ندا یاسر نے شادی شدہ مردوں کے بارے میں ایسا کیا کہہ دیا؟

فہرستِ مضامین

پاکستان کی معروف ٹی وی میزبان ندا یاسر نے شادی شدہ مردوں کی مالی خودمختاری سے متعلق اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ والدین کو چاہیے کہ وہ بچوں کو اس قابل بنائیں کہ وہ اپنی زندگی کے اخراجات خود اٹھا سکیں، کیونکہ شادی کے بعد بھی والدین پر مالی انحصار درست رویہ نہیں۔

سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والے ایک پروگرام کے کلپ میں ندا یاسر نے کہا کہ والدین کو اپنے بچوں کی شادی اس وقت کرنی چاہیے جب وہ روزگار کمانے اور اپنی ذمہ داریاں نبھانے کے قابل ہو جائیں۔

انہوں نے مغربی معاشروں کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ وہاں کم عمری ہی سے نوجوان تعلیم کے ساتھ کام کرنا شروع کر دیتے ہیں، جبکہ 18 سال کی عمر تک پہنچتے پہنچتے وہ اپنے رہائشی اور تعلیمی اخراجات خود برداشت کرنے لگتے ہیں۔

ندا یاسر کے مطابق پاکستان میں صورتحال اس کے برعکس ہے، جہاں بعض اوقات والدین اپنے بچوں کو طویل عرصے تک مالی سہارا دیتے رہتے ہیں، حتیٰ کہ شادی کے بعد بھی کئی افراد اپنے والدین پر انحصار کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایک طرف کم عمر بچے معاشی ذمہ داریاں اٹھانے پر مجبور ہوتے ہیں، جبکہ دوسری طرف بعض بالغ افراد 40 یا 50 سال کی عمر میں بھی والدین کے سہارے زندگی گزار رہے ہوتے ہیں، جو معاشرتی طور پر ایک غیر متوازن رویہ ہے۔

میزبان کا کہنا تھا کہ اس سوچ میں بتدریج تبدیلی لانے کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق والدین کی ذمہ داری صرف بچوں کو تعلیم دلوانا یا ان کے اخراجات پورے کرنا نہیں بلکہ انہیں خودمختار، بااعتماد اور عملی زندگی کے لیے تیار کرنا بھی ہے تاکہ وہ مستقبل میں اپنی ذمہ داریاں خود نبھا سکیں۔

مزید خبریں

مقبول ترین خبریں