واشنگٹن میں فائرنگ: صدر ڈونلڈ ٹرمپ تقریب سے محفوظ مقام منتقل، حملہ آور گرفتار

فہرستِ مضامین

واشنگٹن ڈی سی میں ایک اہم تقریب کے دوران فائرنگ کے واقعے نے سیکیورٹی پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے، جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ہنگامی طور پر تقریب سے نکال کر محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق ہفتہ کی شام واشنگٹن ہلٹن میں منعقدہ وائٹ ہاؤس کورسپونڈنٹس ڈنر کے دوران بال روم کے باہر اچانک فائرنگ شروع ہو گئی، جس پر سیکیورٹی اہلکاروں نے فوری کارروائی کرتے ہوئے صدر کو اسٹیج سے ہٹا دیا۔ اس موقع پر خاتونِ اول میلانیا ٹرمپ اور کابینہ کے ارکان بھی موجود تھے، تاہم تمام افراد محفوظ رہے۔

بعد ازاں پریس کانفرنس میں صدر ٹرمپ نے بتایا کہ ایک مسلح شخص متعدد ہتھیاروں کے ساتھ سیکیورٹی چیک پوائنٹ کی طرف بڑھا، جسے یونائیٹڈ اسٹیٹس سیکرٹ سروس نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے قابو کر لیا۔ انہوں نے حملہ آور کو “انتہائی خطرناک” اور “بیمار ذہنیت کا حامل” قرار دیا۔

صدر کے مطابق حملے میں سیکرٹ سروس کا ایک اہلکار زخمی ہوا، تاہم بلٹ پروف جیکٹ کی بدولت اس کی جان بچ گئی اور اس کی حالت بہتر ہے۔

یونائیٹڈ اسٹیٹس سیکرٹ سروس نے بیان میں کہا کہ فائرنگ “اسکریننگ ایریا” میں ہوئی اور ایک مشتبہ شخص کو حراست میں لے لیا گیا ہے، جبکہ صورتحال کا مزید جائزہ لیا جا رہا ہے۔

امریکی میڈیا کے مطابق حملہ آور کی شناخت 31 سالہ کول ٹوماس ایلن کے نام سے ہوئی ہے، جو کیلیفورنیا کا رہائشی ہے۔ واشنگٹن کی ڈسٹرکٹ اٹارنی جینین فیرس پیرو نے کہا کہ ملزم پر خطرناک ہتھیار کے استعمال اور وفاقی اہلکاروں پر حملے کے الزامات عائد کیے جائیں گے۔

ادھر فیڈرل بیورو آف انویسٹی گیشن کے ڈائریکٹر کاش پٹیل نے عوام سے اپیل کی ہے کہ واقعے سے متعلق کسی بھی معلومات کو حکام تک پہنچایا جائے، چاہے وہ معمولی ہی کیوں نہ ہو۔

عینی شاہدین کے مطابق فائرنگ کے وقت تقریب میں موجود افراد نے میزوں کے پیچھے پناہ لے لی جبکہ “نیچے جھک جائیں” کی آوازیں گونجتی رہیں۔ ایک صحافی نے بتایا کہ اسے بال روم کے باہر کم از کم پانچ گولیوں کی آواز سنائی دی اور بارود کی بو بھی محسوس ہوئی۔

واقعے کی عالمی سطح پر مذمت کی گئی ہے۔ بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی، جاپانی وزیرِ اعظم سانے تاکائیچی اور میکسیکو کی صدر کلاڈیا شینبام نے حملے کی مذمت کرتے ہوئے صدر ٹرمپ کے محفوظ رہنے پر اطمینان کا اظہار کیا۔

صدر ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا کہ حالیہ واقعے کے بعد سیکیورٹی کے معیار کو مزید سخت بنانے کی ضرورت ہے، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ ایسی دھمکیوں کے باوجود قومی تقریبات منسوخ نہیں کی جائیں گی۔

مزید خبریں

مقبول ترین خبریں