امریکا اور ایران کے درمیان جاری سفارتی رابطوں میں اب اختلافات کی نوعیت زیادہ واضح ہوتی جا رہی ہے، جبکہ دونوں ممالک کے مؤقف میں موجود بڑا فرق مذاکرات کو پیچیدہ بنا رہا ہے۔
رپورٹس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی جانب سے پیش کی گئی جوابی تجویز کو ناقابلِ قبول قرار دیا ہے، جس کے بعد مذاکراتی عمل مزید حساس مرحلے میں داخل ہوگیا ہے۔
دوسری جانب ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ تہران نے امریکا کو ایک “مناسب اور فراخدلانہ” تجویز دی ہے جو مکمل طور پر ایران کے قومی مفادات کو سامنے رکھ کر تیار کی گئی۔ ایرانی حکام کے مطابق ان کی ترجیح کسی دوسرے ملک کے نہیں بلکہ اپنے قومی مفادات کا تحفظ ہے۔
ذرائع کے مطابق حالیہ مذاکرات کا بنیادی مقصد خطے میں جاری کشیدگی اور جنگی صورتحال کا خاتمہ ہے، خصوصاً لبنان کی صورتحال اور خطے کی سیکیورٹی سے متعلق معاملات پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔
سفارتی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگرچہ رابطے جاری ہیں، تاہم دونوں فریقوں کے مطالبات اور شرائط میں موجود واضح فرق کسی فوری معاہدے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بن چکا ہے۔