مراد علی شاہ اور حنیف عباسی کی ملاقات، سندھ میں ریلوے کیلئے اہم فیصلے

فہرستِ مضامین

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ اور وفاقی وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی کے درمیان ملاقات میں سندھ میں ریلوے خدمات کی توسیع، جدید کاری اور حفاظتی اقدامات کو تیز کرنے پر اتفاق کیا گیا ہے۔

وزیراعلیٰ ہاؤس کراچی میں ہونے والی ملاقات میں معطل ٹرین سروسز کی بحالی، برانچ ریلوے روٹس کو ڈیزل ملٹی پل یونٹس (ڈی ایم یوز) کے ذریعے اپ گریڈ کرنے، ریلوے پھاٹکوں کو محفوظ بنانے، زیرِ التوا انفرااسٹرکچر منصوبوں کی منظوریوں میں تیزی اور پاکستان ریلوے کی اراضی کو تجاوزات سے محفوظ بنانے سمیت مختلف امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

ملاقات کے دوران وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے موئن جو دڑو ایکسپریس کی فوری بحالی پر زور دیا اور کہا کہ ٹرین سروس معطل ہونے سے متعلقہ علاقوں کے عوام کو مشکلات کا سامنا ہے۔ وفاقی وزیر ریلوے حنیف عباسی نے یقین دہانی کرائی کہ موئن جو دڑو ایکسپریس ستمبر تک بحال کردی جائے گی۔

اجلاس میں سندھ بھر کے 100 بغیر عملے والے ریلوے پھاٹکوں کو اپ گریڈ کرکے عملے والے پھاٹکوں میں تبدیل کرنے کے منصوبے پر بھی غور کیا گیا۔ حکام کے مطابق اس منصوبے کی تخمینی لاگت 5 ارب 91 کروڑ 30 لاکھ روپے ہے اور اسے مالی سال 2026-27 اور 2027-28 کے دوران مکمل کرنے کا منصوبہ ہے۔

مراد علی شاہ نے کہا کہ ریلوے سیفٹی کو اولین ترجیح دی جانی چاہیے اور حادثات کے خطرات کم کرنے کے لیے حفاظتی منصوبوں پر بلا تاخیر عملدرآمد ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریلوے پھاٹک استعمال کرنے والے ڈرائیوروں، پیدل چلنے والوں اور مسافروں کا تحفظ مشترکہ ذمہ داری ہے، جس کے لیے سندھ حکومت ہر ممکن تعاون فراہم کرے گی۔

وفاقی وزیر ریلوے نے بھی منصوبے پر مکمل تعاون کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ وزارت ریلوے سندھ حکومت کے ساتھ مل کر حفاظتی اقدامات کو آگے بڑھائے گی۔

ملاقات میں سندھ حکومت کے ان سڑکوں اور انفرااسٹرکچر منصوبوں کا بھی جائزہ لیا گیا جو ریلوے سے متعلق این او سیز، منظوریوں یا ریلوے شٹ ڈاؤن شیڈول کے منتظر ہیں۔

ان منصوبوں میں حیدرآباد-میرپورخاص روڈ کے ساتھ 9.66 کلومیٹر طویل ٹنڈوجام بائی پاس، دو اوورہیڈ پلوں کی تعمیر، ٹنڈوالہیار ناردرن بائی پاس پر پلوں کی تعمیر، 31.40 کلومیٹر طویل ٹنڈوالہیار-ٹنڈوآدم روڈ کو دو رویہ کرنا، لاڑکانہ میں دو ریلوے انڈر پاسز کی توسیع اور سکھر میں گڈانی پھاٹک پر اوورہیڈ پری اسٹریسڈ پل کی تعمیر شامل ہیں۔

وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ ریلوے سے متعلق منظوریوں میں تاخیر کے باعث اہم عوامی ترقیاتی منصوبے متاثر ہو رہے ہیں۔ انہوں نے وفاقی وزیر سے زیرِ التوا این او سیز کے اجرا کا عمل تیز کرنے کی درخواست کی۔

حنیف عباسی نے یقین دہانی کرائی کہ وزارت ریلوے کے پاس زیرِ التوا تمام این او سیز جلد جاری کیے جائیں گے تاکہ سندھ حکومت اپنے ترقیاتی منصوبوں پر کام آگے بڑھا سکے۔

ملاقات میں پاکستان ریلوے کی اراضی پر تجاوزات کا معاملہ بھی زیرِ بحث آیا۔ وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے یقین دلایا کہ سندھ حکومت ریلوے کی زمین واگزار کرانے اور اس کے تحفظ کے لیے ضلعی انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ذریعے مکمل تعاون کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ ریلوے کی اراضی قومی اثاثہ ہے اور اس کا تحفظ ضروری ہے۔ وفاقی وزیر نے سندھ حکومت کے تعاون کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان ریلوے صوبائی حکام کے ساتھ مل کر اپنی اراضی اور املاک کے تحفظ کے لیے اقدامات کرے گا۔

دونوں رہنماؤں نے سندھ کے برانچ ریلوے روٹس پر ڈیزل ملٹی پل یونٹس متعارف کرانے کے امکان پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ وزیراعلیٰ نے پنجاب میں ریلوے رابطوں کی بہتری کے لیے کیے گئے اقدامات کی طرز پر سندھ میں بھی جدید ماڈل اپنانے کی تجویز دی۔

مراد علی شاہ نے کہا کہ سندھ کے مختلف علاقوں کے عوام کو سستی، قابل اعتماد اور مؤثر سفری سہولیات کی ضرورت ہے۔ ڈی ایم یوز کے ذریعے برانچ روٹس کو بہتر بنا کر چھوٹے شہروں کو بڑے شہری مراکز سے منسلک کیا جاسکتا ہے۔

وفاقی وزیر نے یقین دلایا کہ پاکستان ریلوے مجوزہ برانچ روٹس کا جائزہ لے کر قابل عمل منصوبوں پر سندھ حکومت کے ساتھ مل کر کام کرے گا۔

ملاقات میں روہڑی ریلوے اسٹیشن کی اپ گریڈیشن کا بھی جائزہ لیا گیا۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ روہڑی ایک اہم ریلوے جنکشن ہے، اس لیے یہاں مسافروں کو بہتر سہولیات فراہم کرنا ضروری ہے۔ حنیف عباسی نے بتایا کہ روہڑی ریلوے اسٹیشن کی اپ گریڈیشن کا کام دسمبر تک مکمل کرلیا جائے گا۔

کراچی کینٹ سے جمعہ گوٹھ کے درمیان ریلوے ٹریک کے ساتھ گرین بیلٹس اور شجرکاری کے منصوبے پر بھی گفتگو ہوئی۔ وزیراعلیٰ نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ پاکستان ریلوے کے تعاون سے شجرکاری کا منصوبہ مکمل کیا جائے اور گرین بیلٹس کی مناسب دیکھ بھال یقینی بنائی جائے۔

ملاقات کے اختتام پر دونوں فریقوں نے سندھ میں ریلوے رابطوں کو بہتر بنانے، مسافروں کی سہولیات میں اضافہ، ریلوے پھاٹکوں کو محفوظ بنانے، ریلوے اراضی کے تحفظ اور انفرااسٹرکچر منصوبوں کو بروقت مکمل کرنے کے لیے مسلسل رابطہ برقرار رکھنے پر اتفاق کیا۔

مزید خبریں

مقبول ترین خبریں