اسلام آباد: وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے پمز اسپتال میں آتشزدگی کے افسوسناک واقعے پر خود کو بھی احتساب کے لیے پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف ان کے باس ہیں اور وہ اس معاملے میں جو بھی فیصلہ کریں گے، انہیں قبول ہوگا۔
پمز اسپتال کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر صحت نے کہا کہ سانحے کے ذمہ دار کسی بھی شخص کو غفلت یا کوتاہی کی صورت میں نہیں چھوڑا جائے گا اور واقعے کی مکمل تحقیقات کی جا رہی ہیں۔
استعفے سے متعلق سوال پر مصطفیٰ کمال نے کہا کہ احتساب کے لیے سب سے پہلے انہوں نے خود کو وزیراعظم کے سامنے پیش کیا ہے۔ ان کے بقول وزیراعظم ان کے باس ہیں اور وہ جو بھی فیصلہ کریں گے، اسے قبول کریں گے۔
وفاقی وزیر صحت نے اسپتال کی سیکیورٹی اور انخلا کے راستوں سے متعلق بھی اہم تفصیلات بتائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ دوسرے دروازے پر 24 گھنٹے سیکیورٹی گارڈ تعینات رہتا ہے، کیونکہ ماضی میں اسی راستے سے نومولود بچوں کے چوری ہونے کے واقعات سامنے آتے رہے ہیں۔ ان کے مطابق انخلا کے راستے پر بھی گارڈ کی ڈیوٹی موجود ہوتی ہے۔
مصطفیٰ کمال نے بتایا کہ سی سی ٹی وی فوٹیج میں صبح 6 بج کر 38 منٹ پر ایئر کنڈیشنر کے قریب اسپارکنگ ہوتی دکھائی دیتی ہے، جبکہ 6 بج کر 39 منٹ پر لوگوں کو وہاں سے بھاگتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ واقعے سے متعلق کوئی بھی چیز چھپائی نہیں جائے گی اور تمام شواہد سامنے لائے جائیں گے۔ ان کے مطابق مکمل تحقیقات جاری ہیں اور انکوائری رپورٹ آئندہ دو سے تین روز میں سامنے آنے کی توقع ہے۔
وفاقی وزیر صحت کا کہنا تھا کہ اگر تحقیقات میں کسی فرد کی جانب سے ذمہ داری پوری نہ کرنے یا غفلت ثابت ہوئی تو اس کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔
مصطفیٰ کمال نے بتایا کہ وہ بیرونِ ملک سے واپسی پر ایئرپورٹ سے براہِ راست پمز اسپتال پہنچے ہیں اور اسپتال کے بعد وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کے لیے جائیں گے۔