ٹرمپ کی “بڑی ڈیل” یا نیا دھوکا؟

فہرستِ مضامین

امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے خاتمے کے لیے اہم سفارتی پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں تہران نے امریکی امن تجویز کا جائزہ لینے کی تصدیق کر دی ہے۔ تاہم ایران نے واضح اشارہ دیا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام اور آبنائے ہرمز پر کنٹرول “سرخ لکیر” ہیں۔

ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے بتایا کہ تہران جلد امریکی تجاویز پر اپنا باضابطہ جواب دے گا، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان گزشتہ 24 گھنٹوں میں “بہت مثبت مذاکرات” ہوئے ہیں۔

وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا:

“ایران معاہدہ چاہتا ہے، اور بہت امکان ہے کہ جلد کوئی ڈیل ہو جائے گی۔”

آبنائے ہرمز عالمی معیشت کے مرکز میں

امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق واشنگٹن اور تہران ایک 14 نکاتی ابتدائی معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں، جس کے تحت ایران کم از کم 12 برس تک یورینیم افزودگی محدود کرنے اور ایٹمی ہتھیار نہ بنانے کی یقین دہانی کرا سکتا ہے۔

اس کے بدلے امریکا ایران پر عائد پابندیاں نرم کرے گا، منجمد ایرانی اثاثے بحال کیے جائیں گے، جبکہ آبنائے ہرمز میں دونوں ممالک کی جانب سے قائم بحری رکاوٹیں ختم کر دی جائیں گی۔

یاد رہے کہ دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل اور گیس سپلائی آبنائے ہرمز سے گزرتی ہے، اور وہاں جاری کشیدگی نے عالمی توانائی بحران کے خدشات پیدا کر دیے ہیں۔

ایران نے امریکی مطالبات پر اعتراض اٹھا دیا

اگرچہ ایران نے باضابطہ جواب نہیں دیا، مگر ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی کمیٹی کے ترجمان ابراہیم رضائی نے امریکی تجاویز کو “حقیقت سے زیادہ امریکی خواہشات کی فہرست” قرار دیا۔

ایرانی اسپیکر محمد باقر قالیباف نے بھی سوشل میڈیا پر طنزیہ انداز میں لکھا:

آپریشن ٹرسٹ می برو ناکام ہو گیا۔

تہران سے رپورٹس کے مطابق ایران اس وقت صرف جنگ کے خاتمے پر بات کرنے کو تیار ہے، جبکہ جوہری پروگرام پر مذاکرات کو دوسرے مرحلے تک مؤخر کرنا چاہتا ہے۔

ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ:

آبنائے ہرمز پر ایران کی خودمختاری ناقابلِ مذاکرات ہے

پابندیوں کا خاتمہ ضروری شرط ہے

اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل سے واضح ضمانتیں درکار ہوں گی

جوہری پروگرام سب سے بڑا تنازع

رپورٹس کے مطابق امریکا چاہتا ہے کہ ایران یورینیم افزودگی مکمل طور پر روک دے اور اپنے افزودہ یورینیم کے ذخائر ملک سے باہر منتقل کرے۔

تاہم ایرانی قیادت اس مطالبے کو مسترد کر رہی ہے۔

ماہرین کے مطابق ایران کے پاس اس وقت تقریباً 440 کلوگرام 60 فیصد افزودہ یورینیم موجود ہے، جبکہ ایٹمی ہتھیار کے لیے 90 فیصد افزودگی درکار ہوتی ہے۔

سابق امریکی نائب وزیر خارجہ مارک کِمِٹ کے مطابق:

“ایران کبھی بھی مکمل طور پر افزودگی روکنے پر آمادہ نہیں ہوگا، کیونکہ بین الاقوامی قوانین اسے محدود سطح تک افزودگی کی اجازت دیتے ہیں۔”

پاکستان بھی اہم کردار میں؟

ذرائع کے مطابق پاکستان پسِ پردہ ثالثی میں اہم کردار ادا کر رہا ہے، جبکہ ایرانی جواب پاکستانی ثالثوں کے ذریعے امریکا تک پہنچائے جانے کا امکان ہے۔

پاکستانی دفتر خارجہ نے ممکنہ معاہدے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ ثالثی کی تفصیلات ظاہر نہیں کی جائیں گی تاکہ دونوں فریقوں کا اعتماد برقرار رہے۔

مزید خبریں

مقبول ترین خبریں