امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ امریکا کی جانب سے آبنائے ہرمز میں جاری فوجی کارروائی “پروجیکٹ فریڈم” کو وقتی طور پر معطل کر دیا گیا ہے۔ ان کے مطابق یہ فیصلہ ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدے کی جانب ہونے والی “اہم پیش رفت” کے بعد کیا گیا۔
ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اس آپریشن کو مختصر مدت کے لیے روکا گیا ہے تاکہ یہ جائزہ لیا جا سکے کہ آیا تہران کے ساتھ کوئی جامع اور حتمی معاہدہ طے پا سکتا ہے یا نہیں، اگرچہ خلیجی خطے میں کشیدگی اب بھی برقرار ہے۔
دوسری جانب ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے امریکا پر “زیادہ سے زیادہ دباؤ” کی پالیسی اپنانے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن ایران سے یکطرفہ شرائط منوانا چاہتا ہے۔
ایران سے متعلق اہم پیش رفت
ٹرمپ کے مطابق آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کے تحفظ کے لیے شروع کیا گیا امریکی مشن صرف ایک دن بعد روک دیا گیا، جس کا مقصد ایران کے ساتھ جنگ کے خاتمے کی راہ ہموار کرنا ہے۔
برطانوی میری ٹائم حکام نے بتایا کہ آبنائے ہرمز میں ایک مال بردار جہاز کو نامعلوم شے سے نشانہ بنایا گیا۔
نوبیل انعام یافتہ قیدی نرگس محمدی کی صحت پر شدید تشویش ظاہر کی جا رہی ہے، جن کے بارے میں اطلاعات ہیں کہ وہ جیل میں دل کے دوروں اور طبی غفلت کا شکار رہی ہیں۔
جنگی سفارتکاری میں سرگرمیاں
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بیجنگ میں چینی وزیر خارجہ وانگ یی سے ملاقات کی، جسے اہم سفارتی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق چین اس بحران میں اہم کردار ادا کرتے ہوئے ایران کو مذاکرات کی میز پر واپس لانے کی کوشش کر رہا ہے۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو اور روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف کے درمیان ایران اور یوکرین سے متعلق امور پر بھی رابطہ ہوا۔
خلیجی صورتحال
ایران نے متحدہ عرب امارات میں تیل تنصیبات پر حملے کی منصوبہ بندی کی تردید کی ہے، جبکہ یو اے ای نے ایک ڈرون حملے کا الزام ایران پر عائد کیا تھا۔
یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی نے بحرین کو ڈرون ٹیکنالوجی میں تعاون کی پیشکش کی ہے۔
امریکا کا مؤقف
مارکو روبیو کے مطابق امریکا ایران کے خلاف جارحانہ کارروائیوں کا مرحلہ مکمل کر چکا ہے۔
امریکی فوج نے خبردار کیا ہے کہ ضرورت پڑنے پر ایران کے خلاف دوبارہ کارروائی کی جا سکتی ہے۔
ٹرمپ نے ایران پر زور دیا کہ وہ “دانشمندی” کا مظاہرہ کرتے ہوئے معاہدہ کرے کیونکہ امریکا مزید جانی نقصان نہیں چاہتا۔
اسرائیل اور خطے کی صورتحال
اسرائیل میں کیے گئے ایک سروے کے مطابق 59 فیصد عوام اس مرحلے پر ایران کے ساتھ جنگ ختم کرنے کے خلاف ہیں، جبکہ اکثریت کو بڑے تصادم کے خدشات لاحق ہیں۔
لبنان میں ممکنہ امن معاہدے کے حوالے سے بھی شکوک پائے جاتے ہیں، جہاں امریکا حزب اللہ کو ایک بڑی رکاوٹ سمجھتا ہے۔
فلسطین میں کشیدگی
مغربی کنارے میں اسرائیلی آبادکاروں کے حملے میں تین فلسطینی زخمی ہوئے جبکہ متعدد افراد کو گرفتار کر لیا گیا۔
آبنائے ہرمز میں امریکی فوجی کارروائی کی عارضی معطلی اس بات کا اشارہ ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان سفارتی راستے ابھی مکمل طور پر بند نہیں ہوئے۔ تاہم خطے میں جاری کشیدگی، حالیہ حملے اور باہمی عدم اعتماد اس ممکنہ معاہدے کو اب بھی غیر یقینی بنائے ہوئے ہیں۔