کراچی کا بدلتا سمندر: مچھلی، مینگروز اور آلودگی کی کہانی

فہرستِ مضامین

فہمیدہ ریاض

ہر صبح جب سورج سمندر کے اوپر طلوع ہوتا ہے تو 74 سالہ طالب کچھی ساحل کی طرف جاتے ہیں۔ وہ لہروں کو کنارے سے ٹکراتے، بندرگاہ میں لکڑی کی کشتیوں کو آہستہ آہستہ ہچکولے کھاتے اور مقامی ماہی گیروں کو دن بھر کے لیے اپنے جال تیار کرتے دیکھتے ہیں۔
ایک اجنبی کے لیے یہ ایک پُرسکون ساحلی منظر ہو سکتا ہے، لیکن طالب کے لیے یہی پانی ایک بالکل مختلف کہانی سناتا ہے۔
جب طالب بھٹا ولیج میں دس سال کے بچے تھے تو سمندر آج کی طرح گدلا اور سیاہ نہیں تھا۔ اس وقت پانی شفاف اور نیلا تھا۔
طالب ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ اپنا بچپن یاد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ
“پانی اتنا صاف تھا کہ اگر کوئی چاندی کا روپیہ سمندر میں پھینکتا تو ہم بچے فوراً ڈبکی لگا کر اسے ریت تک پہنچنے سے پہلے ہی پکڑ لیتے تھے۔ میری والدہ ہمیں اپنا دوپٹہ دیتی تھیں اور ہم گھر کے قریب پانی میں جا کر اسے سمندر کی تہہ پر رگڑتے تھے تاکہ تازہ جھینگے پکڑ سکیں۔”
اس وقت زندگی سمندر کی لہروں کے ساتھ چلتی تھی۔ ماہی گیر بادبان والی روایتی کشتیوں میں سمندر کا رخ کرتے، دن بھر مچھلیاں پکڑتے اور رات کو واپس آ جاتے۔

لیکن گزشتہ پانچ دہائیوں کے دوران، جیسے جیسے کراچی لاکھوں لوگوں پر مشتمل ایک بڑے شہر میں تبدیل ہوا، سمندر بھی آہستہ آہستہ بدلنے لگا۔
نیلے پانی سے سیاہ کیچڑ تک
1970 کی دہائی کے وسط تک شہر کے مختلف علاقوں میں فیکٹریوں کی تعداد بڑھنے لگی۔ گندے پانی کو صاف کرنے کے نظام کا استعمال محدود تھا، جبکہ لاکھوں گیلن غیر صاف شدہ سیوریج اور صنعتی فضلہ براہِ راست سمندر میں جانے لگا۔
آج اگر آپ منوڑہ یا پیراڈائز پوائنٹ کے معروف ساحلوں کا رخ کریں تو طالب کے بچپن کا وہ شفاف نیلا سمندر کہیں دکھائی نہیں دیتا۔
پیراڈائز پوائنٹ میں، جہاں کبھی خاندان سمندری ہوا اور قدرتی حسن سے لطف اندوز ہونے آتے تھے، ایک حالیہ تحقیق میں ساحل سے ملنے والے کچرے میں تقریباً 90 فیصد پلاسٹک پایا گیا۔ اس میں زیادہ تر کھانے پینے کی اشیا کے ریپر، بوتلیں اور شاپنگ بیگز شامل تھے۔
مزید آگے بلیجی ساحل پر آلودگی کی ایک مختلف تصویر نظر آتی ہے۔ یہاں ساحل پر پرانے ربڑ کے جوتے اور چپلیں، جبکہ مچھلی پکڑنے کے پھینکے گئے جال نمایاں ہیں۔

یہ لاوارث جال ایک خاموش المیے کو جنم دیتے ہیں جسے “گھوسٹ فشنگ” کہا جاتا ہے۔ پانی میں پھنسے یہ جال ماہی گیر کے ساحل پر واپس آنے کے بعد بھی مچھلیوں، کیکڑوں اور کچھوؤں کو پکڑتے اور پھنساتے رہتے ہیں۔
مچھلی کے جسم کے اندر پلاسٹک
آلودگی صرف سمندر کی سطح پر تیرتے کچرے تک محدود نہیں رہی بلکہ اس نے خاموشی سے سمندری حیات کے جسم میں بھی جگہ بنا لی ہے۔
محقق نازیہ ارشد کی قیادت میں ہونے والی ایک سائنسی تحقیق میں کراچی کے ساحل سے پکڑی گئی 127 مچھلیوں کا جائزہ لیا گیا۔
جب محققین نے ان مچھلیوں کے نظامِ ہاضمہ کا معائنہ کیا تو انہیں مجموعی طور پر 5,260 مائیکرو پلاسٹک ذرات ملے۔
مقامی طور پر پائی جانے والی ایک مچھلی، گِنگرا میں اوسطاً 76 مائیکرو پلاسٹک ذرات فی مچھلی پائے گئے۔ دیگر عام مچھلیوں، جن میں راھو، کیٹ فش، سُرمئی اور بانگڑا شامل ہیں، میں بھی مائیکرو پلاسٹک موجود تھا۔ ان مچھلیوں ساخل سمندر سے لیکر گہرے سمندر سے حاصل کیے گئے تھے یعنی ہر جگہ سمندری آلودگی پہنچ چکی ہے۔
کراچی کی سڑکوں اور ساحلوں پر پھینکا جانے والا پلاسٹک اب سمندری حیات کے جسم کے اندر پہنچ رہا ہے۔
طالب کچھی کہتے ہیں “جب ہم آج وہی مچھلی کھاتے ہیں جو پچاس سال پہلے کھاتے تھے تو اس کے ذائقے میں بھی فرق محسوس ہوتا ہے۔ سمندر زہریلا ہو گیا ہے۔”

غائب ہوتے سبز محافظ


آلودگی سے صرف مچھلیاں ہی متاثر نہیں ہو رہیں، کراچی کی سمندری حیات کا ایک اہم حصہ مینگرووز کے جنگلات ہیں۔ یہ ایسے درخت ہیں جو ساحل

کے ساتھ مدوجزر کے پانی میں اگتے ہیں اور ساحلی ماحولیاتی نظام کے لیے قدرتی حصار کا کام کرتے ہیں۔
فشرمین کوآپریٹو سو سائیٹی کی پہلی خاتون چیئر پرسن فاطمہ مجید جو ابراہم حیدری کی رہائشی ہیں بتاتی ہیں کہ اپنے علاقے کے مینگرووز میں آنے والی تبدیلی کو اپنی آنکھوں سے دیکھ چکی ہیں۔
وہ کہتی ہیں کہ “جب میں چھوٹی تھی تو مینگرووز ایک گھنی، سبز دیوار کی طرح دکھائی دیتے تھے جو ہمارے ساحل کی حفاظت کرتی تھی۔ وہ بہت گھنے اور زندگی سے بھرپور تھے۔”

مینگرووز کی جڑیں مچھلیوں اور جھینگوں کے بچوں کے لیے قدرتی نرسری کا کام کرتی ہیں، جہاں وہ محفوظ رہ کر نشوونما پاتے ہیں۔ لیکن اب ان جنگلات کے اندر کی صورت حال تشویش ناک ہے۔
لہروں کے ساتھ آنے والے پلاسٹک کے شاپنگ بیگز درختوں کی جڑوں میں پھنس جاتے ہیں۔ سیوریج سے آنے والی چکنائی اور آلودہ کیچڑ کے ساتھ مل کر یہ آلودگی ان ننھے درختوں کو متاثر کرتی ہے۔
دوسری جانب مینگرووز کے لیے ضروری میٹھے پانی کی فراہمی بھی متاثر ہوئی ہے۔ ماحولیاتی کارکن یاسر دریا خان کے مطابق دریائے سندھ کے پانی میں کمی اور سیوریج کی آلودگی دونوں مینگرووز کو متاثر کر رہے ہیں۔
وہ کہتے ہیں کہ “مینگرووز جو ہے، وہ دریائے سندھ اور میٹھے پانی اور سمندر کے ملاپ سے تخلیق ہوتے ہیں۔ ابھی ہمارے دریائے سندھ سے جو پانی جتنی مقدار میں آنا چاہیے، وہ نہیں آتا۔ اور پھر یہ جو گندا پانی ہے، جو سیوریج کا پانی ہے، اس کے آنے سے بھی مینگرووز ختم ہوتے جا رہے ہیں، سوکھتے جا رہے ہیں۔”
یاسر دریا خان مینگرووز کی کٹائی پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہیں۔

“ایک درخت جو مینگرووز ہے، اس کو کم سے کم 12 سال لگتے ہیں بڑا ہونے میں۔ تو ہم جس بے دردی سے اس کو کاٹ رہے ہیں، آپ یقین کریں بڑا افسوس ہوتا ہے۔”
سمندر کی موجودہ صورتحال کو بیان کرتے ہوئے وہ کہتے ہیں کہ “ہم اس میں چلیں گے تو ہمارے پیر کالے ہو جائیں گے اور پھر صابن سے بھی صاف نہیں ہوں گے۔ پہلے ایسا نہیں تھا۔”
کیا نیلا رنگ واپس آ سکتا ہے؟
کراچی کے گھروں، فیکٹریوں اور صنعتی علاقوں سے روزانہ بڑی مقدار میں گندا پانی سمندر میں ہی جاکر گرتا ہے، ملیر ندی اور لیاری ندی جو سمندر اور اس پر پلنے والی مخلوق کو زندگی بخشتی تھی اب یہ اس کی موت کا ذریعہ بن گئی ہیں۔

کراچی کے سمندر میں آلودگی صرف ساحل پر نظر آنے والے پلاسٹک تک محدود نہیں۔ شہر کا روزانہ خارج ہونے والا 40 کروڑ گیلن سے زیادہ غیر صاف شدہ شہری سیوریج اور صنعتی فضلہ بھی بالآخر بحیرہ عرب کا رخ کرتا ہے۔ لیاری اور ملیر ندیوں سمیت شہر کے آبی راستے اس فضلے کو اپنے ساتھ بہا کر بندرگاہوں، کریکس اور ساحلوں تک پہنچاتے ہیں۔ اس پانی میں سیوریج کے ساتھ تیل، بھاری دھاتیں اور دیگر صنعتی آلودگیاں بھی شامل ہو سکتی ہیں۔
سندھ انوائرنمنٹل پروٹیکشن ایجنسی کے مطابق صنعتی گندے پانی کا 90 فیصد سے زیادہ حصہ بغیر کسی ٹریٹمنٹ کے سمندر میں جا رہا ہے۔ ماہرین کہتے ہیں کہ اگر اس پانی کو صاف کیے بغیر سمندر میں جانے سے نہ روکا گیا تو ساحل کی صفائی کے باوجود آلودگی کا سلسلہ جاری رہے گا۔
اسی تناظر میں کراچی واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن کا ٹی پی فور ویسٹ واٹر ٹریٹمنٹ اینڈ ری سائیکلنگ پروجیکٹ اہم سمجھا جاتا ہے، جس کا مقصد سیوریج کو صاف کرنا اور صنعتی استعمال کے لیے پانی کو دوبارہ قابلِ استعمال بنانا ہے۔

لیکن اس منصوبے کے مکمل ہونے تک کراچی کے ساحل پر آلودگی کا مسئلہ برقرار رہنے کا خطرہ ہے۔
اس کے ساتھ ماہی گیری کے جالوں کے مناسب انتظام، صنعتی فضلے کی نگرانی، سنگل یوز پلاسٹک کے استعمال میں کمی اور ساحلوں پر کچرے کے مؤثر نظام کی بھی ضرورت ہے۔
ماہی گیری کے شعبے میں ماحول دوست ٹیکنالوجی کا استعمال بھی اس مسئلے کے ممکنہ حل کا ایک حصہ ہو سکتا ہے۔
گرین فنانسنگ کے ذریعے ماہی گیروں کو کم توانائی استعمال کرنے والے آلات، ماحول دوست ٹیکنالوجی اور دیگر پائیدار کاروباری سرگرمیوں کے لیے مالی معاونت فراہم کی جا سکتی ہے۔
یو بی ایل بینک کے عہدیدار راشد عظیم کہتے ہیں کہ پاکستان کا بینکنگ سیکٹر گرین فنانسنگ کے ذریعے ماحول دوست کاروباری سرگرمیوں کو فروغ دینے کی کوشش کر رہا ہے۔ اس میں قابلِ تجدید توانائی، توانائی کی بچت، ماحول دوست ٹیکنالوجی اور موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کم کرنے والے منصوبوں کے لیے مالی معاونت شامل ہے۔ ماہی گیری کے شعبے میں بھی ایسی ٹیکنالوجی اور آلات کے لیے فنانسنگ کی گنجائش موجود ہے جو توانائی کی بچت اور ماحول کے تحفظ میں مددگار ہوں۔
راشد عظیم کےمطابق ماہی گیروں کو ان کی کاروباری ضروریات کے مطابق ورکنگ کیپیٹل، کشتیوں اور متعلقہ آلات کی خریداری یا مرمت، جال اور دیگر ضروری سامان کے لیے فنانسنگ فراہم کی جا سکتی ہے۔ اس کے علاوہ ماحول دوست اور توانائی کے مؤثر آلات یا ٹیکنالوجی اختیار کرنے کے لیے بھی، جہاں موزوں ہو، گرین فنانسنگ کی سہولت حاصل کی جا سکتی ہے۔
تاہم ان کا کہنا ہے کہ فنانسنگ حاصل کرنے کے لیے بینک ماہی گیر کی شناخت، کاروبار، آمدنی، کیش فلو، قرض کی واپسی کی صلاحیت اور قرض کے مقصد کا جائزہ لیتے ہیں۔ فنانسنگ کی نوعیت اور رقم کے مطابق ضمانت یا دیگر دستاویزات بھی طلب کی جا سکتی ہیں۔ گرین فنانسنگ میں یہ بھی دیکھا جاتا ہے کہ مجوزہ منصوبہ متعلقہ ماحولیاتی اور گرین فنانسنگ کے معیار پر پورا اترتا ہے۔
طالب کچھی جیسے بزرگ ماہی گیروں کے لیے صاف اور نیلے سمندر کی یاد آج بھی بالکل واضح ہے، چاہے ان کی آنکھوں کے سامنے موجود پانی ہر گزرتے سال کے ساتھ زیادہ گہرا اور گدلا دکھائی دے۔
بندرگاہ کی طرف دیکھتے ہوئے طالب کے ذہن میں ایک سوال اب بھی موجود ہے کہ کیا آنے والی نسلیں بھی وہی شفاف، نیلا اور زندگی سے بھرپور سمندر دیکھ سکیں گی جسے طالب اپنے بچپن میں دیکھا کرتے تھے؟

مزید خبریں

مقبول ترین خبریں