کراچی کب لاہور جیسا بنے گا؟

فہرستِ مضامین

پاکستان کے میڈیا اور سوشل میڈیا پر اکثر یہ بحث چھڑی رہتی ہے کہ کراچی اور لاہور میں کون سا شہر زیادہ بہتر ہے اور یہی سوال بار بار سامنے آتا ہے: “کراچی کب لاہور جیسا بنے گا؟”۔ یہ موضوع سنجیدہ تجزیوں سے لے کر طنزیہ میمز تک ہر جگہ زیرِ بحث رہتا ہے۔

لیکن بدھ کے روز ایک غیر معمولی منظر دیکھنے میں آیا، جب مرتضیٰ وہاب اچانک لاہور میں نظر آئے، اور ان کے ساتھ بلال یاسین بھی موجود تھے۔ ابتدا میں یہ صورتحال حیران کن لگی، مگر جلد ہی واضح ہو گیا کہ یہ دورہ دراصل دونوں شہروں کے درمیان تعاون کی ایک نئی کوشش کا حصہ ہے۔

میئر کراچی اپنے وفد کے ہمراہ لاہور کے پانی اور سیوریج نظام کا جائزہ لینے آئے تھے، جہاں واسا لاہور نے ان کی میزبانی کی۔ چونکہ واسا پنجاب کی ہاؤسنگ وزارت کے تحت کام کرتا ہے، اس لیے بلال یاسین بھی اس موقع پر شریک تھے۔

یہ ملاقات اس لحاظ سے منفرد تھی کہ دو مختلف سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے نمائندے شہری مسائل کے حل کے لیے ایک پلیٹ فارم پر اکٹھے ہوئے۔ واسا ہیڈکوارٹر میں ہونے والی پریس کانفرنس کے دوران صحافیوں نے تیکھے سوالات بھی کیے، جن پر بلال یاسین نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایسے مواقع پر مثبت سوچ اپنانا ضروری ہے۔

اس دورے کی بنیاد 21 اپریل کو رکھی گئی، جب بلدیہ عظمیٰ کراچی نے لاہور واسا کو باضابطہ خط لکھا۔ حکام کے مطابق یہ درخواست ایک خوشگوار حیرت تھی، جس میں میئر کراچی نے لاہور کے نظام کا مشاہدہ کرنے کی خواہش ظاہر کی۔ جواباً واسا نے فوری دعوت دی اور 29 اپریل کو دورے کی تاریخ طے ہوئی۔

اپنے دورے کے دوران مرتضیٰ وہاب نے نہ صرف ہیڈکوارٹر میں بریفنگ لی بلکہ فیلڈ آپریشنز کا بھی معائنہ کیا، جہاں انہیں ڈرینیج سسٹم، ڈسپوزل اسٹیشنز اور مون سون تیاریوں کے حوالے سے آگاہ کیا گیا۔

پریس کانفرنس میں گفتگو کرتے ہوئے میئر کراچی نے کہا کہ شہروں کا موازنہ کرنا مناسب نہیں بلکہ ایک دوسرے سے سیکھنا زیادہ اہم ہے۔ ان کے مطابق کراچی میں بارش کے بعد پانی نکالنے کی صلاحیت بہتر ہو رہی ہے، تاہم شہر کی بڑی آبادی اور جغرافیائی مسائل اسے لاہور سے مختلف بناتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ دنیا بھر میں “سسٹر سٹی” کا تصور موجود ہے، اور پاکستان کے بڑے شہروں کے درمیان بھی اسی طرز پر تعاون بڑھایا جانا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ لاہور کی ترقی سے سیکھنے کے کئی مواقع ہیں اور مستقبل میں واسا کے ساتھ باضابطہ معاہدہ بھی ممکن ہے۔

دوسری جانب واسا کے جاری کردہ بیان میں کہا گیا کہ اس دورے کا مقصد دونوں شہروں کے درمیان تجربات کا تبادلہ اور شہری سہولیات کو بہتر بنانے کے لیے مشترکہ حکمت عملی تیار کرنا ہے۔

یوں یہ دورہ نہ صرف کراچی اور لاہور کے درمیان موازنہ کی بحث کو ایک مثبت رخ دیتا ہے بلکہ اس بات کا عندیہ بھی دیتا ہے کہ مسابقت کے بجائے تعاون ہی بڑے شہری مسائل کا حل بن سکتا ہے۔

مزید خبریں

مقبول ترین خبریں