کیا روس ایران کے لیے معاشی سہارا بن سکتا ہے؟

فہرستِ مضامین


ماہرین کے مطابق موجودہ مشکل حالات میں روس ایران کے لیے ایک وقتی “سہارا” ثابت ہو سکتا ہے، لیکن نئی تجارتی راہداریوں کے قیام میں درپیش اخراجات اور لاجسٹک مسائل اس تعاون کو طویل مدت میں غیر مؤثر بنا سکتے ہیں۔

آبنائے ہرمز کی ممکنہ طویل بندش کے باعث ایران شدید معاشی دباؤ کا سامنا کر رہا ہے، جس کے بعد تہران کی توجہ خلیجی بحری راستوں سے ہٹ کر شمالی سمت، یعنی روس کے ساتھ متبادل تجارتی روابط کی جانب منتقل ہو رہی ہے۔ خلیجی راستوں میں رکاوٹ اور تیل کی برآمدات میں کمی کے باعث ایران ریلوے نیٹ ورک، بحیرہ کیسپین کی بندرگاہوں اور پابندیوں کے دوران قائم کیے گئے تجارتی نیٹ ورکس پر انحصار بڑھانے پر غور کر رہا ہے۔

سی سلسلے میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے حال ہی میں روس کے شہر سینٹ پیٹرزبرگ کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے صدر ولادیمیر پیوٹن سے ملاقات کی۔ اس موقع پر ایران نے روس کی “مضبوط اور غیر متزلزل حمایت” کو سراہا، جبکہ دونوں رہنماؤں کے درمیان جنگ، پابندیوں اور آبنائے ہرمز کے مستقبل پر تبادلہ خیال بھی کیا گیا۔

ایران-روس تجارت: اضافہ مگر محدود

ایران اور روس کے درمیان معاشی تعلقات 2018 میں امریکہ کے جوہری معاہدے سے انخلا اور پابندیوں کے نفاذ کے بعد مزید مضبوط ہوئے۔ 2022 میں یوکرین جنگ کے بعد دونوں ممالک مغربی مالیاتی نظام سے مزید دور ہو گئے، جس کے نتیجے میں انہوں نے متبادل ادائیگی نظام اور تجارتی راستے اختیار کیے۔

دوطرفہ تجارت میں زرعی اجناس (جیسے گندم، جو اور مکئی)، دھاتیں، مشینری اور صنعتی سامان شامل ہیں، جبکہ ایران نے روس کو کم قیمت ڈرون بھی فراہم کیے ہیں۔ گزشتہ سال اس تجارت کا حجم تقریباً 4.8 ارب ڈالر رہا، تاہم ماہرین کے مطابق یہ اب بھی چین اور خلیجی ممالک کے مقابلے میں محدود ہے۔

متبادل تجارتی راستے

ایران اور روس کے درمیان تجارت کا اہم ذریعہ انٹرنیشنل نارتھ ساؤتھ ٹرانسپورٹ کوریڈور (INSTC) ہے، جو بحری، ریل اور سڑک کے راستوں پر مشتمل نیٹ ورک ہے۔ اس کے ذریعے روسی بندرگاہوں سے سامان بحیرہ کیسپین کے راستے ایران کی بندرگاہوں، خصوصاً بندر انزلی، تک پہنچایا جاتا ہے۔

ماہرین کے مطابق یہ راستہ جزوی طور پر مددگار ثابت ہو سکتا ہے، لیکن اس کی صلاحیت اور رفتار آبنائے ہرمز جیسے بڑے بحری راستے کا مکمل متبادل نہیں بن سکتی۔

درپیش چیلنجز

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ زمینی راستوں کے ذریعے تجارت نہ صرف سست بلکہ مہنگی بھی ہے، جس سے اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ ہو سکتا ہے اور خراب ہونے والی اشیاء کے ضائع ہونے کا خدشہ بھی بڑھ جاتا ہے۔

مزید یہ کہ ایران کی تقریباً 90 فیصد تجارت سمندری راستوں کے ذریعے ہوتی ہے، جسے فوری طور پر زمینی یا فضائی راستوں سے تبدیل کرنا ممکن نہیں۔

روس کا مؤقف اور مفادات

اکثر ماہرین کا خیال ہے کہ روس خود معاشی دباؤ کا شکار ہے، اس لیے ایران کو مکمل معاشی سہارا فراہم کرنا اس کے لیے آسان نہیں۔ یوکرین جنگ اور اندرونی اقتصادی مسائل روس کی اپنی مشکلات کو ظاہر کرتے ہیں۔

اگرچہ ماسکو محدود سطح پر تعاون یا علامتی حمایت فراہم کر سکتا ہے، لیکن بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری یا مکمل معاشی مدد فی الحال مشکل دکھائی دیتی ہے۔

مختلف نقطہ نظر

کچھ ماہرین اس کے برعکس رائے رکھتے ہیں۔ ان کے مطابق ایران کی حمایت سے عالمی تیل کی قیمتیں بلند رہ سکتی ہیں، جو روسی معیشت کے لیے فائدہ مند ہے، جبکہ ایشیائی تجارت میں INSTC کی اہمیت بھی بڑھ سکتی ہے۔

ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ روس ایران کے لیے وقتی سہارا تو بن سکتا ہے، مگر طویل المدتی بنیادوں پر یہ شراکت داری مکمل حل فراہم نہیں کر سکتی۔ ایران کو پائیدار معاشی استحکام کے لیے وسیع اور مؤثر حکمت عملی اپنانا ہوگی۔

مزید خبریں

مقبول ترین خبریں