مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان اہم ٹیلیفونک رابطہ ہوا، جس میں خطے کی موجودہ صورتحال، جنگ بندی کی کوششوں اور سفارتی حل کو آگے بڑھانے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
سعودی عرب کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ایس پی اے کے مطابق ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے گفتگو کے دوران اس بات پر زور دیا کہ خطے میں مزید کشیدگی کسی کے مفاد میں نہیں، اس لیے تمام فریقوں کو مذاکرات اور سفارت کاری کو ترجیح دینی چاہیے۔ انہوں نے جنگ بندی کے لیے ہر ممکن کوشش جاری رکھنے اور تنازع کے پرامن حل کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
دوسری جانب امریکی خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق یہ رابطہ ایسے وقت میں ہوا جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف ممکنہ نئے فوجی حملے کا منصوبہ مؤخر کرنے کا اعلان کیا ہے۔
صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا بیان میں دعویٰ کیا کہ مشرقِ وسطیٰ کے اہم اتحادی کئی ماہ سے جاری جنگ کے خاتمے کے لیے ایک ابتدائی فریم ورک پر متفق ہو چکے ہیں۔ ان کے مطابق مجوزہ معاہدے میں آبنائے ہرمز کو فوری، مکمل اور بلا رکاوٹ کھولنے کے ساتھ ساتھ ایران کے جوہری پروگرام سے پیدا ہونے والے خدشات کے خاتمے کو بھی شامل کیا گیا ہے۔
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ انہیں معاہدے کو کامیاب بنانے کی یقین دہانی کرائی گئی ہے، اسی بنیاد پر انہوں نے ایران پر مجوزہ حملہ مؤخر کرنے کا فیصلہ کیا تاکہ سفارتی کوششوں کو موقع دیا جا سکے۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ اسرائیل نے بھی امریکہ کے ساتھ مل کر ایسے معاہدے کو حتمی شکل دینے پر آمادگی ظاہر کی ہے، جس سے خطے میں جاری جنگ کا خاتمہ ممکن بنایا جا سکے۔
تاہم ایران کی جانب سے صدر ٹرمپ کے ان دعوؤں یا مجوزہ معاہدے پر فوری طور پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، جس کے باعث آئندہ پیش رفت پر غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔
صدر ٹرمپ کا تازہ اعلان اس لیے بھی اہم قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ اس سے صرف ایک روز قبل انہوں نے عندیہ دیا تھا کہ اگر ایران مذاکرات پر آمادہ نہ ہوا تو امریکہ دوبارہ سخت فوجی کارروائی پر غور کر سکتا ہے۔
یاد رہے کہ ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی کا موجودہ مرحلہ 28 فروری کو امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد شدت اختیار کر گیا تھا۔ واشنگٹن کا مؤقف تھا کہ ان کارروائیوں کا مقصد ایران کی میزائل صلاحیت کو محدود کرنا اور اسے جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا ہے، تاہم وقت گزرنے کے ساتھ اس تنازع کے اہداف اور نوعیت میں بھی تبدیلی آتی رہی۔
اس دوران جون میں دونوں فریقوں کے درمیان عارضی جنگ بندی کا معاہدہ بھی طے پایا تھا، مگر وہ چند ہی ہفتوں بعد ختم ہو گیا اور کشیدگی دوبارہ بڑھ گئی۔
دوسری جانب ایران نے بھی آبنائے ہرمز سے گزرنے والے متعدد بحری جہازوں کو نشانہ بنایا، جن کے بارے میں اس کا مؤقف تھا کہ وہ اس کی اجازت کے بغیر حساس سمندری راستے سے گزرنے کی کوشش کر رہے تھے۔
ادھر امریکی محکمہ خارجہ نے خطے میں موجود امریکی شہریوں کے لیے نئی سکیورٹی ہدایات جاری کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کی غیر یقینی صورتحال کے باعث پروازوں کی منسوخی، فضائی حدود کی عارضی بندش اور سفری نظام میں اچانک رکاوٹیں پیدا ہو سکتی ہیں، اس لیے شہری احتیاط برتیں اور اپنی سفری منصوبہ بندی پر مسلسل نظر رکھیں۔