واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو ایک بار پھر سخت انتباہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ تہران کے پاس دو ہی راستے ہیں، یا وہ امریکہ کے ساتھ معاہدہ کرے یا پھر سنگین نتائج کا سامنا کرنے کے لیے تیار رہے۔
اوول آفس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ وہ سفارتی حل کو ترجیح دیتے ہیں، تاہم اگر مذاکرات ناکام رہے تو امریکہ کے لیے ایران کے اہم انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانا کوئی مشکل کام نہیں ہوگا۔
ان کا کہنا تھا، “میں معاہدہ کرنا چاہتا ہوں کیونکہ میں کروڑوں ایرانی عوام کو متاثر نہیں کرنا چاہتا، لیکن اگر ضرورت پڑی تو ایران کے پل، توانائی کا نظام اور دیگر اہم تنصیبات ایک گھنٹے کے اندر تباہ کیے جا سکتے ہیں۔”
صدر ٹرمپ نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ امریکہ نے ایران کو کسی قسم کی مالی مدد فراہم نہیں کی، جبکہ ان کے بقول تہران پہلے ہی شدید معاشی دباؤ کا سامنا کر رہا ہے۔
یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکہ اور ایران کے درمیان بالواسطہ مذاکرات کا تازہ دور کسی نمایاں پیش رفت کے بغیر ختم ہو چکا ہے۔ یہ مذاکرات 60 روزہ جنگ بندی کے دوران جاری تھے، جس کا مقصد کشیدگی کم کرنے اور ایران کے جوہری پروگرام پر سفارتی حل تلاش کرنا تھا۔
دوسری جانب تہران میں رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کی نمازِ جنازہ کے بعد ایرانی قیادت اور عوام کی جانب سے مزاحمت اور قومی اتحاد کا پیغام دیا جا رہا ہے۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ بیرونی دباؤ کے باوجود ملک اپنے مؤقف سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔
یاد رہے کہ 60 روزہ جنگ بندی امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے بعد عمل میں آئی تھی، جبکہ واشنگٹن کا مؤقف ہے کہ اس سفارتی وقفے کا بنیادی مقصد ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنے کے لیے مذاکرات کو دوبارہ فعال بنانا ہے۔ تاہم حالیہ بیانات سے ایک بار پھر خطے میں کشیدگی بڑھنے کے خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔