جنوبی ایشیا اس وقت خطرناک ہیٹ ویو کی زد میں ہے جہاں پاکستان، بھارت اور بنگلہ دیش میں درجہ حرارت معمول سے کئی ڈگری زیادہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے، جبکہ بعض علاقوں میں پارہ 45 سے 50 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا ہے۔
شدید گرمی کی اس نئی لہر نے کروڑوں افراد کی روزمرہ زندگی متاثر کر دی ہے اور ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی خطے کو مزید خطرناک موسمی حالات کی طرف دھکیل رہی ہے۔
پاکستان میں منگل کے روز شدید گرمی کے باعث کم از کم 10 افراد جان کی بازی ہار گئے، جبکہ بھارت میں بھی ہیٹ اسٹروک اور گرمی سے متعلق متعدد اموات رپورٹ ہوئی ہیں۔
گرمی اتنی جلدی کیوں بڑھ گئی؟
ماہرین موسمیات کے مطابق اس سال گرمی معمول سے کہیں پہلے اور زیادہ شدت کے ساتھ آئی ہے۔
“فضا میں طاقتور ہائی پریشر سسٹم گرم ہوا کو زمین کے قریب قید کر لیتا ہے، جس سے ٹھنڈی ہوائیں اور بادل بننے کا عمل رک جاتا ہے۔”
انہوں نے کہا کہ کمزور پری مون سون بارشیں اور “ایل نینو” جیسے موسمی رجحانات بھی شدید گرمی میں اضافے کا باعث بن رہے ہیں۔
اقوام متحدہ کے عالمی موسمیاتی ادارے (WMO) نے خبردار کیا ہے کہ رواں برس ایل نینو دوبارہ شدت اختیار کر سکتا ہے، جس سے دنیا بھر میں گرمی کی لہریں مزید خطرناک ہو سکتی ہیں۔
بھارت میں صورتحال سنگین
بھارت کے محکمہ موسمیات کے مطابق ملک کے کئی حصوں میں درجہ حرارت معمول سے 3 سے 5 ڈگری زیادہ رہنے کا امکان ہے۔
ریاست مہاراشٹرا کے شہروں اکولا اور امراوتی میں درجہ حرارت تقریباً 47 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا، جبکہ اپریل کے آخری ہفتے میں دنیا کے 90 گرم ترین شہروں میں اکثریت بھارتی شہروں کی تھی۔
رپورٹس کے مطابق شدید گرمی کے باعث دو اساتذہ اور کئی دیگر افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔
پاکستان میں ہیٹ ویو الرٹ

پاکستان میں بھی محکمہ موسمیات نے سندھ اور جنوبی علاقوں میں شدید ہیٹ ویو کی وارننگ جاری کر دی ہے۔
کراچی میں پیر کے روز درجہ حرارت 44 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا، جو 2018 کے بعد سب سے زیادہ تھا۔
محکمہ موسمیات کے مطابق جیکب آباد اور سکھر میں اس ہفتے پارہ 46 ڈگری تک جا سکتا ہے۔
حکام نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ:
دھوپ میں غیر ضروری باہر نہ نکلیں
زیادہ پانی استعمال کریں
بچوں اور بزرگوں کا خصوصی خیال رکھیں
بنگلہ دیش بھی متاثر
بنگلہ دیش کے دارالحکومت ڈھاکا سمیت کئی علاقوں میں درجہ حرارت 38 ڈگری تک پہنچ گیا۔
گزشتہ سال بنگلہ دیش نے 75 برس کی تاریخ کی سب سے طویل گرمی کی لہر دیکھی تھی، اور ماہرین کے مطابق صورتحال اب مزید خراب ہو سکتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ شدید گرمی کا سب سے زیادہ اثر غریب اور محنت کش طبقے پر پڑ رہا ہے، خاص طور پر وہ لوگ جو:
کھلے آسمان تلے کام کرتے ہیں
غیر ہوادار گھروں میں رہتے ہیں
ایئر کنڈیشننگ یا ٹھنڈک کی سہولیات نہیں رکھتے
ہارورڈ یونیورسٹی کے محقق کارتیکیہ بھٹوٹیہ کے مطابق:
شدید گرمی دل، گردوں، سانس اور ذہنی صحت پر خطرناک اثر ڈالتی ہے، جبکہ روزانہ اجرت پر کام کرنے والوں کی آمدنی بھی بری طرح متاثر ہوتی ہے۔