لاہور: کیا سے کیا ہوگیا دیکھتے دیکھتے؟

فہرستِ مضامین

لاہور: صوبائی دارالحکومت لاہور میں ہونے والی شدید موسلا دھار بارش نے شہر کا معمول زندگی بری طرح متاثر کر دیا۔ ایک ہی اسپیل کے دوران ریکارڈ 263 ملی میٹر بارش ہونے سے متعدد علاقے زیرِ آب آگئے، اہم شاہراہیں تالاب کا منظر پیش کرنے لگیں اور ٹریفک کا نظام درہم برہم ہو گیا۔

ترجمان واسا کے مطابق سب سے زیادہ بارش لاہور ائیرپورٹ کے علاقے میں 263 ملی میٹر ریکارڈ کی گئی۔ اس کے علاوہ تاج پورہ میں 157.4، کاہنہ میں 143، شادی پورہ میں 136، مغل پورہ میں 133، مال روڈ پر 116، مناواں میں 112.2، جوہر ٹاؤن میں 81 جبکہ چوک ناخدا میں 64.6 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔

شدید بارش کے باعث شہر کی متعدد سڑکوں اور انڈر پاسز میں کئی کئی فٹ پانی جمع ہوگیا، جس سے گاڑیوں اور موٹرسائیکلوں کی بڑی تعداد پانی میں پھنس گئی۔ ٹریفک کی روانی شدید متاثر ہوئی اور شہریوں کو گھنٹوں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی (ڈی ایچ اے) کے مختلف علاقوں میں پانی اس قدر جمع ہوگیا کہ بعض مقامات پر کشتیوں کے ذریعے آمدورفت کی ویڈیوز بھی سامنے آئیں، جبکہ ایک انڈر پاس میں پانی چھت تک پہنچ گیا۔ اسی صورتحال کے باعث ہربنس پورہ انڈر پاس کو ٹریفک کے لیے بند کرنا پڑا۔

دوسری جانب تاج پورہ اور اس سے ملحقہ آبادیوں میں بارش کا پانی گھروں میں داخل ہوگیا، جس کے باعث شہری شدید پریشانی سے دوچار رہے۔ صحافی کالونی، کینال روڈ، جلو پارک، میڈیکل اسکیم، تاج پورہ اسکیم اور دیگر نشیبی علاقوں میں کئی کئی فٹ پانی جمع ہونے سے معمولات زندگی متاثر رہے۔

بارش کے دوران مختلف حادثات بھی پیش آئے۔ کاہنہ کے قریب فیروزپور روڈ پر پھسلن کے باعث ایک موٹرسائیکل بے قابو ہو کر بجلی کے کھمبے سے ٹکرا گئی، جس کے نتیجے میں دو سگے بھائی جاں بحق ہوگئے۔

ادھر ڈی ایچ اے فیز فور میں ایک گھر کی ٹی آر گارڈر سے بنی چھت گرنے سے چار افراد زخمی ہوگئے، جنہیں طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کر دیا گیا۔

شہر میں بارش کے بعد واسا اور ضلعی انتظامیہ نے نشیبی علاقوں سے پانی نکالنے کے لیے ہنگامی آپریشن شروع کر دیا ہے، جبکہ شہریوں کو غیر ضروری سفر سے گریز اور احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

مزید خبریں

مقبول ترین خبریں