لکی مروت دھماکے سے لرز اٹھا، خودکش حملے میں 9 افراد جاں بحق، درجنوں زخمی

فہرستِ مضامین

خیبر پختونخوا کے ضلع لکی مروت میں ایک خوفناک خودکش دھماکے نے علاقے کو ہلا کر رکھ دیا، جہاں بارود سے بھری تین پہیوں والی گاڑی میں سوار حملہ آور نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔ افسوسناک واقعے میں کم از کم 9 افراد جان کی بازی ہار گئے جبکہ 37 سے زائد زخمی ہوگئے۔

یہ حملہ تحصیل سرائے نورنگ کے مصروف مرکزی بازار اور پھاٹک کے قریب پیش آیا، جہاں اچانک زور دار دھماکے سے ہر طرف افراتفری پھیل گئی۔ عینی شاہدین کے مطابق دھماکے کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ قریبی دکانیں اور گاڑیاں بھی تباہ ہوگئیں، جبکہ لوگ جان بچانے کے لیے ادھر اُدھر بھاگتے رہے۔

ریسکیو 1122 حکام کے مطابق زخمیوں کو فوری طور پر قریبی ہسپتالوں اور بعد ازاں بنوں کے طبی مراکز منتقل کیا گیا۔ ٹی ایچ کیو ہسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر محمد اسحاق نے بتایا کہ کئی زخمیوں کی حالت تشویشناک ہے، جس کے باعث ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ موجود ہے۔

پولیس کے سینئر افسر محمد سجاد خان کے مطابق ابتدائی تحقیقات سے ظاہر ہوتا ہے کہ حملہ آور نے چیک پوسٹ کے قریب موجود ٹریفک اہلکاروں کو نشانہ بنایا۔ سکیورٹی اداروں نے واقعے کے بعد پورے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کردیا ہے۔

یہ خونریز حملہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب چند روز قبل قریبی ضلع بنوں میں بھی ایک خودکش کار بم دھماکے اور فائرنگ کے نتیجے میں کم از کم 15 افراد مارے گئے تھے۔ مسلسل حملوں کے بعد علاقے میں خوف و ہراس کی فضا مزید گہری ہوگئی ہے۔

دوسری جانب پاکستان نے حالیہ حملوں کے بعد افغانستان سے متعلق اپنے تحفظات مزید سخت کردیے ہیں۔ دفتر خارجہ نے اسلام آباد میں تعینات افغان سفارتکار کو طلب کرکے احتجاج ریکارڈ کرایا، جبکہ پاکستانی حکام کا دعویٰ ہے کہ بعض حملوں کی منصوبہ بندی افغانستان میں موجود شدت پسند عناصر نے کی۔

افغان طالبان حکومت ان الزامات کو مسلسل مسترد کرتی آرہی ہے اور کہتی ہے کہ افغان سرزمین کسی بھی ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دی جائے گی۔ تاہم دونوں ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اب سرحدی جھڑپوں اور فضائی کارروائیوں تک جا پہنچی ہے، جس سے خطے کی صورتحال مزید حساس ہوتی جارہی ہے۔

مزید خبریں

مقبول ترین خبریں