کیا امریکا اور چین مل کر دنیا چلائیں گے؟

فہرستِ مضامین

تحریر وترتیب: اِشفاق احمد

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بدھ کے روز دو روزہ سربراہی اجلاس کے لیے بیجنگ پہنچنے والے ہیں، جہاں وہ چینی صدر شی جن پنگ سے اہم ملاقات کریں گے۔
یہ ملاقات دونوں رہنماؤں کے درمیان اُس تجارتی جنگ بندی کے چھ ماہ بعد ہونے جا رہی ہے جس نے امریکا اور چین کے درمیان کشیدہ معاشی تعلقات میں وقتی نرمی پیدا کی تھی۔

یہ سربراہی اجلاس مارچ میں ہونا تھا، مگر ایران سے متعلق امریکا اور اسرائیل کی جنگ کے باعث مؤخر کر دیا گیا تھا۔ اب یہ ملاقات ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب ٹرمپ کو اندرونِ ملک شدید تنقید اور مشرقِ وسطیٰ کی نئی کشیدگی کے باعث ایک بڑی سفارتی کامیابی کی ضرورت ہے۔

دوسری جانب چین بھی دباؤ کا شکار ہے۔ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کی بندش اور امریکا کی ایرانی بندرگاہوں پر پابندیوں نے چینی معیشت کو نقصان پہنچایا ہے۔ چین کی بڑی مقدار میں تیل درآمدات مشرقِ وسطیٰ سے آتی ہیں، اور موجودہ بحران نے چینی بحری تجارت کو شدید متاثر کیا ہے۔

ہرمز، تائیوان اور تجارتی جنگ — اہم ایجنڈا

امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ٹرمپ چین پر زور دیں گے کہ وہ آبنائے ہرمز کھلوانے کے لیے کسی “بین الاقوامی آپریشن” میں شامل ہو۔
تاہم بیجنگ اب تک اس معاملے میں محتاط رویہ اپنائے ہوئے ہے۔

ادھر شی جن پنگ اس ملاقات میں کئی اہم مطالبات سامنے رکھ سکتے ہیں، جن میں:

تجارتی پابندیوں میں نرمی

نایاب معدنیات (Rare Earth Minerals) پر تعاون

اور خودمختار حیثیت رکھنے والے تائیوان پر چین کے دعوؤں کو امریکی سطح پر تسلیم کروانا شامل ہیں۔

“جی ٹو” کیا ہے؟

“جی ٹو” یا گروپ آف ٹو ایک ایسا تصور ہے جس کے مطابق دنیا کی دو بڑی طاقتیں — امریکا اور چین — عالمی سیاست، تجارت اور سکیورٹی کے بڑے فیصلوں میں مشترکہ کردار ادا کریں۔

یہ تصور پہلی بار 2005 میں معروف امریکی ماہرِ معاشیات سی فریڈ برگسٹن نے پیش کیا تھا۔
اس کا مقصد یہ تھا کہ دنیا کی دو بڑی معیشتیں مل کر عالمی منڈیوں کو مستحکم کریں اور عالمی مسائل حل کریں، نہ کہ دنیا پر غلبہ قائم کریں۔

بعد ازاں سابق امریکی صدر براک اوباما کے دور میں اس خیال کو خاص توجہ ملی، جب امریکا اور چین کے درمیان “Strategic and Economic Dialogue” شروع کیا گیا۔

کیا واقعی امریکا اور چین ایک نیا عالمی اتحاد بنا سکتے ہیں؟

ماہرین اس امکان کو اب بھی مشکوک سمجھتے ہیں۔

برطانیہ کے انسٹیٹیوٹ آف ڈیولپمنٹ اسٹڈیز کی ماہر جِنگ گو کے مطابق یہ ملاقات کسی نئے “جی ٹو” اتحاد کا آغاز نہیں بلکہ ایک “اسٹریٹیجک ریکی” ہے — یعنی دونوں طاقتیں ایک دوسرے کی حدیں اور نیتیں جانچ رہی ہیں۔

ان کے مطابق:

“یہ مفاہمت سے زیادہ ایک کنٹرولڈ مقابلہ ہے، جہاں دونوں فریق کشیدگی کو جنگ میں بدلنے سے بچانا چاہتے ہیں۔”

اسی طرح لندن کے SOAS چائنا انسٹیٹیوٹ کے ڈائریکٹر اسٹیو سانگ کہتے ہیں کہ ٹرمپ اور شی جن پنگ کسی محدود تجارتی معاہدے تک تو پہنچ سکتے ہیں، مگر حقیقی “جی ٹو” اتحاد کا امکان کم ہے۔

ان کے مطابق:

“ٹرمپ چاہتے ہیں کہ امریکا دنیا کی سب سے طاقتور ریاست رہے، جبکہ شی جن پنگ بھی چین کو عالمی برتری دلانا چاہتے ہیں۔ دونوں ایک ساتھ فاتح نہیں بن سکتے۔”

تعلقات میں بظاہر نرمی، مگر اعتماد کا فقدان

اکتوبر میں جنوبی کوریا میں ہونے والی ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے تجارتی پابندیوں میں نرمی پر اتفاق کیا تھا۔
ٹرمپ نے اُس ملاقات کو “12 میں سے 10 سے بھی زیادہ کامیاب” قرار دیا تھا اور اسے “جی ٹو میٹنگ” تک کہہ دیا تھا۔

شی جن پنگ نے بھی امریکا کے ساتھ “دوستی اور شراکت داری” کی بات کی، مگر پسِ پردہ مقابلہ اب بھی جاری ہے — خاص طور پر ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت (AI)، فوجی طاقت اور عالمی اثر و رسوخ کے میدان میں۔

دنیا کیوں پریشان ہے؟

ماہرین کے مطابق اگر امریکا اور چین واقعی “جی ٹو” طرز کا اتحاد بناتے ہیں تو دنیا کے دوسرے بڑے ممالک خود کو عالمی فیصلوں سے باہر محسوس کریں گے۔

یورپ، بھارت، جاپان، برازیل، جنوبی افریقہ اور آسیان ممالک نہیں چاہتے کہ عالمی نظام صرف واشنگٹن اور بیجنگ کے درمیان طے ہو۔

فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے بھی حالیہ مہینوں میں خبردار کیا تھا کہ یورپ کو اپنی معاشی اور صنعتی خودمختاری تیزی سے مضبوط کرنا ہوگی، کیونکہ سپر پاورز کی پالیسیوں نے یورپ کو دباؤ میں ڈال دیا ہے۔

ادھر بھارت اور برازیل جیسے ابھرتے ہوئے ممالک بھی امریکا اور چین کی بڑھتی قربت کو اپنے عالمی عزائم کے لیے چیلنج سمجھتے ہیں۔

کیا دنیا دو طاقتوں کے رحم و کرم پر چلی جائے گی؟

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ دنیا کے بیشتر ممالک ایک مستحکم امریکا-چین تعلقات تو چاہتے ہیں، مگر وہ ایسا عالمی نظام نہیں چاہتے جہاں صرف دو طاقتیں تجارت، ٹیکنالوجی، AI، موسمیاتی فنڈنگ اور عالمی پالیسیوں کے اصول طے کریں۔

“دنیا کے ممالک اختیارات، سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی اور آزاد فیصلوں کی گنجائش چاہتے ہیں — وہ خود کو بڑی طاقتوں کے کھیل کا میدان نہیں بنانا چاہتے۔”

مزید خبریں

مقبول ترین خبریں