بنگلہ دیش کے خلاف جاری پانچ روزہ ٹیسٹ میچ میں پاکستان کے نوجوان اوپنر Azan Awais نے اپنے انٹرنیشنل کیریئر کا آغاز یادگار انداز میں کرتے ہوئے ڈیبیو اننگز میں 85 رنز بنا ڈالے۔ پہلی ہی ٹیسٹ اننگز میں پراعتماد اور ذمہ دارانہ بیٹنگ نے انہیں شائقین اور ماہرینِ کرکٹ کی توجہ کا مرکز بنا دیا۔
سیالکوٹ سے تعلق رکھنے والے بائیں ہاتھ کے بیٹر اذان اویس کا کرکٹ سفر بچپن کے ایک سادہ لمحے سے شروع ہوا، جب ان کے والد نے انہیں کھیلنے کے لیے پلاسٹک کا بیٹ اور گیند خرید کر دی۔ اذان اویس ایک انٹرویو میں بتا چکے ہیں کہ وہ دیوار کے ساتھ اکیلے کرکٹ کھیلتے رہتے تھے، جس کے بعد ان کے والد نے انٹرنیٹ سے کوچنگ کے طریقے سیکھ کر انہیں باقاعدہ تربیت دینا شروع کی۔
10 اکتوبر 2004 کو سیالکوٹ میں پیدا ہونے والے اذان اویس نے کم عمری میں ہی اپنی تکنیکی مہارت، تحمل مزاجی اور لمبی اننگز کھیلنے کی صلاحیت سے مقامی کرکٹ میں شناخت بنانا شروع کردی تھی۔ اسکول اور انڈرایج کرکٹ میں عمدہ کارکردگی کے بعد وہ جلد ہی پاکستان انڈر 19 ٹیم کا حصہ بن گئے۔
اذان اویس نے پہلی مرتبہ سنجیدہ توجہ اس وقت حاصل کی جب انہوں نے 2023 میں سری لنکا کے خلاف انڈر 19 ٹیسٹ میچ میں شاندار سنچری اسکور کی۔ بعد ازاں ICC Under-19 Cricket World Cup میں بھی انہوں نے پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے اہم اننگز کھیلیں، جبکہ ایشیا کپ انڈر 19 میں بھارت کے خلاف ناقابلِ شکست 105 رنز نے ان کی صلاحیتوں کو مزید اجاگر کردیا۔
بھارت کے خلاف اس یادگار اننگز میں پاکستان نے آٹھ وکٹوں سے کامیابی حاصل کی تھی اور اذان اویس کو پلیئر آف دی میچ قرار دیا گیا تھا۔ دباؤ میں ذمہ دارانہ بیٹنگ نے ثابت کردیا کہ وہ بڑے مقابلوں میں بھی اعتماد کے ساتھ کھیلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
انڈر 19 کرکٹ میں کامیابی کے بعد اذان اویس نے ڈومیسٹک کرکٹ میں بھی اپنی صلاحیتوں کے جھنڈے گاڑ دیے۔ قائداعظم ٹرافی 2024-25 میں انہوں نے سیالکوٹ کی نمائندگی کرتے ہوئے مسلسل بڑی اننگز کھیلیں۔ اپنے تیسرے ہی فرسٹ کلاس میچ میں 130 رنز کی اننگز کھیلنے کے بعد انہوں نے ایک میچ میں ناقابلِ شکست 203 رنز بھی بنائے۔
اسی سیزن میں انہوں نے 168 اور 121 رنز کی مزید بڑی اننگز کھیل کر خود کو ٹورنامنٹ کے نمایاں بیٹرز میں شامل کرلیا۔ سیالکوٹ نے ٹورنامنٹ جیتا جبکہ اذان اویس 844 رنز کے ساتھ ایونٹ کے سب سے زیادہ رنز بنانے والے کھلاڑی رہے۔
جنوری 2025 میں پریزیڈنٹ کپ میں بھی انہوں نے شاندار بیٹنگ کا سلسلہ جاری رکھا اور صرف نو فرسٹ کلاس میچز میں ایک ہزار رنز مکمل کرکے اپنی مستقل مزاجی کا ثبوت دیا۔
فرسٹ کلاس کرکٹ میں اذان اویس اب تک 33 میچز میں 2673 رنز بنا چکے ہیں، جن میں 10 سنچریاں اور 9 نصف سنچریاں شامل ہیں۔ ان کی اوسط تقریباً 49 رہی، جو ایک نوجوان اوپنر کے لیے غیرمعمولی کارکردگی تصور کی جاتی ہے۔
پاکستان شاہینز کے دورۂ انگلینڈ میں بھی انہوں نے بہترین کھیل پیش کیا اور سات اننگز میں 276 رنز بنا کر سلیکٹرز کو مزید متاثر کیا، جس کے بعد ان کے لیے قومی ٹیم کے دروازے کھل گئے۔
بالآخر 8 مئی 2026 کو میرپور میں بنگلہ دیش کے خلاف انہیں پاکستان کی ٹیسٹ کیپ نمبر 261 دی گئی۔ اذان اویس کا یہ سفر صرف قومی ٹیم تک رسائی کی کہانی نہیں بلکہ مسلسل محنت، صبر اور عزم کی ایک متاثر کن مثال بھی ہے۔ نوجوان بیٹر کی تکنیکی مضبوطی اور لمبی اننگز کھیلنے کی صلاحیت اس بات کا اشارہ دے رہی ہے کہ پاکستان کو مستقبل کے لیے ایک قابلِ اعتماد اوپنر مل سکتا ہے۔