عاصم منیر نے کہا ہے کہ گزشتہ برس آج کے دن پاکستان نے صرف عسکری میدان میں کامیابی حاصل نہیں کی بلکہ دنیا بھر میں اپنے وقار، طاقت اور سفارتی اہمیت کو بھی مزید مضبوط بنایا۔
جی ایچ کیو راولپنڈی میں منعقدہ “معرکہِ حق” کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے فیلڈ مارشل عاصم منیر نے کہا کہ دشمن یہ سمجھ رہا تھا کہ وہ طاقت کا توازن اپنے حق میں بدل دے گا، مگر اسے اندازہ نہیں تھا کہ پاکستان نہ کبھی دباؤ کے سامنے جھکا ہے اور نہ آئندہ جھکے گا۔
انہوں نے کہا کہ یہ کامیابی پوری قوم کے لیے باعثِ فخر ہے اور آنے والی نسلیں بھی اس فتح کو یاد رکھیں گی۔ ان کے بقول یہ صرف دو ممالک کے درمیان جنگ نہیں تھی بلکہ دو نظریات کا ٹکراؤ تھا، جس میں سچ اور حق کی فتح ہوئی۔
فیلڈ مارشل نے کہا کہ گزشتہ برس دشمن نے پاکستان کے قومی وقار کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی، تاہم افواجِ پاکستان نے بھرپور جواب دے کر تمام عزائم ناکام بنا دیے۔ انہوں نے واضح کیا کہ مئی میں ہونے والا معرکہ اچانک پیش آنے والا واقعہ نہیں تھا بلکہ دشمن کی جارحیت کے خلاف ایک منظم اور فیصلہ کن ردعمل تھا۔
انہوں نے بتایا کہ بعد ازاں انڈیا نے عالمی سطح پر جنگ بندی کی خواہش ظاہر کی، جسے پاکستان نے خطے میں امن اور استحکام کے وسیع تر مفاد میں قبول کیا۔
آرمی چیف کے مطابق گزشتہ ایک برس کے دوران پاکستان کی بین الاقوامی ساکھ میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور دنیا میں پاکستان کے دوست ممالک کی تعداد پہلے سے کہیں زیادہ ہو چکی ہے۔ انہوں نے سعودی عرب کے ساتھ اسٹریٹیجک دفاعی معاہدے کو بھی ایک بڑی سفارتی کامیابی قرار دیا۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر نے خبردار کیا کہ پاکستان کے خلاف کسی بھی نئی مہم جوئی کے نتائج پہلے سے زیادہ سخت، دور رس اور تکلیف دہ ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملکی دفاع ہر قسم کی جارحیت کے خلاف مکمل طور پر مضبوط اور ناقابلِ تسخیر ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان آج ذمہ دار، متوازن اور مؤثر سفارت کاری کے ذریعے اہم امن مذاکرات کی میزبانی کر رہا ہے۔ اس موقع پر انہوں نے امریکی اور ایرانی قیادت کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے پاکستان پر اعتماد کا اظہار کیا۔
تقریب سے خطاب میں انہوں نے یہ بھی کہا کہ انڈیا اب جان چکا ہے کہ وہ روایتی جنگ میں پاکستان کو شکست نہیں دے سکتا، اسی لیے وہ دہشت گردی کے ذریعے اپنے مقاصد حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
افغانستان کے حوالے سے بات کرتے ہوئے فیلڈ مارشل نے مطالبہ کیا کہ افغان حکومت دہشت گرد عناصر اور فتنہ پرور گروہوں کی پشت پناہی ختم کرے اور دہشت گردی کے مراکز کے خلاف مؤثر اقدامات کرے۔