واشنگٹن فائرنگ کیس: مشتبہ حملہ آور کی حیران کن شناخت سامنے آگئی؟

فہرستِ مضامین

واشنگٹن میں وائٹ ہاؤس کورسپونڈنٹس ایسوسی ایشن ڈنر کے دوران فائرنگ کے واقعے میں ملوث مشتبہ شخص کے بارے میں نئی تفصیلات سامنے آئی ہیں۔ امریکی حکام کے مطابق ملزم جنوبی کیلیفورنیا سے تعلق رکھنے والا ایک استاد اور ویڈیو گیم ڈویلپر ہے۔

قانون نافذ کرنے والے اداروں نے 31 سالہ کول ٹوماس ایلن کو اس واقعے میں ملوث مسلح شخص کے طور پر شناخت کیا ہے، جسے تقریب کے مقام کے قریب قابو کر لیا گیا تھا جہاں صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور دیگر اعلیٰ حکام موجود تھے۔

سرکاری ریکارڈز کے مطابق ایلن لاس اینجلس کے نواحی علاقے ٹورینس کا رہائشی ہے۔ اس کے لنکڈ اِن پروفائل کے مطابق وہ C2 ایجوکیشن نامی تعلیمی ادارے میں جز وقتی استاد کے طور پر کام کر رہا تھا، جو طلبہ کو امتحانی تیاری اور ٹیوشن کی سہولیات فراہم کرتا ہے۔ کمپنی کی سوشل میڈیا پوسٹس کے مطابق اسے دسمبر 2024 میں “ٹیچر آف دی منتھ” بھی قرار دیا گیا تھا۔

تعلیمی پس منظر کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ ایلن نے 2017 میں کیلیفورنیا انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی سے مکینیکل انجینئرنگ میں بیچلر ڈگری حاصل کی، جبکہ گزشتہ سال کیلیفورنیا اسٹیٹ یونیورسٹی، ڈومنگیز ہلز سے کمپیوٹر سائنس میں ماسٹرز مکمل کیا۔

دورانِ تعلیم وہ 2017 میں ایک مقامی خبر کا حصہ بھی بنا تھا، جب اس نے وہیل چیئر کے لیے ایمرجنسی بریک کا ایک ابتدائی ماڈل تیار کیا تھا۔

وفاقی الیکشن کمیشن کے ریکارڈ کے مطابق ایلن نے اکتوبر 2024 میں امریکی صدارتی امیدوار کملا ہیرس کی انتخابی مہم کے لیے 25 ڈالر کا عطیہ بھی دیا تھا۔

لنکڈ اِن پروفائل میں اس نے خود کو ویڈیو گیم ڈویلپر بھی قرار دیا ہے اور اطلاعات کے مطابق اس نے “Bohrdom” نامی ایک انڈی گیم تیار کی، جو اسٹیـم پلیٹ فارم پر 1.99 ڈالر میں فروخت کے لیے پیش کی گئی۔ اس گیم کے نام کا ٹریڈ مارک اس نے 2018 میں رجسٹر کروایا تھا۔

مزید برآں، ایلن کے مطابق وہ اس وقت ایک اور گیم پر کام کر رہا تھا، جس کا عارضی نام “فرسٹ لا” رکھا گیا تھا۔

مزید خبریں

مقبول ترین خبریں