چین نے امریکی پابندیوں کو ماننے سے انکار کر دیا، ایرانی تیل پر بڑا سفارتی محاذ کھل گیا

فہرستِ مضامین

بیجنگ: چین نے پہلی مرتبہ اپنے انسدادِ پابندیاں قانون کا عملی استعمال کرتے ہوئے شہریوں اور مقامی کمپنیوں کو ہدایت جاری کی ہے کہ وہ ایرانی تیل خریدنے والی چینی ریفائنریوں پر عائد امریکی پابندیوں پر عمل نہ کریں۔

چینی وزارتِ تجارت نے ہفتے کے روز جاری حکم نامے میں واضح کیا کہ امریکا کی جانب سے پانچ چینی آئل ریفائنریوں، خصوصاً “ہینگ لی پیٹروکیمیکل (دالیان)” پر لگائی گئی پابندیوں کو نہ تسلیم کیا جائے گا اور نہ ہی ان پر عمل درآمد کیا جائے گا۔

یہ اقدام ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکی محکمہ خزانہ نے گزشتہ ماہ چین کی بڑی نجی ریفائنریوں میں شامل “ہینگ لی” پر الزام عائد کیا تھا کہ وہ ایرانی خام تیل خرید کر ایران کی فوجی سرگرمیوں کے لیے کروڑوں ڈالر کی آمدنی کا ذریعہ بن رہی ہے۔ واشنگٹن نے اس ریفائنری کو تہران کے اہم ترین خریداروں میں شمار کیا تھا۔

چینی حکومت کا مؤقف ہے کہ امریکا کی یکطرفہ پابندیاں بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے اصولوں کے خلاف ہیں۔ بیجنگ نے کہا کہ امریکی اقدامات چین کی خودمختاری، سلامتی اور معاشی مفادات کو نقصان پہنچانے کی کوشش ہیں۔

چین اس وقت ایران کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار اور ایرانی تیل کا سب سے بڑا خریدار ہے۔ مارکیٹ انٹیلی جنس ادارے “کپلر” کے مطابق 2025 کے دوران ایران کی 80 فیصد سے زائد تیل برآمدات چین کو موصول ہوئیں۔

چین کا انسدادِ پابندیاں قانون کیسے کام کرتا ہے؟

چین نے یہ قانون 2021 میں متعارف کرایا تھا، جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پہلے دورِ حکومت میں چینی کمپنیوں اور ٹیکنالوجی سیکٹر پر متعدد پابندیاں عائد کی گئی تھیں۔

قانون کے تحت اگر کسی چینی کمپنی یا فرد کو غیر ملکی پابندیوں کی وجہ سے کاروباری رکاوٹ کا سامنا ہو تو اسے 30 دن کے اندر وزارتِ تجارت کو رپورٹ کرنا لازم ہوگا۔

اگر وزارت یہ سمجھے کہ غیر ملکی قانون کا “غیر منصفانہ بیرونی اطلاق” کیا گیا ہے تو وہ باضابطہ حکم جاری کر سکتی ہے کہ متعلقہ کمپنی امریکی یا غیر ملکی پابندیوں پر عمل نہ کرے۔

مزید یہ کہ اگر کسی کمپنی کو بیرونی پابندیوں پر عمل کرنے کے باعث نقصان پہنچتا ہے تو وہ عدالت سے ہرجانے کا دعویٰ بھی کر سکتی ہے، جبکہ بعض صورتوں میں چینی حکومت اس کی مدد بھی کرے گی۔

امریکا اور چین کے درمیان کشیدگی میں نیا موڑ

ماہرین کے مطابق یہ پہلا موقع ہے کہ بیجنگ نے اپنے انسدادِ پابندیاں قانون کو باضابطہ طور پر نافذ کیا ہے، جسے امریکا کے خلاف ایک واضح اور سخت پیغام سمجھا جا رہا ہے۔

سیاسی تجزیہ کار ڈومینک چیو کے مطابق چین اب امریکی دباؤ کا جواب دینے کے لیے زیادہ جارحانہ قانونی حکمتِ عملی اختیار کر رہا ہے اور اس نے ٹرمپ دور کے بعد سے جوابی اقدامات کے کئی نئے ذرائع تیار کیے ہیں۔

دوسری جانب ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اس صورتحال سے عالمی کمپنیوں کے لیے مشکلات بڑھ سکتی ہیں، کیونکہ اب انہیں امریکی پابندیوں اور چینی قوانین کے درمیان انتخاب کرنا پڑ سکتا ہے۔

ماہرہ نعیمہ معصومی کے مطابق وہ کمپنیاں جن کا انحصار امریکی مالیاتی نظام، ڈالر یا امریکی بینکوں پر زیادہ ہے، ان کے لیے امریکی پابندیوں کو نظر انداز کرنا آسان نہیں ہوگا۔ تاہم چین میں گہری موجودگی رکھنے والی کمپنیوں کے لیے بیجنگ کے احکامات ماننا زیادہ ضروری بن سکتا ہے۔

کیا چین کا ماڈل دوسرے ممالک بھی اپنائیں گے؟

چینی سرکاری میڈیا نے اس اقدام کو امریکی “دور رس دباؤ” کے خلاف عالمی برادری کے لیے مثال قرار دیا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ چین کا یہ ماڈل مستقبل میں روس، یورپی یونین اور دیگر طاقتوں کو بھی ایسے قوانین متعارف کرانے کی ترغیب دے سکتا ہے تاکہ وہ امریکی پابندیوں کے اثرات کا مقابلہ کر سکیں۔

تاہم بعض تجزیہ کاروں کے مطابق ایران اور روس جیسے ممالک پہلے ہی امریکی مالیاتی نظام سے بڑی حد تک کٹ چکے ہیں، اس لیے ان کے لیے ایسے قوانین کی عملی افادیت محدود ہو سکتی ہے۔

مزید خبریں

مقبول ترین خبریں