وہ پہاڑ جس سے عشق تھا، آخر وہی جان کا دشمن کیوں بن گیا؟

فہرستِ مضامین

گلگت بلتستان کی خطرناک چوٹی براڈ پیک پر پیش آنے والے المناک برفانی تودے کے حادثے میں عالمی شہرت یافتہ برطانوی نژاد نیپالی کوہ پیما نرمل پُرجا کی لاش بھی مل گئی، جبکہ امدادی کارروائیاں اب بھی جاری ہیں۔

پاکستان الپائن کلب کے مطابق اتوار کو ریسکیو ٹیمیں براڈ پیک سے چار کوہ پیماؤں کی لاشیں نیچے منتقل کر رہی ہیں، جن میں نرمل پُرجا، دو نیپالی اور ایک چینی کوہ پیما شامل ہیں۔ کلب کا کہنا ہے کہ زمینی راستے سے پہنچنے والی ٹیم کو تقریباً 5,700 میٹر کی بلندی پر نرمل پُرجا کی لاش ملی۔

الپائن کلب کے بیان میں کہا گیا کہ نرمل پُرجا کو براڈ پیک سے غیر معمولی محبت تھی اور افسوس کہ وہ اسی پہاڑ پر اپنی آخری سانسیں لے گئے۔

مزید ایک لاش بلند مقام پر موجود

الپائن کلب کے جنرل سیکریٹری ایاز شگری نے بتایا کہ امدادی اہلکاروں نے اس سے بھی زیادہ بلندی پر ایک اور لاش کی موجودگی کی تصدیق کی ہے، تاہم دشوار گزار راستوں اور خراب موسم کے باعث فوری طور پر اسے نیچے لانا ممکن دکھائی نہیں دیتا۔

حادثہ کیسے پیش آیا؟

43 سالہ نرمل پُرجا کی قیادت میں بین الاقوامی کوہ پیماؤں کا گروپ 30 جولائی کو براڈ پیک پر کیمپ ٹو اور کیمپ تھری کے درمیان تقریباً 6,600 میٹر کی بلندی پر برفانی تودے کی زد میں آ گیا تھا۔ حادثے کے بعد تمام کوہ پیماؤں سے رابطہ منقطع ہوگیا، جبکہ بعد ازاں ان کی ہلاکت کی تصدیق کردی گئی۔

اس سے قبل گلگت بلتستان حکومت نے ہیلی کاپٹروں کے ذریعے تین دیگر کوہ پیماؤں کی لاشیں نکال کر شناخت کے لیے ہسپتال منتقل کی تھیں، جن میں امریکہ سے تعلق رکھنے والی سارہ میلوری گیس، عمان کی نظیرہ احمد عبداللہ الحارثی اور نیپال کے پور بہادر گرونگ شامل تھے۔

کمپنی کا افسوسناک بیان

نرمل پُرجا کی کمپنی نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں ان کی ہلاکت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ براڈ پیک پر برفانی تودہ گرنے کے نتیجے میں نہ صرف نرمل پُرجا بلکہ مہم کے دیگر ارکان بھی جانبر نہ ہو سکے۔

نیپال کے وزیراعظم کا اظہارِ افسوس

نیپال کے وزیراعظم بلندر شاہ نے نرمل پُرجا اور دیگر کوہ پیماؤں کی ہلاکت پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ سانحہ پوری قوم کے لیے صدمے کا باعث ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ یہ بہادر کوہ پیما دنیا سے رخصت ہوگئے، لیکن ان کی ہمت، عزم اور کارنامے ہمیشہ یاد رکھے جائیں گے۔

کوہ پیمائی کی دنیا کا عظیم نام

نرمل پُرجا کا شمار دنیا کے نمایاں ترین کوہ پیماؤں میں ہوتا تھا۔ برطانوی فوج کی بریگیڈ آف گورکھاز اور بعد ازاں رائل میرینز اسپیشل بوٹ سروس میں خدمات انجام دینے کے بعد انہوں نے کوہ پیمائی کو اپنا پیشہ بنایا اور کئی عالمی ریکارڈ قائم کیے۔

2019 میں انہوں نے صرف چھ ماہ اور چھ دن میں دنیا کی تمام 14 آٹھ ہزار میٹر سے بلند چوٹیوں کو سر کر کے تاریخ رقم کی تھی۔ حادثے سے چند روز قبل انہوں نے سوشل میڈیا پر لکھا تھا کہ وہ بغیر اضافی آکسیجن دنیا کی تمام 14 بلند ترین چوٹیوں کو دو مرتبہ سر کرنے والے پہلے انسان بننے کے انتہائی قریب ہیں۔

براڈ پیک روانگی سے پہلے ان کا آخری پیغام تھا: “براڈ پیک، میں تم سے صرف محفوظ واپسی کی دعا مانگتا ہوں۔”

سیزن کا مہلک ترین حادثہ

ماہرین کے مطابق 30 جولائی کو پیش آنے والا یہ برفانی تودے کا حادثہ حالیہ برسوں میں پاکستان کے کوہ پیمائی سیزن کا سب سے مہلک سانحہ قرار دیا جا رہا ہے۔ 8,047 میٹر بلند براڈ پیک قراقرم کے سلسلۂ کوہ میں کے ٹو کے قریب واقع دنیا کی بارہویں بلند ترین چوٹی ہے، جسے دنیا کی مشکل ترین اور خطرناک کوہ پیمائی مہمات میں شمار کیا جاتا ہے۔

مزید خبریں

مقبول ترین خبریں