پاکستان میں بارشوں اور سیلاب کے دوران خیبرپختونخواہ اور گلگت بلتستان میں مختلف واقعات میں 670 ہلاکتیں اور ایک ہزار سے زائد افراد کی زخمی ہونے کی تصدیق کی گئی ہے، چیئرمین این ڈی ایم اے لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر کا کہنا ہے کہ زیادہ لاشیں خیبرپختونخوا سے ملی ہیں اور جب تک لاپتہ افراد کے متعلق پتا نہیں چل جاتا یا ان کی لاشیں نہیں مل جاتیں، ہماری کارروائیاں جاری رہیں گی۔
چیئرمین این ڈی ایم اے، اسلام آباد میں وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ اور ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر احمد شریف چوہدری کے ہمراہ ملک میں سیلاب اور مون سون بارشوں کے حوالے سے نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے ٓ) میں میڈیا کو بریفنگ دے رہے تھے۔

اس موقع پر وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ کا کہنا تھا کہ ریسکیو اور ریلیف کے لیے مربوط حکمتِ عملی اور پلان موجود ہے۔
چیئرمین این ڈی ایم اے نے مزید بتایا کہ پاکستانی فوج، ریسکیو اور مقامی انتظامیہ مل کر ان کارروائیوں میں حصہ لے رہے ہیں اور اب تک 25 ہزار افراد کو ریسکیو کیا جا چکا ہے۔
انھوں نے بتایا کہ اس سے قبل گلگت بلتستان اور شمالی علاقوں میں فلیش فلڈ کی وجوہات گلیشیئرز کا پگھلنا تھی۔ تاہم حالیہ تباہی کلاؤڈ برسٹ سے آئی ہے، بارشوں کا یہ سپیل 23 اگست تک چلے گا اور اس کے بعد اگست کے آخری ہفتے میں ایک اور سپیل متوقع ہے جو شمالی پنجاب، زیریں خیبر پختونخوا اور گلگت بلتستان کے کچھ علاقوں میں متوقع ہے۔
چیئرمین این ڈی ایم اے کا کہنا تھا کہ ہماری کوشش ہے کہ اگلے سپیل کے ختم ہوتے ہیں ان تمام علاقوں تک رسائی کو ممکن بنایا جائے جن سے رابطہ بارشوں اور سیلاب کے باعث کٹ چکا ہے اور اس کے بعد نقصانات کا تخمینہ لگانے کے لیے ایک سروے کیا جائے گا۔
ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر احمد شریف چوہدری کا کہنا تھا کہ شمالی علاقہ جات اور خیبرپختونخوا میں بارشوں کا سلسہ شروع ہوتے ہی فیلڈ مارشل کی ہدایت پر آرمی اور وہاں جو یونٹس موجود تھیں، ان کے علاوہ اضافی یونٹس کو بھی موبلائز کیا گیا۔
ان کا کہنا تھا کہ اس وقت خیبرپختونخوا میں انفنٹری اور ایف سی کی آٹھ یونٹس جبکہ گلگت بلتستان میں ایک یونٹ (کل نو) سرچ اور ریسکیو اور فلڈ ریلیف میں حصہ لے رہی ہیں۔
انھوں نے بتایا کہ سیلاب زدہ علاقوں میں فوج کی انجینرئنگ بٹالین سڑکوں کو کھولنے کے کام کے لیے تعینات کر دی گئیں ہیں۔ اس کے علاوہ میڈیکل کی یونٹس تعینات کی گئی ہیں اور میڈیکل کیمپ آپریٹ ہو رہے ہیں۔
انھوں نے بتایا کہ آرمی ایویشن بھی تعینات ہے اور موسم کے مطابق ریسیکیو کارروائیوں میں حصہ لے رہی ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ ذارئع مواصلات کی بحالی کے لیے اس وقت فوج کی سگنل یونٹس پی ٹی اے کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہیں اور اب تک 16 بی ٹی ایس ٹاروز کو رپیئر کیا جا چکا ہے۔
خیبر پختونخوا صوبے میں بارشوں اور اس کے نتیجے میں آنے والے فلیش فلڈز کی وجہ سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ضلع بونیر میں 225 افراد ہلاک ہوئے ہیں اور 118 افراد تاحال لاپتہ ہیں۔
شدید بارش نے کراچی کو ڈبودیا
سندھ بھر میں گذشتہ شپ سے موسلادھار بارشیں جاری ہیں، جبکہ کہ کراچی میں شدید بارش نے جل تھل ایک کردیا، کئی سڑکیں ڈوب گئیں، ریڈ لائن منصوبے سمیت ادھورے ترقیاتی کاموں نے شہریوں کو دہری مشکل میں مبتلا کردیا

کورنگی میں سب سے زیادہ 148 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی جاچکی ہے جبکہ شہر کے دیگر علاقوں میں بھی 100 ملی میٹر تک بارش برس چکی ہے، ملیر لیاقت مارکیٹ سمیت کئی علاقوں میں پانی گھروں میں داخل ہوگیا۔
کراچی میں طویل انتظار کے بعد ہونے والی بارش نے میئر کراچی اور سندھ حکومت کے دعوؤں کو دھو ڈالا، شہر میں صبح سے شروع ہونے والے بارش کے سلسلے نے جل تھل ایک کردیا، شہر کے بیشتر علاقے اور مرکزی سڑکیں پانی میں ڈوب گئیں۔
شارع فیصل پر نرسری، فیصل بیس سمیت کئی مقامات پر گھٹنوں گھٹنو پانی جمع ہوگیا ہوگیا،نیشنل ہائی پر قائد آباد اور قذافی ٹاؤن کے اطراف بھی سڑکوں پر گھٹنوں گھٹنوں پانی کھڑا ہوگیا،ملیر لیاقت مارکیٹ سمیت کئی علاقوں میں گھروں میں کئی کئی فٹ پانی داخل ہوگیا۔
ریڈ لائن منصوبے کے تعمیراتی کام کے باعث یونیورسٹی روڈ پر صفورہ، موسمیات، نیو ٹاؤن، جیل چورنگی تک صورتحال تشویشناک صورت اختیار کرگئی۔
بارش کے بعد شہر کی سڑکیں تلاب کا منظر پیش کرنے لگیں، سڑکوں پر پانی جمع ہونے سے شہریوں کو مشکلات کا سامنا ہے جبکہ ادھورے ترقیاتی کاموں نے رہی سہی کسر پوری کردی۔
لیاقت آباد میں سڑک دھسنے سے مسافر بس گڑھے میں پھنس گئی، عزیز آباد میں سڑک دھسنے سے موٹرسائیکل کو نقصان پہنچا، شہر کی مختلف سڑکوں پر پانی جمع ہونے سے موٹرسائیکلیں خراب ہوگئیں۔
حیدرآباد، میرپور خاص، ٹھٹھ، سجاول، بدین، شہید بینظیر آباد، نوشہرو فیروز، خیرپور، سکھر، شکارپور، کندھ کوٹ، جیکب آباد، گھوٹکی اور دیگر اضلاع میں بارش سے نشیبی علاقوں میں پانی بھر گیا ہے۔
محکمہ موسمیات کی جانب سے دادو، بدین، حیدرآباد، شکارپور، کشمور، شہید بینظیر آباد، سانگھڑ، اسلام کوٹ اور نگرپارکر میں مزید بارشوں کی پیش گوئی کی گئی ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق آئندہ چوبیس گھنٹے کے دوران بلوچستان کے بیشتر علاقوں میں مطلع ابر آلود رہنے کے علاوہ چند مقامات پر بارش کا امکان ہے۔
آواران، لسبیلہ اور خضدار میں چند مقامات پر تیز اور موسلادھار بارش بھی متوقع ہے۔
بلوچستان میں بارشیں، کوئٹہ سبی شاہراہ بند، 22 افراد ہلاک
بلوچستان کے ضلع کچھی میں موسلادھار بارش کے باعث کوئٹہ-سبی شاہراہ بند ہوگئی ہے۔ حکام کے مطابق بی بی نانی کے مقام پر کوئٹہ سبی شاہراہ کو ٹریفک کے لیے بند کردیا گیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر کچھی نے کہا ہے کہ مسافر کوئٹہ سے سبی کے لیے سفر نہ کریں، ہرنائی اور گردونواح کے علاقوں اور پہاڑی سلسلوں میں گرج چمک کے ساتھ طوفانی بارش جاری ہے۔
ندی نالوں میں سیلاب کے پیش نظر تمام محکموں کو الرٹ جاری کردیا گیا، ڈیرہ بگٹی میں بارش کے دوران ایف سی کے اہلکار عوام کو درپیش مشکلات کے وقت عوام کے ساتھ شانہ بشانہ موجود رہے اور ہر ممکن مدد فراہم کی۔
پی ڈی ایم اے بلوچستان نے صوبے میں 28 جون سے اب تک مون سون بارشوں کے دوران ہونے والے نقصانات کی رپورٹ جاری کی ہے، جس کے مطابق بارشوں کے دوران مختلف واقعات کے دوران 13 خواتین، 4 بچوں سمیت 22 افراد جاں بحق ہوئے ہیں۔
پی ڈی ایم اے بلوچستان کے مطابق اموات سیلابی ریلے میں بہنے، ڈیم میں ڈوبنے، دیوار، چھت اور آسمانی بجلی گرنے سے ہوئیں، حادثات میں 2 خواتین سمیت 11 افراد زخمی ہوئے۔
دریائے سندھ کے تینوں بیراجز پر پانی کی صورتحال
پنجاب سمیت ملک کے بالائی علاقوں میں موسلادھار بارش کے بعد سندھ میں پانی کی آمد میں اضافہ جاری ہے۔ سندھ میں دریائے سندھ کے تینوں بیراجوں پر پانی کی سطح میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔
پانی میں اضافے کے بعد گڈو بیراج پر پانی کا بالائی بہاؤ 3 لاکھ 60 ہزار 769 کیوسک اور زیریں بہاوٴ 3 لاکھ 38 ہزار 598 کیوسک ریکارڈ کیا گیا۔
سکھر بیراج پر پانی کا اپ اسٹریم بہاؤ دو لاکھ 85 ہزار 790 کیوسک اور ڈاون اسٹریم کا بہاؤ دو لاکھ 34 ہزار 890 کیوسکس ریکارڈ کیا گیا ہے۔ محکمہ آبپاشی کی طرف سے سکھر بیراج پر نچلے درجے کا سیلاب ڈکلیئر کیا گیا ہے۔
کوٹری بیراج پر پانی کا بالائی بہاؤ 94 ہزار 608 کیوسک اور زیریں بہاوٴ 81 ہزار 888 کیوسک ریکارڈ کیا گیا۔
پنجاب کے دریاؤں میں پانی کی سطح مسلسل بڑھ رہی ہے
پاکستان کے مختلف علاقوں میں جاری بارشوں کی وجہ سے مُلک کے مختلف دریاؤں میں پانی کی سطح بڑھ رہی ہے تاہم صوبائی سطح پر قدرتی آفات سے نمٹنے والے ادارے پی ڈی ایم اے کے ترجمان کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ پنجاب کے دریاؤں میں بلخصوص پانی کے بہاؤ میں اضافہ ہو رہا ہے۔

ترجمان پی ڈی ایم اے کے مطابق دریائے سندھ میں تربیلا کے مقام پر نچلے درجے کا سیلاب اور پانی کا بہاؤ 3 لاکھ 9 ہزار کیوسک ہے۔ کالا باغ کے مقام پر درمیانے درجے کا سیلاب اور پانی کا بہاؤ 4 لاکھ 40 ہزار کیوسک ہے۔ چشمہ کے مقام پر پانی کا بہاؤ 4 لاکھ 92 ہزار کیوسک اور درمیانے درجے کی سیلابی صورتحال ہے اور تونسہ کے مقام پر درمیانے درجے کی سیلابی صورتحال اور پانی کا بہاؤ 4 لاکھ 89 ہزار کیوسک ہے۔
پی ڈی ایم کے جانب سے جاری بیان میں مزید بتایا گیا ہے کہ دریائے راوی میں جسڑ کے مقام پر نچلے درجے کا سیلاب اور پانی کا بہاؤ 53 ہزار کیوسک ہے۔ شاہدرہ کے مقام پر پانی کا بہاؤ 36 ہزار کیوسک اور بہاؤ نارمل سطح پر ہے۔ دریائے راوی میں آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران نچلے سے درمیانے درجے کے سیلاب کا خدشہ ہے۔ دریائے ستلج میں گنڈا سنگھ والا اور سلیمانکی کے مقام پر نچلے درجے کی سیلابی صورتحال ہے۔
تاہم ترجمان پی ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ گنڈا سنگھ کے مقام پر نچلے درجے کا سیلاب اور پانی کا بہاؤ 64 ہزار کیوسک، سلیمانکی کے مقام پر نچلے درجے کا سیلاب اور پانی کا بہاؤ 71 ہزار کیوسک ہے۔
ڈی جی پی ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ دریاؤں کے اطراف میں موجود شہری فوری محفوظ مقامات پر منتقل ہو جائیں اور دریاؤں کے قریب جانے سے اجتناب کریں اسی کے ساتھ ساتھ بچوں کا خاص خیال رکھیں انھیں دریاؤں ندی نالوں میں ہرگز نہ نہانے دیں اور دریاؤں نہروں اور ندی نالوں کے اطراف سیرو تفریح سے گریز کریں۔
حکومت پنجاب کی جانب سے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں فلڈ ریلیف کیمپس قائم کر دئیے گئے ہیں۔ فلڈ ریلیف کیمپس میں تمام تر بنیادی سہولیات اور ادویات فراہم کی جائیں گی۔