لارڈز ٹیسٹ: پاکستان کی پلیئنگ الیون میں اہم تبدیلیوں کا امکان

فہرستِ مضامین

ہیڈنگلے لیڈز ٹیسٹ میں انگلینڈ کے ہاتھوں اننگز اور 103 رنز کی شکست کے بعد قومی ٹیم کی پلیئنگ الیون میں تبدیلیوں کے حوالے سے قیاس آرائیاں تیز ہوگئی ہیں۔ ذرائع کے مطابق لارڈز میں کھیلے جانے والے دوسرے ٹیسٹ کے لیے پاکستان نے سینئر کھلاڑیوں محمد رضوان اور سلمان علی آغا کو ٹیم میں برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق 46 ٹیسٹ میچز کا تجربہ رکھنے والے 34 سالہ محمد رضوان ایک بار پھر وکٹ کیپنگ کی ذمہ داریاں سنبھالیں گے، جبکہ 28 ٹیسٹ کھیلنے والے سلمان علی آغا بھی 11 رکنی ٹیم کا حصہ ہوں گے۔

اس سے قبل یہ قیاس کیا جارہا تھا کہ محمد رضوان کی جگہ غازی غوری کو ٹیسٹ ڈیبیو کا موقع دیا جاسکتا ہے، جبکہ لیڈز ٹیسٹ میں بابر اعظم کی غیر موجودگی میں کپتانی کرنے والے سلمان علی آغا کو بھی ڈراپ کیے جانے کا امکان ظاہر کیا جارہا تھا۔

تاہم بابر اعظم کی ٹیم میں واپسی کے بعد 30 سالہ سعود شکیل کو پلیئنگ الیون سے باہر کیے جانے کا امکان ہے۔ سعود شکیل نے لیڈز ٹیسٹ میں بالترتیب 5 اور 14 رنز بنائے تھے۔

دوسرے ٹیسٹ کے لیے اسپن باؤلنگ کے شعبے میں بھی صورتحال دلچسپ ہے۔ لیڈز میں علی عثمان نے 95 رنز دے کر 5 وکٹیں حاصل کی تھیں، جس کے بعد امکان تھا کہ پاکستان ساجد خان کو دوسرے اسپنر کے طور پر میدان میں اتارے گا۔

تاہم کپتان بابر اعظم کے مطابق علی عثمان کے ساتھ دوسرے اسپنر کے طور پر سلمان علی آغا ان کی پہلی ترجیح ہیں، جس سے ساجد خان کی پلیئنگ الیون میں شمولیت کے امکانات کم ہوگئے ہیں۔

دوسری جانب ٹیم میں ایک اور تبدیلی کا امکان بھی موجود ہے۔ ویسٹ انڈیز کے خلاف پورٹ آف اسپین، ٹرینیڈاڈ میں ٹیسٹ ڈیبیو کرنے والے عبید شاہ کو خرم شہزاد کی جگہ کھلانے پر غور کیا جارہا ہے۔

یوں لارڈز ٹیسٹ میں بابر اعظم کی واپسی کے ساتھ پاکستان کی ٹیم میں کم از کم ایک بڑی تبدیلی متوقع ہے، جبکہ سعود شکیل کی جگہ خالی ہونے سے بیٹنگ لائن اپ کی ترتیب بھی تبدیل ہوسکتی ہے۔

مزید خبریں

مقبول ترین خبریں