امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران میں حکومت مخالف تحریک کو مضبوط بنانے کے لیے کرد فورسز پر بھروسا کیا گیا، لیکن انہوں نے امریکا کی توقعات پوری نہیں کیں۔
اوول آفس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ ایران میں عوام سڑکوں پر نکلنا چاہتے تھے، مگر ان کے پاس نہ ہتھیار تھے اور نہ ہی دفاع کا کوئی ذریعہ۔ ان کے بقول امریکا کو امید تھی کہ کرد گروہ ایرانی عوام تک اسلحہ پہنچائیں گے، لیکن ایسا نہ ہوسکا۔
ٹرمپ نے سخت لہجے میں کہا:
“ہمیں کردوں سے بڑی امید تھی، مگر انہوں نے ہمیں مایوس کیا۔”
انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ امریکی خفیہ ادارہ سینٹرل انٹیلی جنس ایجنسی (سی آئی اے) ایران میں عوامی بغاوت کو ہوا دینے کے مقصد سے کرد فورسز کو مسلح کرنے پر کام کر رہا تھا۔
ٹرمپ کے مطابق انہوں نے ابتدا ہی میں اس منصوبے کی مخالفت کی تھی کیونکہ انہیں یقین تھا کہ یہ کامیاب نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا:
“میں نے پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ یہ منصوبہ ناکام ہوگا، اور آخرکار ایسا ہی ہوا۔”
امریکی صدر نے یہ بھی انکشاف کیا کہ امریکا کی جانب سے اسلحہ اور گولہ بارود بھیجا گیا تھا، جو مبینہ طور پر ایرانی عوام تک پہنچنا تھا، لیکن وہ راستے ہی میں روک لیا گیا۔
ٹرمپ کے ان بیانات نے خطے میں ایک نئی سیاسی بحث چھیڑ دی ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب ایران اور امریکا کے تعلقات پہلے ہی شدید کشیدگی کا شکار ہیں۔