ٹرمپ انتظامیہ میں اختلافات کی افواہیں، وینس اور روبیو کے بیانات پر بحث کیوں؟

فہرستِ مضامین

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے ساتھ مفاہمتی یادداشت (MoU) پر دستخط کے بعد جہاں انہیں خاص طور پر اسرائیل نواز حلقوں اور سیاست دانوں کی شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا، وہیں نائب صدر جے ڈی وینس اس معاہدے کے دفاع کے لیے بھرپور انداز میں سامنے آئے۔

جے ڈی وینس، جنہوں نے سوئٹزرلینڈ میں ایران کے ساتھ مذاکرات کی قیادت کی، کا کہنا تھا کہ بات چیت میں “اہم پیش رفت” ہوئی ہے اور دونوں ممالک کے درمیان ایک مضبوط بنیاد قائم ہو چکی ہے جس پر حتمی معاہدہ طے کیا جا سکتا ہے۔ ان کے مطابق ایران اور امریکا کے پاس مکمل معاہدے کو حتمی شکل دینے کے لیے 60 دن ہیں۔

اسرائیل پر وینس کا سخت مؤقف

وینس نے اسرائیل کی جانب سے معاہدے پر کھلی تنقید اور فوجی کارروائیوں پر بھی سخت ردعمل دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ

“آپ صرف 90 لاکھ آبادی والا ملک ہیں، آپ ہر قومی سلامتی کے مسئلے کا حل صرف لوگوں کو مار کر نہیں نکال سکتے۔”

انہوں نے اشارہ دیا کہ مسلسل فوجی طاقت کا استعمال خطے میں امن کی کوششوں کو نقصان پہنچا رہا ہے۔

اس کے برعکس امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے اسرائیل پر براہِ راست تنقید سے گریز کیا اور زیادہ تر اپنی توجہ ایران پر مرکوز رکھی۔ ان کا مؤقف تھا کہ اسرائیل کی فوجی کارروائیاں حزب اللہ کے حملوں کا ردعمل ہیں۔

آبنائے ہرمز پر کشیدگی

مارکو روبیو گزشتہ ہفتے بحرین، کویت اور متحدہ عرب امارات کے دورے پر گئے جہاں انہوں نے خلیجی اتحادیوں کو یقین دلایا کہ امریکا ان کے مفادات کا تحفظ کرے گا۔

بحرین میں خطاب کرتے ہوئے روبیو نے واضح کیا کہ:

“آبنائے ہرمز کسی ایک ملک کی ملکیت نہیں بلکہ ایک بین الاقوامی آبی گزرگاہ ہے۔”

اس بیان کے چند ہی روز بعد امریکا اور ایران کے درمیان آبنائے ہرمز پر کنٹرول کے معاملے پر تین روز تک ایک دوسرے پر حملوں کا سلسلہ جاری رہا۔ یہ 17 جون کو مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے بعد پہلا بڑا فوجی تصادم تھا۔

ذرائع کے مطابق دونوں ممالک جلد تکنیکی مذاکرات کریں گے تاکہ اس اہم عالمی توانائی گزرگاہ پر کشیدگی کم کی جا سکے، جہاں سے دنیا کی تقریباً پانچواں حصہ توانائی کی ترسیل ہوتی ہے۔

کیا ٹرمپ انتظامیہ میں اختلافات ہیں؟

گزشتہ ہفتے جے ڈی وینس اور مارکو روبیو کے مختلف بیانات کے بعد امریکی میڈیا میں یہ قیاس آرائیاں شروع ہوئیں کہ شاید ٹرمپ انتظامیہ کے اندر ایران اور مشرق وسطیٰ کی پالیسی پر اختلافات موجود ہیں۔

تاہم وائٹ ہاؤس نے ان تمام دعوؤں کو سختی سے مسترد کر دیا۔

وائٹ ہاؤس کی ترجمان اینا کیلی نے کہا:

“صرف ایک ہی کیمپ ہے، اور وہ صدر ٹرمپ کا کیمپ ہے۔ پوری انتظامیہ اس مقصد پر مکمل طور پر متحد ہے کہ ایران کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل نہ کر سکے۔”

امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان ٹومی پیگوٹ نے بھی اختلافات کی خبروں کو “جھوٹی اور پرانی کہانی” قرار دیتے ہوئے کہا کہ پوری انتظامیہ صدر ٹرمپ کی پالیسی پر سو فیصد متفق ہے۔

ایران کے حوالے سے مختلف انداز

اگرچہ دونوں رہنما بظاہر ایک ہی پالیسی کی حمایت کر رہے ہیں، تاہم ان کے انداز میں واضح فرق دیکھا جا رہا ہے۔

جے ڈی وینس مستقبل میں ایران اور امریکا کے درمیان بہتر تعلقات کے امکانات کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ دونوں ممالک امن اور خوشحالی کے لیے مل کر کام کر سکتے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ کسی بھی ملک کو مکمل طور پر اپنے دفاع کے حق سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔

اس کے برعکس مارکو روبیو نے ایران کے خلاف نسبتاً سخت لہجہ اپنایا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کو آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں سے کسی قسم کا ٹیکس یا فیس وصول کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جبکہ کسی بھی حتمی معاہدے میں امریکا اور اس کے اتحادیوں کے مفادات کا مکمل تحفظ یقینی بنایا جائے گا۔

یہ معاملہ اہم کیوں ہے؟

سیاسی مبصرین کے مطابق جے ڈی وینس اور مارکو روبیو ٹرمپ انتظامیہ کی دو اہم ترین سفارتی شخصیات ہیں، مگر دونوں کی خارجہ پالیسی سے متعلق سوچ ماضی میں ایک دوسرے سے مختلف رہی ہے۔

وینس طویل عرصے سے بیرون ملک جنگوں کو امریکی وسائل اور جانوں کا ضیاع قرار دیتے آئے ہیں، جبکہ روبیو امریکی سینیٹ میں ایران، روس اور کیوبا کے خلاف سخت مؤقف اختیار کرنے والے رہنماؤں میں شمار ہوتے رہے ہیں۔

اسی وجہ سے ان کے حالیہ بیانات نے یہ سوال ضرور پیدا کیا کہ آیا ٹرمپ انتظامیہ کے اندر خارجہ پالیسی پر مختلف آراء موجود ہیں یا نہیں، تاہم وائٹ ہاؤس، محکمہ خارجہ اور خود مارکو روبیو نے اس تاثر کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ تمام فیصلے صدر ٹرمپ کی قیادت میں ایک ہی پالیسی کے تحت کیے جا رہے ہیں۔

مزید خبریں

مقبول ترین خبریں