امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے حوالے سے سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ایران کو جنگ کے خاتمے کے لیے فوری معاہدہ کرنا ہوگا، بصورت دیگر اسے پہلے سے کہیں زیادہ شدید امریکی فوجی کارروائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے ایجنسی فرانس پریس کے مطابق صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں کہا کہ اگر ایران پہلے سے طے شدہ شرائط کو قبول کر لیتا ہےجسے انہوں نے ایک “بڑا مفروضہ” قرار دیا تو امریکا اپنی جاری عسکری مہم ’ایپک فیوری‘ ختم کر دے گا۔
تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ اگر تہران نے ان شرائط کو مسترد کیا تو پھر امریکا بھرپور طاقت کے ساتھ کارروائی کرے گا، اور یہ حملے ماضی کے مقابلے میں زیادہ شدید اور وسیع ہوں گے۔
یہ سخت بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب سفارتی محاذ پر پیش رفت کی اطلاعات بھی گردش کر رہی ہیں۔ امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق واشنگٹن اور تہران ایک مختصر مفاہمتی معاہدے کے قریب پہنچ رہے ہیں، جس کا مقصد جنگ کا خاتمہ اور مستقبل کے جوہری مذاکرات کے لیے بنیاد فراہم کرنا ہے۔
دوسری جانب صدر ٹرمپ نے ایک روز قبل آبنائے ہرمز میں جاری امریکی فوجی آپریشن کو اچانک معطل کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ فیصلہ ممکنہ معاہدے کو موقع دینے کے لیے کیا گیا ہے، تاکہ تنازع کو سفارتی طریقے سے حل کیا جا سکے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق واشنگٹن کی جانب سے ایک طرف مذاکرات کے اشارے اور دوسری جانب سخت دھمکی آمیز بیانات، اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ امریکا بیک وقت دباؤ اور سفارتکاری—دونوں حکمت عملیوں کو استعمال کر رہا ہے۔