ٹرمپ پیوٹن ملاقات کے بعد یوکرین کے صدر زیلنسکی پر دباؤ ڈالنے کی تیاری

فہرستِ مضامین

آمریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور روس کے صدر ولادمیر پیوٹن کے درمیاں ہونے والی ملاقات کے بعد قیاس آرائیاں شروع ہوگئی ہیں کے آمریکا یوکرین کا اہم علاقہ روس کے حوالے کرنے کو تیار ہوگیا ہے تاہم یوکرین کی جانب سے ابھی تک اس کی تصدیق نہیں کی گئی۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے درمیان الاسکا کے فوجی ایئربیس میں جمعے کے رز ملاقات ہوئی تھی، یے ملاقات تقریبن تین گھنٹے سے زائد جاری رہی تھی۔

دونوں رہنماوں کے درمیاں ملاقات کے بعد میڈیا سے بھی گفتگو کی گئی تھی تاہم یوکرین جنگ بندی کے حوالے سے کوئی باضابطہ اعلان سامنے نہیں آسکا تھا۔

زیلنسکی پر دباؤ

روسی صدر پیوٹن سے ملاقات کے دو رز بعد ایک آمریکی اخبار نے اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے یوکرین کے اہم علاقے روس کے حوالے کرنے کے لیے یوکرین کے صدر زیلنسکی پر مبینہ طور پر دباؤ ڈالنے کی تیاری شروع کردی ہے۔

دی نیویارک ٹائمز نے اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے ہفتے کو الاسکا میں روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سے ملاقات کے بعد یورپی یونین کے رہنماؤں کو یوکرین کے مشرقی علاقے ڈونباس کے بقیہ حصے کو روس کے حوالے کرنے سے متعلق آگاہ کیا۔

دی نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق ٹرمپ نے یورپی یونین کے رہنماوں کو بتایا ہے کہ وہ روسی صدر کے اس مطالبے کو تسلیم کرنے کے لیے تیار ہیں۔

یوکرین کا انکار

اخبار جی رپورٹ کے مطابق صدر ٹرمپ نے پیوٹن سے ملاقات کے فوراً بعد انہوں نے یوکرینی صدر وولودیمیر زیلنسکی کو فون کیا، جس میں انہوں نے روسی صدر کی تجویز پیش کی۔

صدر ٹرمپ نے تجویز پیش کی ہے کہ  یوکرین، دونیٹسک کو مکمل طور پر روس کے حوالے کر دے اور فرنٹ لائن پر جنگ روک دے، تاہم رائٹرز کے مطابق زیلنسکی نے اس تجویز کو مسترد کر دیا ہے۔

رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق یوکرین کے صدر زیلنسکی پہلے ہی اس امکان کو رد کر چکے تھے، ان کا کہنا تھا کہ اس طرح کا کوئی معاہدہ مستقبل میں ایک نئی جنگ کی بنیاد بن سکتا ہے۔

نیویارک ٹائمز کے مطابق صدر ٹرمپ اب پیر کے روز وائٹ ہاؤس میں زیلنسکی سے ملاقات کریں گے جس میں وہ دوبارہ اپنی تجویز پیش کریں گے۔

اس کے بدلے میں روس یوکرین کے ان چند چھوٹے علاقوں سے دستبرداری پر آمادگی ظاہر کر رہا ہے جن پر اس نے قبضہ کیا ہوا ہے مگر وہ دونیٹسک کو مکمل طور پر کنٹرول نہیں کر سکا۔

ٹرمپ پیوٹن ملاقات  

16 اگسٹ کو آمریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور روس کے صدر نے ملاقات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس کی تھی، دونوں رہنماوں نے ملاقات کو کامیاب قرار دیا تھا تاہم یوکرین جنگ بندی کے حوالے سے کوئی باضابطہ اعلان سامنے نہیں آسکا تھا۔

پریس کانفرنس کے دوران روسی صدر پیوٹن نے صدر ٹرمپ کو ماسکو میں اگلی ملاقات کی دعوت دی جسے ٹرمپ نے قبول کرتے ہوئے کہا کہ یہ تجویز ’’دلچسپ‘‘ ہے اور اس پر غور کیا جائے گا۔

مزید خبریں

مقبول ترین خبریں