کے اندر عوامی سطح پر جنگ کے حق میں جذبات اب بھی مضبوط ہیں۔ ایک حالیہ سروے کے مطابق زیادہ تر یہودی اسرائیلی ایران اور لبنان کے خلاف کارروائیاں جاری رکھنے کے حامی ہیں، چاہے اس سے امریکہ کے ساتھ تعلقات میں کشیدگی ہی کیوں نہ پیدا ہو۔
اسی طرح ایران کے ساتھ جنگ بندی بھی اسرائیل میں غیر مقبول ثابت ہوئی ہے، جہاں دو تہائی افراد اس وقفے کے خلاف ہیں۔
امریکی-اسرائیلی تجزیہ کار ڈاہلیا شائنڈلن کے مطابق اسرائیلی معاشرے میں ایک وسیع تصور پایا جاتا ہے کہ “تمام دشمن ان کے خلاف ہیں”، جس کے باعث ایران اور لبنان دونوں کو ایک ہی خطرے کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔
امریکہ کا بڑھتا اثر
ماہرین کے مطابق موجودہ صورتحال میں امریکہ واضح طور پر مضبوط فریق ہے، اور حتمی فیصلے وہی کر رہا ہے۔ اسرائیل کا اثر و رسوخ ضرور ہے، مگر آخری فیصلہ واشنگٹن کے ہاتھ میں ہے، اور یہی احساس اب اسرائیلی معاشرے میں بھی مضبوط ہو رہا ہے۔
حکومت پر تنقید میں اضافہ
لبنان جنگ بندی کے اعلان کے بعد اسرائیلی اپوزیشن رہنماؤں نے بھی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ اپوزیشن لیڈر یائر لاپید نے کہا کہ ایک بار پھر حکومت کے وعدے حقیقت کے سامنے ناکام ہو گئے۔
سابق سفارتکار الون پنکاس کے مطابق موجودہ صورتحال اسرائیل کے لیے ایک “اسٹریٹجک شکست” کے مترادف ہے، کیونکہ ایران کا نظام اب بھی قائم ہے اور اس کی فوجی طاقت بھی برقرار ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ٹرمپ کے لیے یہ اہم نہیں کہ نیتن یاہو کو سیاسی طور پر کیا نقصان ہوتا ہے، کیونکہ ان کی ترجیح ایران کے ساتھ معاہدہ کرنا ہے چاہے اس میں اسرائیل کو نقصان ہی کیوں نہ اٹھانا پڑے۔
مجموعی طور پر تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ خطے میں طاقت کا توازن تبدیل ہو رہا ہے، جہاں اسرائیل کے بجائے امریکہ مرکزی کردار ادا کر رہا ہے، اور یہی تبدیلی آنے والے دنوں میں مشرق وسطیٰ کی سیاست کا رخ متعین کر سکتی ہے۔