پمز نرسری میں آگ کے بعد اہم سوال، اسپتال کا فائر سیفٹی این او سی کہاں ہے؟

فہرستِ مضامین

اسلام آباد: پمز اسپتال کے پاس فائر سیفٹی کا این او سی موجود نہ ہونے کا انکشاف ہوا ہے، جبکہ اسپتالوں اور دیگر طبی اداروں کو لائسنس جاری کرنے والی اسلام آباد ہیلتھ کیئر ریگولیٹری اتھارٹی کے اپنے دفتر میں بھی فائر سیفٹی کے انتظامات پر سوالات اٹھ گئے ہیں۔

ذرائع کے مطابق پمز اسپتال کے پاس فائر سیفٹی سے متعلق ضروری این او سی موجود نہیں، جبکہ اسلام آباد ہیلتھ کیئر ریگولیٹری اتھارٹی کے پاس بھی فائر سیفٹی کمپلیشن سرٹیفکیٹ موجود نہیں ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اتھارٹی اسپتالوں، لیبارٹریوں اور کلینکس کے لائسنس فائر سیفٹی کے مطلوبہ انتظامات مکمل کیے بغیر بھی تجدید کرتی رہی ہے۔

ذرائع کے مطابق آئی ایچ آر اے اور فائر ڈیپارٹمنٹ کے این او سی کے بغیر بھی بعض طبی اداروں کے لائسنس کی تجدید کی جاتی ہے، جبکہ لائسنس ری نیول کے لیے نومبر اور دسمبر میں ریسکیو ٹریننگ کی تصاویر کو بطور ثبوت استعمال کیے جانے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔

ذرائع نے مزید بتایا کہ سی ڈی اے فائر سیفٹی کے انتظامات مکمل کیے بغیر سرٹیفکیٹ جاری نہ کرنے کے حوالے سے اتھارٹی کو دو مرتبہ خطوط ارسال کرچکا ہے، تاہم ان خطوط کا تاحال کوئی جواب نہیں دیا گیا۔

اسلام آباد ہیلتھ کیئر ریگولیٹری اتھارٹی طبی اداروں کی سیفٹی اور سکیورٹی یقینی بنانے کی ذمہ دار ریگولیٹری باڈی ہے۔ اسپتالوں کے سالانہ لائسنس ری نیول کے لیے فائر سیفٹی کے انتظامات اور متعلقہ عملے کی تربیت بھی لازمی تقاضوں میں شامل ہے۔

یہ انکشاف ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بدھ کی صبح پمز اسپتال کے گائنی وارڈ کی نرسری میں آگ لگنے سے 14 نومولود مبینہ طور پر جھلس کر جاں بحق ہوگئے تھے۔

واقعے کے بعد اسپتال میں فائر سیفٹی کے انتظامات، نگرانی کے نظام اور متعلقہ اداروں کی جانب سے حفاظتی تقاضوں پر عمل درآمد کے حوالے سے سنگین سوالات اٹھ رہے ہیں۔

مزید خبریں

مقبول ترین خبریں