پاکستان نے ویسٹ انڈیز کے خلاف دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز کا اختتام شاندار انداز میں کرتے ہوئے پورٹ آف اسپین میں کھیلے گئے دوسرے اور آخری ٹیسٹ میں میزبان ٹیم کو 8 وکٹوں سے شکست دے دی۔ اس کامیابی کے ساتھ گرین شرٹس نے سیریز 1-1 سے برابر کر دی۔
میچ کے چوتھے روز ویسٹ انڈیز اپنی دوسری اننگز میں صرف 117 رنز بنا کر آؤٹ ہوگئی۔ پاکستان کی پہلی اننگز میں حاصل کی گئی 43 رنز کی برتری کے باعث قومی ٹیم کو فتح کے لیے محض 75 رنز کا آسان ہدف ملا۔
پاکستان نے یہ ہدف صرف دو وکٹوں کے نقصان پر حاصل کر لیا۔ کپتان بابر اعظم اور عبداللہ شفیق نے ذمہ دارانہ بیٹنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے 24، 24 رنز بنا کر ٹیم کو فتح دلائی اور ناٹ آؤٹ رہے، جبکہ اوپنرز اذان اویس 18 اور امام الحق 9 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔
ویسٹ انڈیز کی جانب سے جیڈن سیلز اور شامار جوزف نے ایک، ایک وکٹ حاصل کی، تاہم وہ اپنی ٹیم کو شکست سے نہ بچا سکے۔
قومی ٹیم کی جانب سے دوسری اننگز میں علی عثمان اور ساجد خان نے تباہ کن بولنگ کرتے ہوئے چار، چار وکٹیں حاصل کیں، جبکہ محمد علی نے ایک کھلاڑی کو آؤٹ کیا۔ ویسٹ انڈیز کے لیے کیوم ہوج 34 رنز کے ساتھ نمایاں رہے، جبکہ ٹیگنرائن چندرپال اور روسٹن چیز نے 17، 17 اور شائی ہوپ نے 15 رنز بنائے۔
اس سے قبل پاکستان نے پہلی اننگز میں ویسٹ انڈیز کے 344 رنز کے جواب میں 387 رنز اسکور کیے تھے۔ عبداللہ شفیق نے شاندار 160 رنز کی ناقابل شکست اننگز کھیل کر ٹیم کو برتری دلانے میں کلیدی کردار ادا کیا، جبکہ کپتان بابر اعظم 88 رنز بنا کر رن آؤٹ ہوئے۔
میچ میں غیر معمولی آل راؤنڈ کارکردگی دکھانے پر عبداللہ شفیق کو مین آف دی میچ قرار دیا گیا، جبکہ پوری سیریز میں بہترین کھیل پیش کرنے پر بابر اعظم اور ویسٹ انڈیز کے جسٹن گریوز کو مشترکہ طور پر پلیئر آف دی سیریز کا اعزاز دیا گیا۔
پاکستان کی یہ فتح نہ صرف سیریز برابر کرنے میں کامیاب رہی بلکہ ویسٹ انڈیز کی سرزمین پر قومی ٹیم کے اعتماد میں بھی نمایاں اضافہ ثابت ہوئی۔