کراچی: میر رضا کی گمشدگی اور بعد ازاں موت کی تحقیقات کرنے والے کمیشن کے سامنے اہل خانہ، ایدھی رضاکار اور ڈاکٹرز نے اہم بیانات ریکارڈ کرائے، جبکہ کمیشن نے میر رضا کے بزنس پارٹنرز، دوستوں، رینٹل کار کے ڈرائیور اور متعلقہ پولیس افسران کو بھی طلب کرلیا ہے۔
کمیشن کی کارروائی کے دوران میر رضا کے والد میر حسین نے بتایا کہ انہیں بیٹے کی گمشدگی کا علم اس وقت ہوا جب صبح تقریباً 4 بج کر 14 منٹ پر میر رضا کے دوست حیثم کی کال آئی۔ والدہ کے مطابق حیثم نے بتایا کہ میر رضا نے اپنے تمام سوشل میڈیا اکاؤنٹس ڈیلیٹ کردیئے ہیں۔
والدہ نے بتایا کہ میر رضا کی منگیتر نے بھی ان سے رابطہ کیا اور کہا کہ میر رضا پیغامات کا جواب نہیں دے رہے۔ انہوں نے گھر میں میر رضا کا کمرہ چیک کیا تو چابیاں موجود تھیں، تاہم پورے گھر میں تلاش کے باوجود میر رضا موجود نہیں تھے۔
ان کے مطابق میر رضا کے دوست رازق کچھ دیر بعد گھر پہنچے اور طارق روڈ تک بھی تلاش کی۔ دکان کے منیجر شیری اور کاظم بھی تقریباً 4 بج کر 45 منٹ پر گھر آئے۔
پولیس سے رابطے اور ایف آئی آر میں تاخیر کا دعویٰ
میر رضا کے والد نے کمیشن کو بتایا کہ انہوں نے پولیس ایمرجنسی 15 پر کال کی، تاہم فیروز آباد تھانے نے فوری طور پر ایف آئی آر درج کرنے سے انکار کردیا۔
ان کے مطابق پولیس نے کہا کہ نوجوان ناراض ہوکر گھر سے چلا گیا ہوگا اور وائرلیس پر میر رضا کی گمشدگی کی انٹری چلائی جائے گی۔
والد نے بتایا کہ پولیس کی جانب سے فوری رابطہ نہ ہونے پر انہوں نے خود گھر اور اطراف کی سی سی ٹی وی فوٹیج تلاش کرنا شروع کی۔ ایک فوٹیج میں میر رضا کو گھر سے نکلتے ہوئے دیکھا گیا جبکہ دوسری فوٹیج میں سفید آلٹو گاڑی نظر آئی۔
ان کے مطابق میر رضا صبح 4 بج کر 8 منٹ پر گھر سے نکلا تھا۔ ایک ڈپارٹمنٹل اسٹور سے بھی سی سی ٹی وی فوٹیج لینے کی کوشش کی گئی، تاہم اسٹور انتظامیہ نے فوٹیج دکھانے سے انکار کردیا۔ بعد میں جاننے والے اے ایس آئی رضوان کی مدد سے فوٹیج دیکھی گئی جس میں میر رضا کو گاڑی میں بیٹھ کر جاتے ہوئے دیکھا گیا۔
والد نے بتایا کہ گاڑی خالد بن ولید روڈ کی جانب تیز رفتاری سے رانگ سائیڈ پر جاتی دکھائی دی اور پھر جھیل پارک کی طرف چلی گئی۔ اہل خانہ نے اپنی مدد آپ کے تحت گاڑی کا نمبر ٹریس کرنے کی کوشش کی۔
ان کے مطابق دوپہر میں میر رضا کی لوکیشن معلوم کرنے کے بعد وہ سوا 3 بجے پولیس اسٹیشن گئے، جہاں ایس ایچ او عدیل افضال نے مبینہ طور پر کہا کہ بچے اکثر ناراض ہوکر چلے جاتے ہیں۔
والد کے مطابق اسلام آباد میں موجود اپنے بھائی سے ایس ایچ او کی بات کروانے کے بعد انہیں ایف آئی آر درج کرانے کا کہا گیا، جس کے بعد شام 4 بج کر 30 منٹ پر ایف آئی آر درج ہوئی۔
پولیس کی جانب سے سی سی ٹی وی حاصل کرنے کا دعویٰ
میر رضا کے والد نے بتایا کہ پولیس نے نعمان نامی شخص کو ان کے ساتھ سی سی ٹی وی فوٹیج حاصل کرنے کے لیے بھیجا، تاہم ان کے سامنے پولیس نے کوئی فوٹیج حاصل نہیں کی۔
ان کے مطابق شام 7 بجے ایس آئی او شبیر لغاری گھر آئے، تاہم انہوں نے میر رضا کی والدہ سے کوئی بات نہیں کی۔
دوسری جانب والدہ نے بتایا کہ رات کے وقت میر رضا کے بزنس پارٹنرز محمد احمد، عبداللہ اور دیگر دوست گھر آئے اور انہوں نے میر رضا کے کمرے کی تلاشی لی۔
والدہ کے مطابق دوستوں نے کہا کہ شاید کوئی بس کا ٹکٹ تلاش کررہے ہیں، تاہم بعد میں معلوم ہوا کہ میر رضا کا پارٹنرشپ معاہدہ بھی غائب تھا۔ انہوں نے کمیشن کو بتایا کہ انہوں نے یہ معاہدہ خود اسٹڈی ٹیبل کی دراز میں دیکھا تھا۔
والدہ کے مطابق میر رضا کی ایپل واچ کمرے میں موجود تھی جبکہ بہادرآباد دفتر کی چابیاں گھر میں نہیں تھیں۔ ان کے مطابق فون کے علاوہ میر رضا کی دیگر بیشتر چیزیں گھر پر موجود تھیں۔
مالی معاملات پر اہل خانہ کے سوالات
میر رضا کی بہن علیشباہ نے بتایا کہ ان کے بھائی کے دوست رزاق نے ایپل واچ کے ذریعے آئی کلاؤڈ سے لوکیشن معلوم کرنے کی کوشش کی، تاہم رسائی نہیں ہوسکی، ممکنہ طور پر انٹرنیٹ کے مسئلے کی وجہ سے ایسا ہوا۔
بہن کے مطابق میر رضا کے بزنس پارٹنر احمد نے ہفتہ وار ادائیگی کے لیے اپنا اکاؤنٹ نمبر دینے کو کہا۔ انہوں نے جواب دیا کہ بھائی واپس آجائیں گے تو ان ہی سے بات کرلیجیے گا۔
کمیشن نے سوال کیا کہ کیا یہ معاملہ اس وقت پیش آیا جب میر رضا لاپتا تھے؟ بہن نے بتایا کہ شام 5 بجے احمد کی جانب سے دوبارہ یاد دہانی کا پیغام بھی آیا۔
دوستوں نے گن کی سی سی ٹی وی فوٹیج دیکھنے کا بتایا
والدہ کے مطابق 29 جولائی کی رات تقریباً ڈیڑھ بجے حیثم سے بات ہوئی، جس نے بتایا کہ وہ لوگ گھر آرہے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ رات 2 بجے سفید آلٹو میں پانچ لڑکے، عبداللہ، احمد، حیثم، رازق اور واسع، گھر پہنچے۔ ان کے مطابق دوستوں نے بتایا کہ تقریباً ساڑھے 3 بجے کی ایک سی سی ٹی وی فوٹیج میں میر رضا کو وافلکس بہادرآباد میں گارڈ کی گن خود نکالتے ہوئے دیکھا گیا۔
والدہ کے مطابق سی سی ٹی وی کی دو کلپس تھیں، ایک میں میر رضا گاڑی پارک کرتے اور دوسری میں گن نکالتے دکھائی دے رہے تھے۔
والد نے کمیشن کو بتایا کہ بچپن کے دوستوں کا میر رضا کی گمشدگی کے بجائے مالی معاملات پر توجہ دینا ان کے لیے حیران کن تھا۔
جبران ناصر نے کمیشن کو بتایا کہ دوستوں کے مطابق میر رضا گن لے کر گھر آیا تھا۔ کمیشن نے سوال کیا کہ کیا گھر سے پسٹل ملی؟ جواب دیا گیا کہ نہ گھر سے اور نہ ہی رینٹل کار سے کوئی پسٹل برآمد ہوئی اور اب تک وہ نہیں ملی۔
رینٹل کار سے گلستان جوہر تک پہنچنے کا دعویٰ
میر رضا کی بہن کے مطابق حیثم نے صبح 5 بجے فون کرکے کہا کہ میر رضا کی رینٹ پر لی گئی گاڑی واپس کردیں۔
والدہ نے بتایا کہ جب بزنس پارٹنرز ویڈیو دکھانے گھر آئے تو انہوں نے گاڑی کی تلاشی بھی لی اور گاڑی سے ایک بکس نکال کر اپنے ساتھ لے گئے۔
ان کے مطابق اہل خانہ نے 29 جولائی کی صبح رینٹل کار سروس سے رابطہ کرکے خود رائیڈ کی معلومات حاصل کرنے کی کوشش کی۔ کمپنی سے ڈرائیور کا نمبر ملا اور ڈرائیور احسان اللہ نے بتایا کہ اس نے میر رضا کو گلستان جوہر بلاک ٹو میں ڈراپ کیا تھا۔
والدہ کے مطابق اس علاقے میں میر رضا کا کلاؤڈ کچن بھی موجود تھا۔ اہل خانہ ڈراپ لوکیشن پر پہنچے، جو کلاؤڈ کچن سے کچھ فاصلے پر تھی۔
گیسٹ ہاؤس میں تلاش، پھر لاش ملنے کا انکشاف
والدہ نے بتایا کہ کلاؤڈ کچن کے گارڈ نے انہیں مشورہ دیا کہ ممکن ہے میر رضا قریبی گیسٹ ہاؤس گیا ہو۔
ان کے مطابق جب وہ گیسٹ ہاؤس پہنچے تو دروازہ بند تھا۔ انہوں نے باہر سے اندر موجود لڑکوں کو میر رضا کی تصویر دکھائی تو تصویر دیکھتے ہی کچھ لڑکے بھاگ گئے۔
والدہ کے مطابق اسی دوران چار موٹر سائیکلوں پر آٹھ افراد وہاں پہنچے اور بتایا کہ تین لوگ پچھلی دیوار پھلانگ کر فرار ہوئے ہیں۔
میر رضا کے والد نے بتایا کہ سامنے موجود اسکول کے گارڈ نے انہیں خبردار کیا کہ یہ علاقہ مناسب نہیں اور یہاں سے چلے جائیں۔
اہل خانہ کے مطابق گیسٹ ہاؤس سے فرار ہونے والے کچھ لڑکوں کو پکڑ کر واپس لایا گیا۔ بعد ازاں گیسٹ ہاؤس سے منسلک دوسری عمارت کا دروازہ توڑ کر اندر داخل ہوئے اور سی سی ٹی وی فوٹیج دیکھی۔
والدہ کے مطابق اسی دوران پولیس موبائل موقع پر پہنچی اور بتایا گیا کہ ایک لڑکا بری حالت میں ملا ہے۔ پولیس نے ایک ایسی تصویر بھی دکھائی جس میں چہرہ واضح نہیں تھا۔
جناح اسپتال میں میر رضا کی لاش ملی
میر رضا کے والد کے مطابق جب اہل خانہ جناح اسپتال پہنچے تو ایمبولینس میں میر رضا کی لاش موجود تھی۔
جبران ناصر نے بتایا کہ پولیس افسر ندیم مغل لاش لے کر اسپتال پہنچے تھے اور لاش گیسٹ ہاؤس سے تقریباً 600 میٹر کے فاصلے سے ملی تھی۔
والدہ نے کمیشن کو بتایا کہ میر رضا کا چہرہ بری طرح مسخ تھا اور چہرے سے شناخت ممکن نہیں تھی، جبکہ انگلیوں کی حالت بھی غیر معمولی تھی۔
انہوں نے بتایا کہ لاش پوسٹ مارٹم کے لیے منتقل کردی گئی۔
والد کے مطابق رشتے داروں نے بتایا کہ جوہر پولیس نے مبینہ طور پر ’گن شاٹ‘ پوسٹ مارٹم رپورٹ بنانے کا کہا تھا۔
’خودکشی کی بات بعد میں سامنے آئی‘
والدہ کے مطابق 29 جولائی کی رات میر رضا کی تدفین کردی گئی۔ انہیں بتایا گیا تھا کہ لاش تقریباً ڈیڑھ دن پرانی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ غسل کے دوران معلوم ہوا کہ میر رضا کی ہڈیاں ٹوٹی ہوئی تھیں۔
والدہ کے مطابق 30 جولائی اور یکم اگست کی درمیانی شب ایس ایچ او عدیل افضل اور ڈی ایس پی ارشد آفریدی گھر آئے اور بتایا کہ انہوں نے سی سی ٹی وی فوٹیج دیکھی ہے اور میر رضا نے خودکشی کی ہے۔
والدہ نے کہا کہ عدیل افضل نے میر رضا کی ایپل واچ بھی لے لی تھی۔
جبران ناصر نے کمیشن کو بتایا کہ پولیس نے ابتدا میں کوئی میمو نہیں بنایا، تاہم اہل خانہ کے اعتراض کے بعد بعد میں میمو شامل کیا گیا۔
بہن کے مطابق بعد میں ایس ایچ او عدیل افضل نے فون کرکے کہا کہ بزنس پارٹنر احمد فون نہیں اٹھا رہا اور انہیں احمد پر شک ہورہا ہے۔
ایدھی رضاکاروں نے بھی کمیشن کے سامنے بیان ریکارڈ کرایا
کمیشن نے ایدھی رضاکار محسن اور جاوید کو بھی روسٹرم پر طلب کیا۔
رضاکاروں نے بتایا کہ انہیں مرکز سے لاش کی اطلاع ملی اور وہ دوپہر ایک بجے سے پہلے موقع پر پہنچ گئے۔ ان کے مطابق پولیس پہلے ہی وہاں موجود تھی۔
رضاکاروں نے بتایا کہ جب انہوں نے لاش کو سیدھا کیا تو گولی کا نشان نظر آیا اور انہوں نے پولیس کو بتایا کہ لاش کو گولی لگی ہے۔ ان کے مطابق لاش کا چہرہ بری طرح مسخ تھا۔
انہوں نے بتایا کہ لاش ایسی جگہ موجود تھی جہاں عام آدمی کا پہنچنا آسان نہیں تھا۔ دو افراد سے لاش منتقل نہ ہوئی تو نرسری کے دو افراد نے بھی مدد کی۔
کمیشن نے سوال کیا کہ کیا پولیس نے دوبارہ ان سے رابطہ کیا؟ رضاکاروں نے جواب دیا کہ پولیس نے کبھی رابطہ نہیں کیا۔
پوسٹ مارٹم رپورٹ پر بھی سوالات
کمیشن کے سامنے ڈاکٹر اسامہ نے بیان دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے کبھی خودکشی کی بات نہیں کی۔ ان کے مطابق قبر کشائی کے بعد کیمیکل رپورٹس کی روشنی میں حتمی رپورٹ تیار کی گئی اور 11 اگست کو فائنل رپورٹ جاری ہوئی۔
جبران ناصر نے بتایا کہ 29 جولائی کو پولیس کو سیمپلز دیے گئے تھے، تاہم پولیس نے انہیں 6 اگست کو لیبارٹری میں جمع کرایا۔
کمیشن نے سوال اٹھایا کہ فائنل رپورٹ پہلے والی رپورٹ سے مختلف کیوں ہے اور دونوں رپورٹس کی ہینڈ رائٹنگ بھی مختلف کیوں نظر آتی ہے۔
ڈاکٹر اسامہ نے بتایا کہ قبر کشائی کے بعد کیمیکل رپورٹس کی روشنی میں حتمی رپورٹ تیار کی گئی اور ان پر کسی قسم کا دباؤ نہیں تھا۔
جسم میں اینستھیٹکس کی موجودگی پر کمیشن کے سوالات
کمیشن نے ڈاکٹر اسامہ سے سوال کیا کہ اینستھیٹکس خون میں کتنی دیر تک موجود رہ سکتی ہیں۔
ڈاکٹر کے مطابق اینستھیٹکس تقریباً 8 سے 12 گھنٹے تک خون میں موجود رہ سکتی ہیں۔
کمیشن نے سوال کیا کہ اگر لاش 24 سے 36 گھنٹے پرانی تھی تو خون میں اینستھیٹکس کیسے موجود تھیں؟ ڈاکٹر اسامہ نے بتایا کہ یہ لوکل اینستھیزیا بھی ہوسکتا ہے جو ڈینٹسٹ وغیرہ استعمال کرتے ہیں۔
کمیشن نے سوال کیا کہ میر رضا کے جسم میں اینستھیٹکس کیسے پہنچا اور کیا اسے اسپرے کے ذریعے دیا جاسکتا ہے۔
ڈاکٹر اسامہ نے بتایا کہ انہوں نے تمام معلومات ڈاکٹر سمیہ کے ساتھ شیئر کی تھیں، تاہم پولیس سرجن ڈاکٹر سمیہ نے اس حوالے سے کچھ نہیں کہا۔
کمیشن نے سوال کیا کہ اگر تمام کارروائی درست طریقے سے ہورہی تھی تو ڈاکٹر سمیہ کو خط لکھنے کی ضرورت کیوں پیش آئی۔
وزیراعلیٰ ہاؤس طلب کیے جانے پر بھی سوالات
ڈاکٹر اسامہ نے بتایا کہ ڈی آئی جی ایسٹ فرخ لنجار نے انہیں فون کرکے وزیراعلیٰ ہاؤس بلایا تھا، جہاں ایس ایس پی سمیع اللہ سومرو بھی موجود تھے اور ان سے ٹائم لائن طلب کی گئی۔
ان کے مطابق اس سے قبل انہیں تھانے بلایا گیا تھا، تاہم انہوں نے آفیشل لیٹر طلب کیا۔ ڈاکٹر اسامہ نے بتایا کہ ایڈیشنل آئی جی آزاد خان نے بھی فون کرکے وزیراعلیٰ ہاؤس جانے کی ہدایت کی۔
ڈاکٹر اسامہ کے مطابق انہوں نے واضح کیا کہ ڈاکٹر سمیہ جو کچھ کررہی ہیں وہ درست ہے اور وہ ان کے ساتھ ہیں۔
کمیشن نے مزید افراد کو طلب کرلیا
کارروائی کے اختتام پر کمیشن نے میر رضا کے بزنس پارٹنرز احمد اور عبداللہ جبکہ دوستوں حیثم اور رازق کو بھی نوٹس جاری کرتے ہوئے طلب کرلیا۔
کمیشن نے رینٹل کار کے ڈرائیور احسان اللہ، ایس ایچ او فیروز آباد عدیل افضل اور ایس ڈی پی او شارع فیصل ارشد آفریدی کو بھی نوٹس جاری کردیئے ہیں۔
کمیشن کی کارروائی 3 ستمبر تک ملتوی کردی گئی۔