ٹرمپ ٹیم کا ایرانی امن منصوبے پر غور، آبنائے ہرمز کھولنے پر توجہ، جوہری مذاکرات مؤخر ہونے کا امکان

فہرستِ مضامین

ڈونلڈ ٹرمپ کی قومی سلامتی ٹیم نے ایران کی جانب سے پیش کیے گئے ایک اہم امن منصوبے کا جائزہ لینا شروع کر دیا ہے، جس کا مقصد جاری کشیدگی اور ممکنہ جنگ کا خاتمہ اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات کو بعد کے مرحلے تک مؤخر کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔

سفارتی پیش رفت کے اشارے

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے سینٹ پیٹرزبرگ میں روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سے ملاقات کی، جس میں انہوں نے اشارہ دیا کہ تہران امریکہ کی جانب سے مذاکرات بحال کرنے کی درخواست پر غور کر رہا ہے۔ یہ بیان کشیدگی کے باوجود سفارتی پیش رفت کی ایک محتاط کوشش کی نشاندہی کرتا ہے۔

عالمی دباؤ: ہرمز فوری طور پر کھولا جائے

دنیا کے درجنوں ممالک نے آبنائے ہرمز کو فوری اور بغیر کسی رکاوٹ کے کھولنے کا مطالبہ کیا ہے، کیونکہ یہ گزرگاہ عالمی تیل کی تقریباً پانچویں حصے کی ترسیل کے لیے استعمال ہوتی ہے۔ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے خبردار کیا ہے کہ موجودہ تعطل عالمی سپلائی چین کے لیے سنگین خطرہ بن سکتا ہے۔

ایران کے اندر کیا صورتحال ہے؟

آبنائے ہرمز پر کنٹرول کا مطالبہ:
ایران کے ایک اعلیٰ عہدیدار کے مطابق مجوزہ قانون کے تحت آبنائے ہرمز کا کنٹرول ایرانی مسلح افواج کے پاس ہوگا۔

مذاکرات کی ناکامی کا الزام امریکہ پر:
ایران نے براہ راست مذاکرات میں تعطل کا ذمہ دار امریکہ کو ٹھہرایا ہے، جبکہ سفارتی رابطے بھی تعطل کا شکار ہیں۔

تیل بردار جہازوں کا تنازع:
تہران نے امریکہ پر دو آئل ٹینکرز ضبط کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے اسے “سمندری قزاقی” قرار دیا ہے۔

جنگ اور سفارتکاری

روس کا کردار:
صدر پیوٹن نے یقین دہانی کرائی ہے کہ روس جنگ کے خاتمے کے لیے ہر ممکن کردار ادا کرے گا۔

امریکی مذاکراتی ٹیم پر تنقید:
ماہرین کے مطابق ٹرمپ کی ٹیم، جس میں جیرڈ کشنر، اسٹیو وٹکوف اور جے ڈی وینس شامل ہیں، ایران کے جوہری معاملے میں تجربے کی کمی رکھتی ہے، جسے ایک کمزوری سمجھا جا رہا ہے۔

خلیجی ممالک کا مؤقف

ایران کے مؤقف سے جزوی ہم آہنگی:
خلیجی ممالک ممکنہ طور پر اس تجویز کی حمایت کر سکتے ہیں جس میں پہلے آبنائے ہرمز کھولنے پر زور دیا گیا ہے۔

اجتماعی مطالبہ:
بحرین کی قیادت میں کئی ممالک نے فوری طور پر سمندری راستہ کھولنے کا مطالبہ کیا ہے۔

امریکہ میں صورتحال

اہم سیکیورٹی اجلاس:
ٹرمپ اپنی سیکیورٹی ٹیم کے ساتھ ایران سے متعلق صورتحال پر مزید مشاورت کر رہے ہیں، جبکہ مذاکرات تعطل کا شکار ہیں۔

منصوبہ قبول ہونے کا امکان؟
سابق امریکی عہدیداروں کے مطابق امریکہ معاشی دباؤ کم کرنے کے لیے ایران کی تجویز پر غور کر سکتا ہے، خاص طور پر آبنائے ہرمز کو کھولنا فوری ترجیح ہے۔

اسرائیل اور لبنان کی صورتحال

اسرائیلی فوجی ہلاکت:
اسرائیل نے جنوبی لبنان میں ایک فوجی کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔

نیتن یاہو کا دعویٰ:
اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ حزب اللہ کے ہتھیاروں کا بڑا حصہ ختم ہو چکا ہے، تاہم ماہرین کے مطابق تنظیم اب بھی مضبوط ہے۔

لبنان میں کشیدگی

اسرائیلی حملے جاری:
لبنان کے علاقے بقاع میں حزب اللہ کے ٹھکانوں پر حملے جاری ہیں۔

حزب اللہ کا ردعمل:
حزب اللہ کے سربراہ نعیم قاسم نے اسرائیل کے ساتھ براہ راست مذاکرات کو مسترد کرتے ہوئے اسے خطرناک قرار دیا ہے۔

عالمی طاقتیں ایک نازک موڑ پر کھڑی ہیں جہاں جنگ کے خاتمے، آبنائے ہرمز کی بحالی اور جوہری تنازع کے حل جیسے بڑے فیصلے بیک وقت درپیش ہیں۔ ایران سفارتکاری کے دروازے کھلے رکھے ہوئے ہے، جبکہ امریکہ اور اس کے اتحادی اپنی حکمت عملی طے کرنے میں مصروف ہیں۔

مزید خبریں

مقبول ترین خبریں