پاکستان کے وزیر داخلہ محسن نقوی بدھ کے روز تہران پہنچ گئے جہاں وہ امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی میں ممکنہ ثالثی کے حوالے سے ایرانی حکام سے مذاکرات کریں گے۔
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق ایرانی نیم سرکاری خبر ایجنسی تسنیم نے تصدیق کی ہے کہ محسن نقوی کا یہ دورہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور سفارتی کوششوں کے تناظر میں کیا جا رہا ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے دوبارہ حملے کیے گئے تو مشرق وسطیٰ کی جنگ خطے سے باہر بھی پھیل سکتی ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ ’’اگر ایران کے خلاف جارحیت دہرائی گئی تو اس بار یہ جنگ صرف علاقائی نہیں رہے گی اور ہمارے تباہ کن حملے دشمن کو شدید نقصان پہنچائیں گے۔‘‘
دوسری جانب امریکہ کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی منگل کے روز خبردار کیا تھا کہ اگر کسی معاہدے تک نہ پہنچا گیا تو ایران کے خلاف دوبارہ فوجی کارروائی کا امکان موجود ہے۔
خطے میں بڑھتی ہوئی لفظی کشیدگی اور دھمکیوں کے تبادلے نے صورتحال کو مزید حساس بنا دیا ہے، جبکہ فریقین کے درمیان پہلے سے موجود جنگ بندی کے باوجود اعتماد کا بحران برقرار ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ حالات میں ثالثی کی کوششیں انتہائی اہمیت اختیار کر چکی ہیں، تاہم بڑھتے ہوئے بیانات اور دھمکیوں نے سفارتی عمل کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔