مینگو ڈپلومیسی سے پاکستان کو کیا فائدہ ہوگا؟

فہرستِ مضامین

خاتونِ اول آصفہ بھٹو زرداری نے مینگو ڈپلومیسی فیسٹیول 2026 میں بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی، جہاں ان کا استقبال وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کیا۔ اس موقع پر سفارتکاروں، سرکاری حکام، کاروباری شخصیات، زرعی ماہرین اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کی بڑی تعداد بھی موجود تھی۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ مینگو ڈپلومیسی فیسٹیول صرف ایک زرعی یا تجارتی تقریب نہیں بلکہ پاکستان کی ثقافتی، اقتصادی اور سفارتی شناخت کو دنیا بھر میں اجاگر کرنے کا ایک مؤثر پلیٹ فارم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے آم، خصوصاً سندھڑی آم، اپنے منفرد ذائقے، اعلیٰ معیار اور خوشبو کی وجہ سے دنیا بھر میں پسند کیے جاتے ہیں، اور ایسے فیسٹیولز ان کی عالمی مارکیٹ تک رسائی بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ حکومت کا مقصد پاکستانی آموں کی برآمدات میں اضافہ، مقامی کاشتکاروں کی حوصلہ افزائی اور زرعی شعبے کو مزید مضبوط بنانا ہے تاکہ ملک کو معاشی طور پر بھی فائدہ پہنچ سکے۔

فیسٹیول کے دوران مختلف اقسام کے پاکستانی آموں کی نمائش کی گئی، جبکہ شرکاء کو آموں سے تیار کی جانے والی مختلف مصنوعات اور ان کی برآمدی صلاحیت کے بارے میں بھی آگاہ کیا گیا۔ تقریب میں موجود سفارتکاروں اور غیر ملکی مہمانوں نے پاکستانی آموں، بالخصوص سندھڑی آم، کے ذائقے اور معیار کو سراہا۔

تقریب کے اختتام پر خاتونِ اول آصفہ بھٹو زرداری نے مختلف شعبوں میں نمایاں خدمات انجام دینے والے شرکاء اور منتظمین میں یادگاری شیلڈز تقسیم کیں۔ بعد ازاں انہوں نے فیسٹیول کی کامیابی کی خوشی میں یادگاری کیک بھی کاٹا اور شرکاء کے ساتھ ملاقاتیں کیں۔

منتظمین کے مطابق مینگو ڈپلومیسی فیسٹیول کا مقصد دنیا بھر میں پاکستانی آموں کی برانڈنگ کو فروغ دینا، برآمدات میں اضافہ کرنا اور زرعی سفارت کاری کے ذریعے پاکستان کا مثبت تشخص اجاگر کرنا ہے۔ اس سلسلے میں مستقبل میں بھی ایسی تقریبات کے انعقاد کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔

مزید خبریں

مقبول ترین خبریں